الوداع

  • اتوار 15 / دسمبر / 2013
  • 6586

دس روز کی مذہبی ، رسمی، عوامی اور سفارتی تقریبات کے بعد دنیا کے ایک عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کو آج جنوبی افریقہ میں ان کے گاﺅں کونو میں دفن کر دیا گیا۔ پوری دنیا نے ان دس دنوں میں آنجہانی رہنما کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ منڈیلا ہمارے عہد میں امن ، مفاہمت اور قوت برداشت کی علامت کی حیثیت رکھتے تھے۔

جنوبی افریقہ کے لوگوں نے پورے احترام ، عقیدت ، محبت اور جوش و جذبے کے ساتھ ایک ایسے رہنما کو الوداع کیا ہے جس نے ملک کی سیاہ فام اقلیت کو ایک طویل نسل پرست حکومت کے پنجے سے نجات دلائی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپارتھائڈ کے خلاف جہدوجہد میں منڈیلا تنہا نہیں تھے۔ اس جنگ میں متعدد نوجوانوں نے جان کی بازی ہاری ، ہزاروں لوگوں نے اذیتیں برداشت کیں اور سینکڑوں رہنماﺅں نے اس تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے اپنا رول ادا کیا۔ لیکن منڈیلا اس لحاظ سے ممتاز ہوئے کہ انہوں نے سفید فام اقلیت سے پنجہ آزما ہونے اور اس کے استبداد سے نجات پانے کی جدوجہد کرنے کے باوجود یہ اعلان کیا کہ “میں جس قدر سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے لئے سرگرم ہوں اور چاہتا ہوں کہ انہیں مساوی موقع ملنا چاہئے ۔ میں اسی قدر سفید فام آبادی کے حقوق کے لئے بھی چوکنا ہوں۔ میں ان کے مساوی حقوق کے لئے بھی یکساں سرگرم رہوں گا۔“

یہی وجہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں جب گزشتہ صدی کی بدترین نسل پرست حکومت کا خاتمہ ہوا تو سفید فام اقلیت سے سیاہ فام اکثریت کو انتقال اقتدار نہایت پرامن رہا۔ اس مرحلے پر نسلی فسادات اور انتشار دیکھنے میں نہیں آیا۔ 1990ء میں جیل سے باہر نکلنے اور 1994ء میں صدر بننے تک نیلسن منڈیلا نے مسلسل اپنے عوام کو یہ تلقین کی کہ انتقام اور نفرت مسائل کا حل نہیں ہے۔ ہمیں ماضی میں زندہ نہیں رہنا ہے۔ ہمارے لئے ہمارا حال اور مستقبل زیادہ ضروری ہیں۔ اس لئے ہمیں نفرت سے نجات حاصل کرنا ہو گی اور مفاہمت کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔

27 برس تک جیل کی بدترین صعوبتیں برداشت کرنے والے ایک رہنما کی طرف سے اس قسم کا مفاہمانہ پیغام کوئی معمولی اقدام نہیں تھا۔ اس کے لئے گہرے انسانی شعور ، حوصلے اور جرات کی ضرورت تھی۔ وہ یہ پیغام ایک ایسی قوم کو دے رہے تھے جو برس ہا برس تک استحصال ، ظلم ، تشدد اور جبر کا شکار رہی تھی۔ ہر سیاہ فام گھر میں ظلم کی ایک داستان تھی۔ ہر شخص کا دل زخمی تھا اور ہر دوسرا شخص جسمانی تشدد کا شکار ہو چکا تھا۔ مالی ، سماجی اور سیاسی محرومیاں ان مظالم کے علاوہ تھیں۔

اس کے باوجود نیلسن منڈیلا کی زیرک نگاہوں نے یہ پرکھ لیا تھا کہ اگر نفرت اور انتقام کو لگام نہ دی گئی تو ہو سکتا ہے کہ سفید فام لوگ مارے جائیں، ان کی املاک اور کاروبار تباہ کر دئیے جائیں اور ان کی اکثریت ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔ لیکن اس انتقام کے نتیجے میں سیاہ فام اکثریت  کی محرومیوں کا ازالہ نہیں ہو سکے گا۔ اس کے لئے سفید فام اقلیت کی مدد اور تعاون سے ملک کے وسائل کو بہتر بنانے اور سب کو اس کا فائدہ پہنچانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لئے نفرت اور انتقام کے جذبے کو کنٹرول کرنا اور سب کے لئے مساوی مواقع کی بات کرنا بے حد اہم تھا۔

