مقتل میں خلطِ مبحث

ان دنوں میڈیا  میں ،  خواہ سوشل ہو یا اینٹی سوشل  دو  چٹھیوں کا تذکرہ ہے ۔ ایک وہ جسے ایک قطری شہزادے نے وزیر اعظم  نواز شریف کے  بچوں کی املاک کو جائز وراثت ثابت کرنے کے ضمن میں  لکھا ، جسے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا گیا ۔ دوسرا خط سابق بعد ازاں نا اہل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ہے جو اُنہوں نے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کے لیے لکھا تھا ، جو اب متنازعہ بن گیا ہے ۔

خط کی حمایت میں جو دلیل دی جا رہی ہے ، یہ ہے کہ مذکورہ  خط  بلیک واٹر اور سی آئی اے کے اہل کاروں کو  ویزے جاری کرنے کے لیے نہیں لکھا گیا تھا ۔ لیکن لکھا گیا تھا ۔ اس خط کا متن ایسا ہے کہ اسے دونوں طرح سے پڑھا جا سکتا ہے  کہ یہ خط امریکیوں کو ویزے دینے کے لیے لکھا گیا تھا ، جن میں وہ امریکی بھی شامل ہوں گے جن کا تعلق سی آئی اے اور بلیک واٹر سے ہے ۔ جبکہ اس کی دوسری تاویل یہ ہے کہ یہ عام لوگوں کو ویزے جاری کرنے کے لیے لکھا گیا تھا ، جو سی آئی اے اور بلیک واٹر کے کارندوں کو ملک میں داخل ہو کر تخریبی کاروائی کرنے کا اجازت نامہ ہر گز نہیں تھا ۔ یہ لکھنے اور پڑھنے والوں کا مسئلہ ہے کہ وہ کس طرح عبارت کو پڑھتے ہیں اور  کالے اکھشروں کی بھینس سے کون سا مطلب دوہتے ہیں ۔ یہی لکھا تھا نا کہ :
 " روکو مت جانے دو"۔
یعنی کیا " روکو ، مت جانے دو " ۔
ار ے نہیں صاحب ۔ لکھا تھا : " روکو مت  ، جانے دو" ۔

تو اصل مسئلہ اوقاف و رموز یعنی  پنکچوایشن کا ہے کہ اور وہ بھی یوں  کہ خط میں بین السطور کیا کہا گیا ہے اور  کس عیارانہ خواندگی کی عینک سے  اُس کی  کون سی نو بہ نو تاویلیں گھڑی گئی ہیں ۔ اب اس خط پر طرح طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں کہ اُسامہ بن لادن کو کس نے پاکستان کا ویزہ دیا یا وہ امریکی جو اُسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ اغوا کرنے یا لادن لینڈ کو فتح کرنے آئے تھے ، گیلانی مکتوب کے خصوصی ویزے پر تھے یا نہیں ۔

ایک عجیب خلطِ مبحث ہے جس میں پوری قوم مبتلا ہے اور لفظوں کی جنگ لڑ رہی ہے اور وہ بھی اتنے بھونڈے طریقے سے جیسے ان لوگوں کی کوئی اپنی زبان ہی نہ ہو اور مانگے تانگے کے لفظوں سے گفتگو کا  گزارہ چل رہا ہو ۔ ہم نے مقامی زبانوں اور انگریزی کے ملغوبے  کو اس بے تُکے انداز میں اردو کے نام پر رائج کیا ہے کہ سننے والے کو نہ صرف  حیرت ہوتی ہے بلکہ ہنسی کا  فوارہ بھی بے اختیار چھوٹ  چھوٹ جاتا ہے ۔ پاکستانی میڈیا میں جگت بازی کی مقبولیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی کوئی سنجیدہ اور با وقار  قومی زبان ہے ہی نہیں ۔ وہی روٹی شوٹی کھاؤ اور مٹی پاؤ کا محاورہ چل رہا ہے ۔ کام چلایا جا رہا اور وہ بھی کچھ اس طرح کہ:
پینے کی بات کر نہ پلانے کی بات کر
بے ساختہ نگاہ ملانے کی بات کر
ملتا نہیں خُدا تو صنم سے ہی دل لگا
اے شیخ ! اپنا کام چلانے کی بات کر

کام چلانے میں تو شیخ کا یقیناً کوئی ثانی ہی نہیں ۔ اُنہیں ہر بر سرِ اقتدار جماعت کے ساتھ مل کر کام چلانا آتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستان کا کشمیر سے الحاق ہو نہ ہو کشمیر کمیٹی کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہتا ہے ۔ دوسری طرف ہماری عزیز از پاکستان ،  اسلامی جمعیتِ طلبہ ہے جو یونیورسٹیوں میں اسلامی اردو رائج کرنے کی کوشش میں زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلاتی ہے ۔ اس سارے منظر نامے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان میں رائج اسلام امن کا دین نہیں ہے جب کہ اصل اسلام تو امن ہی کا دین ہے۔ وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ اُس کے توسط سے مجھے ایک مولانا کا پیغام پڑھنے کا موقع ملا جنہوں نے بتایا کہ اسلام امن کا دین نہیں۔ قرآن میں کوئی ایک ایسی آیت نکال کر دکھاؤ جس میں کہا گیا ہو کہ اسلام امن کا دین ہے اور پھر اُنہوں نے خالد بن ولید   کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو ایک کافر کو کلمہ نہ پڑھنے پر قتل کر دیا تھا ۔

لیکن مولانا بہت پرانی بات کر رہے ہیں ، اور اب وہ زمانہ نہیں رہا  ۔ یہ ایک اور طرح کا اسلامی زمانہ ہے  جس  میں  ایک مسلمان دوسرے کو ایک موبائل فون کے لیے قتل کر دیتا ہے ، درگاہ میں دھمال ڈالنے پر قتل کر دیتا ہے ، بچوں کو سکول جانے پر قتل کر دیتا ہے اور عورتوں کو گول روٹی نہ پکا سکنے پر مار دیتا ہے ۔ وہ کس لیے ؟ بس یونہی ۔ گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہونے اور ٹی وی پر جُگتیں سن کر باسی اور بھونڈی ہنسی ہنسنے  سے تو بہتر ہے کہ ایک آدھ  قتل ہی کر دیا جائے ۔

لوگ قتل کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ غیر ضروری آبادی کی وجہ سے ملکِ خُدا تنگ لگنے لگا ہے ۔ چلو کسی بہانے دو چار خس کم ہوں تو شاید یہ جہان پاک ہو سکے ۔ آؤ ،  ہم سب مل کر اس کارِ خیر میں حسبِ توفیق حصہ ڈالیں! ہر چند کہ کہنے والے تنقید کے نشتر چلا چلا کر کہتے رہیں کہ:
ہو گیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو
مُضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز