قائدِ اعظم سے قائد اعظم لاثانی تک
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 01 / جولائی / 2017
- 7410
آج جب یہ سطور لکھی جا رہی تو یہ 2016 کے جون مہینے کی آخری تاریخ ہے ۔ 30 جون ۔ علم الاعداد کی کرشمہ سازیوں اور 30 کے عدد کے اثرات سے قطع نظر آج عام پاکستانی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ذہنی ، فکری ، قلبی ، نظریاتی اور سماجی طور پر دہشت گردی کا شکا ر ہے ۔ اور پچھلی کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے لعنتی اور منحوس عفریت کے خلاف لڑتے لڑتے خود بھی خوفناک دہشت گرد میں تبدیل ہوتا چلا گیا ہے اور خُدا ہی جانے اس سماجی دہشت گردی کا نقطہ ء عروج کیا ہوگا ۔ ذرا ہمارا روز مرہ ملاحظہ ہو :
اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ، کرکٹ میں اپنے حریف کو دھول چٹانا ، کالی آندھی بمقابلہ شاہین ، سونامی اور شیر ، سارے وحشیانہ اور سوقیانہ محاوروں کی برسات ، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا ، ایک دوسرے کے لتے لینا ، ایک دوسرے کو الزامات کی برچھیوں سے چھلنی کرنا ، نظریاتی مُخالفین کی کردار کُشی ، دانشوروں کی نجی گفتگو کا بازاری انداز ، سر راہ پرس اور موبائل چھین لینا ، کم سن بچیوں کو آبروریزی کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کردینا ، کاروکاری ، اپنی اولادوں کو اپنے ہاتھوں موت کی نیند سلانا ، بچے جن کر نو عمری میں اُن سے ملازمت کروانا اور پھر خانگی تشدد سے اُن کی ہلاکت پر خون کے آنسو رونا۔
گھر میں سوئی خواتین کے گھر میں ڈاکہ ڈال کر اُنہیں موت کے گھاٹ اُتار دینا ، دن دیہاڑے چوک میں کھڑے پولیس اہل کار کو گاڑی کے پہیوں سے کچل دینا اور پھر میڈیا پر غُرانا ، جوڈیشل اکیڈمی کے باہر کھڑے ہو کر مجمع لگانا اور ناقابلِ استعمال زبان استعمال کرنا ، سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبریں اور نازیبا تصویریں شائع کرنا اور ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے میں اخلاقیات کی ساری حدیں عبور کر جانا ۔ یہ ہے آج کے قائدِ اعظم کے پاکستان کی ایک موہوم سی جھلک ، نمونہ مُشتے از خروارے ۔ اور یہی وہ دہشت گردی کا نیٹ ورک ہے جس کے سارے لنک ایک دوسرے سے جُڑے ہیں ۔ اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قوم دہشت گردی کی مکڑی کے جالے میں بے بس مکھی کی طرح معلق آزادی کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے ۔
کچھ لوگ موجودہ وزیر اعظم کو قائد اعظم ثانی بھی کہتے ہیں ۔ یقیناً ہوں گے کیونکہ اُن کے اثاثے جاتی عمرا سے لندن ، اور براستہ قطر امریکہ تک پھیلے ہیں ۔ قائد اعظم کے پاس تو یہ سب کچھ نہ تھا۔ ان کو صرف قائد اعظم ثانی ہی نہیں بلکہ قائد اعظم لاثانی ہونا چاہیے ۔
یہ جمہوری حکمران بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہیں۔ ان کشتیوں میں سے ایک تو پانامہ کے پایاب میں گڑی کشتی ہے اور دوسری جمہوریت کی ہچکولے کھاتی کشتی ۔ لیکن چونکہ پاکستان میں جمہوریت ایک کالے کاروبار کی طرح چلائی جاتی ہے اس لیے اس کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی ممکن نہیں کیونکہ زرداری الیون اور میاں الیون کے درمیان میچ کی فکسنگ نہ ہوتے ہوتے، ہو جاتی رہی ہے ۔
سیاست کی یہ عیاری ہے ہر قانون سے بالا
نظامِ عدل ایسا ہے کہ کچھ اچھا نہیں ہوتا
محولہ بالا سماجی نقشہ پیش کرنے کے بعد اور احمد پور شرقیہ کی تیل کی واردات سے صرفِ ںظر کرتے ہوئے کوئٹہ اور پارا چنار کی بات کرنا میرے قلم کے بس میں نہیں کیونکہ یہ وہ اونچی باتیں جن کو جی ایچ کیو کے سیانوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ اس موضوع پر لفافہ صحافی جو بھی کہیں وہ اُن کا حق ہے کیونکہ اُنہیں نمک حالی کی رسید بھی تو دینی ہوتی ہے ۔ ان لفافوں نے پلاٹ ، مکانات ، لائسنس ، پرمٹ اور فارم ہاؤس تک بنا لیے ، ضمیر کے عوض اونچے عہدے خرید لیے اور اگر نہیں بنا سکے تو ایک غریب قوم کی بگڑی نہیں بنا سکے ۔
لیکن میں کیوں پاکستان کے حالات پر ٹسوے بہاتا ہوں ۔ مجھے مگر مچھ کے یہ آنسو کہاں سے میسر آئے ۔ میں کسی قاضی کی طرح کیوں دُبلا ہوا جاتا ہوں۔ وہ مجھ سے اسی طرح پوچھتے ہیں ۔ ٹھیک ہی تو پوچھتے ہیں۔ میں پاکستان کا کیا لگتا ہوں ۔ مجھے تو پاکستان سے بچھڑے سینتیس برس ہو گئے ۔ مجھے تو حلقہ ء اربابِ ذوق لاہور نے ، جس کا میں رکن اور جائنٹ سیکریٹری رہا غدارِ وطن قرار دے کر ، رُکنیت سے ہی محروم کردیا تھا :
ہم ایک خار تھے جو چمن سے نکل گئے
ننگِ وطن تھے حدِ وطن سے نکل گئے
( ساحر لدھیانوی)
لیکن بڑے بڑے لحیم شحیم ، گنجے ، وگ بردار اور لائسنس یافتہ محبِ وطن ادیب ، نقاد محقق، دانشور تو وہاں موجود ہیں۔ وہ اپنے پیارے پاکستان کو ، جس کی دولت پر وہ پل رہے ہیں ، سنبھال لیتے اور اس دہشت گردی کی خزاں کو اپنی غزلوں ، نظموں ، نغموں ، گیتوں اور قومی مشاعروں کے جادو سے جنت آثار بہار میں بدل دیتے مگر وہ بھی پانامہ کی کشتی سے ہی لٹکے رہے اور سرکاری تیل کو اپنے بریف کیسوں میں ڈالتے رہے ۔
یہ ساری پانامہ کتھا سنانے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ در حقیقت ہم تشدد پسند لوگ ہیں ۔ صرف سطحی یا انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ داخلی اور خارجی طور پر بھی مائل بہ تشدد ہیں ۔ ہم لفظ زدہ نظریاتی لوگ ہیں جو عدم تشدد اور امن کے صحیفوں کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر ہمارے اعمال ہمارے نظریات کی نفی کرتے ہیں ۔ اور یہ اس لیے ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما بلا تخصیصِ جماعت و تحریک قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سکے ہیں ۔