منڈیلا نے اس کام کا آغاز خود اپنی زندگی سے کیا۔ انہوں نے ہر اس شخص کو معاف کر دیا جو حراست اور قید کے طویل دور میں ان پر ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوا تھا۔ انہوں نے خود کو تاحیات قید بامشقت دینے والے جج سے کہا کہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے موت کی سزا نہیں دی۔ انہوں نے اس جیلر کو جو قیدی کے طور پر ان کا نگران تھا .... بطور صدر اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں مدعو کیا۔ انہوں نے ایسے سب لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو زندگی کے کسی مرحلے پر ان کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہو چکے تھے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے مسائل تو حل نہیں ہوئے۔ سیاہ فام آبادی میں بیروزگاری اب بھی بے حد زیادہ ہے۔ انہیں آج بھی زندگی میں جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا جواب جاننے کے لئے یہ ادراک ضروری ہو گا کہ قوموں کی قسمت چند برس میں نہیں بدلتی۔ البتہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے ایک بڑے رہنما کو پلک جھپکتے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ منڈیلا نے طویل غلامی کی زندگی کے بعد سیاہ فام آبادی کو محبت اور معاف کرنے جیسی قوت سے متعارف کروایا۔ اس صلاحیت کے بغیر کوئی کثیر النسل معاشرہ ترقی کا گمان بھی نہیں کر سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب نیلسن منڈیلا کے جسد خاکی کو لحد میں اتارا گیا تو جنوبی افریقہ کی صرف سیاہ فام آبادی ہی اشکبار نہیں تھی۔ ملک کے سفید فام لوگ بھی دل گرفتہ تھے۔ آنجہانی لیڈر کو الوداع کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو چند برس پہلے تک خود کو اعلیٰ اور کالوں کو کم تر سمجھتے ہوئے انہیں رسوا کرتے تھے۔

5 دسمبر کو منڈیلا کی رحلت کے بعد دنیا بھر سے ایک ایسے لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جس نے ہمارے عہد کو وقار عطا کیا۔ امریکہ کے صدر باراک اوباما نے گزشتہ منگل کو جوہانسبرگ میں منڈیلا کی آخری رسومات کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی باقاعدہ سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ہم ایک ایسے شخص کو رخصت کر رہے ہیں جو ایک دیوقامت رہنما تھا۔ ہم اپنی زندگی میں کبھی ان کے قد کاٹھ کا لیڈر نہیں دیکھ پائیں گے لیکن ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ان کی زندگی ، اصولوں اور طرز عمل سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نظریات کی روشنی میں آگے بڑھ سکتے ہیں اور خود اپنی زندگی کو بامقصد بنا سکتے ہیں۔

اس تقریب میں دنیا کے ایک سو ملکوں کے سربراہان شریک ہوئے تھے۔ دور و نزدیک سے ان سے محبت کرنے والوں کا ایک عظیم اجتماع تھا جس نے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں اکٹھے ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ شدید بارش اور خراب موسم بھی منڈیلا کے مداحوں اور عقیدت مندوں کی اس روز جوہانسبرگ کے اس اسٹیڈیم میں آنے سے روکنے میں ناکام رہا تھا۔

یہ بات اپنی جگہ پر تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بنے گی کہ انتقال کے وقت نیلسن منڈیلا کے پاس کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں تھا۔ وہ گزشتہ دس برس سے گوشہ تنہائی میں تھے۔ گزشتہ تین برس کے دوران تو انہوں نے ہر قسم کی ملاقاتوں سے گریز کیا تھا۔ اس کے باوجود ان کے جنازے میں شرکت کے لئے دنیا بھر کے لیڈر اکٹھے ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے مکمل اور بھرپور سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کا اہتمام کیا۔ ان دس روز کے دوران جس شہر کی جس سڑک سے بھی ان کی میت کا جلوس گزرا ہزاروں کی تعداد میں لوگ انہیں آخری سلام پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔

ان کی میت پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ تین روز تک جنوبی افریقہ کے دارالحکومت پریٹوریا کی اسٹیٹ یونین بلڈنگ میں رکھی گئی تھی۔ ان کا آخری دیدار کرنے کے لئے لاکھوں لوگوں نے ان تین روز کے دوران کئی کئی گھنٹے سخت موسم میں انتظار کیا۔ ان میں کالے گورے ، چھوٹے بڑے ، غریب اور امیر سب ہی شامل تھے۔ وہ سب کے چہیتے تھے اور ہر شخص ان کی رحلت پر غمگین تھا اور ان کی کامیابیوں پر پرجوش تھا۔

نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کو آزادی دلانے کے علاوہ اسے انتقام کی آگ سے محفوظ رکھنے کے علاوہ یہ مثال بھی قائم کی کہ بڑا لیڈر اقتدار کے ذریعے دلوں پر راج نہیں کرتا۔ ایک طویل جدوجہد ، قید اور عالمی شہرت کے بعد وہ جنوبی افریقہ کے صدر بنے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے محض ایک مدت ہی ملک کی قیادت کی۔ اس کے بعد اقتدار دوسروں کے حوالے کر کے گوشہ نشین ہو گئے۔

اس وقت نفرت ، شدت پسندی ، جنگ جوئی ، دہشت گردی کے علاوہ استحصال اور جبر کی ستائی ہوئی دنیا میں نیلسن منڈیلا کے اصول اور زندگی رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ باہم احترام ، نفرت سے گریز ، اقتدار سے پرہیز اور انسانیت کے لئے کام کرنے کے جو معیار نیلسن منڈیلا نے قائم کئے ہیں ، وہ دنیا کے اکثر عوام اور متعدد رہنماﺅں کے لئے سبق آموز ہیں۔