شریف پہلوانوں کا چومُکھی دنگل
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 09 / جولائی / 2017
- 7174
اور اب نُون لیگ کے وزیروں ، مشیروں اور لکیر کے پہلوان فقیروں کے شہر شہر جلسوں اور عوامی عدالت میں جانے کے پے در پے اعلانات سے ایسا لگتا ہے جیسے اگلے عام انتخابات کی تیاری شروع ہو چکی ہے ۔ پاکستان میں عام انتخابات کی لفظی ترکیب ہمیشہ ہی سوالیہ نشان کی زد میں رہی ہے بلکہ اس ترکیب کی معنوی اوقات کبھی بھی ایک مضحکے یا جُگت سے زیادہ کی نہیں رہی۔ کیونکہ عام انتخابات کے نام پر اور انتخابی شو کی آڑمیں پاکستان میں ہمیشہ ہی خواص کے انتخابات ہوئے ہیں جن میں جاگیرداروں ، جرنیلوں ، سیاسی شریفوں اور میڈیا کے مداریوں کو ملک پر انتظامی شکنجہ کسنے کے مواقع مہیا کیے جاتے رہے ہیں ۔
شاید ایک آدھ بار ہی ایسا ہوا ہو کہ عوام نے عوام کو ووٹ دیئے ہوں ورنہ سیاسی تاریخ چیخ چیخ کر کہتی رہی ہے کہ یا تو دھاندلی کے جھرلو نے کام دکھایا ہے یا پورے کا پورا انتخاب ریڈی میڈ نتائج کے ساتھ خریدا گیا ہے جس میں عوال کو خام مال کے طور پر استعمال کیا گیا اور انتخابی لاٹری کی ساری پرچیاں حکمرانوں کے نام نکلیں ۔ آج لاہور میں خواجہ سعد رفیق اینڈ پارٹی نے ٹی وی سکرین پر انتخابی قوالی گائی اور تمہیدی دوہے کے طور پر عرفی کا مشہورِ زمانہ شعر پڑھا :
عرفی ، تو میندیش ز غوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نُکند رزقِ گدا را
سبحان اللہ ، کیا بر محل شعر ہے مگر سُخن گسترانہ بات یہ آن پڑی ہے کہ نون لیگ کے ماڈرن پنجابی عرفی کے رقیبوں کی فہرست بڑی لمبی چوڑی ہے جس میں سرِ فہرست عمران خان لکھا ہے ۔ اُس کے بعد کچھ دوسرے نام ہیں جن میں پی پی کے کامل جیالوں ، جماعتِ اسلامی کے فدائین اور ایم کیو ایم کے بھائی جانوں سے لے کر جمشید دشتی تک شامل ہیں ۔ میں نہیں جانتا کہ دستی اور دشتی میں کیا فرق ہے لیکن سرائیکیوں کے بعض اشتہارات میں دستی پر تین نقطے پائے گئے ہیں ، جنہیں میں نے خود گن کر یاد رکھا ہے ۔ اِن رقیبانِ روسیہ کے طعن و تشنیع کو خواجہ پیا نے آوازِ سگاں کہا ہے ۔ اسے کہتے ہیں علمی تبحر اور فکری نفاست کہ سیاسی مُخالفین کو کُتا بھی کہہ لیا اور فارسی کی شیرینی بھی قائم رکھی ۔ واہ ۔ اب کے گالی فارسی میں دی گئی ہے اور ساتھ ہی نُون لیگ کے عرفی کو گدا بھی کہا ہے ۔ گدا جو گلی گلی بھیک مانگنے کے لیے صدا لگاتا ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گدا ، گدّا اور گدھا میں صرف مصوتے بھر کا فرق ہے وگرنہ اصل میں تینوں ایک ہیں ۔ کیونکہ ہر گدا گدھے کی طرح اپنی گداگری ، مفلسی ، بے دولتی اور رنجوری کا بوجھ اُٹھائے اُٹھائے پھرتا ہے اور لے جا کر رات کو گدّے کی مستطیل پر نحوست کی طرح اُتار کر پھینک دیتا ہے ۔
خواجہ پیا نے آج کے تقریری معرکے میں اپنے حریفوں کو خوب للکارا اور اُنہیں چیلنج دیا کہ مرد ہو تو انتخابی دنگل میں ہمارا سامنا کرو ۔ اس موقع پر اردو کا جو شعر اُنہوں نے پڑھا اُسے مجمعے نے بھی دوہرایا ۔ اس ساری تھیٹریت سے صاف واضح تھا کہ انتخابی تیاری شروع ہو چکی ہے اور نان لیگ معاف کیجیے گا نون لیگ ، عدلیہ سے مایوس ہو کر انصاف کے لیے عوام کی عدالت میں جا رہی ہے ۔ اس تقریر میں اشاروں کنایوں میں جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو بھی پیغام اسی انداز میں دیا جا رہا تھا ، جیسے پنجابی ساسیں بالعموم کیا کرتی ہیں کہ :
" کہنا دھی نوں تے سُنانا نونہہ نوں "
یہ تو لاہور کا دنگل تھا لیکن اُدھر سیالکوٹ میں خواجہ ء شرم و حیا اپنی قوالی گاتے ہوئے پائے گئے ۔ گویا لاہور سے سیالکوٹ تک کا سارا علاقہ خواجگانِ نون کی شریف نوازی کے وظیفوں سے گونج رہا تھا ۔ اس وقت نون لیگ کے مرحب و عنتر چار محاذوں پر موذی حریفوں سے لڑ رہے ہیں :
1 ۔ پانامہ لیکس کے محاذ پر
2 ۔ جے آئی ٹی کے قطری محاذ پر
3 ۔ عمران خان کے خلاف جماعتی محاذ پر
4 ۔ عوام کی عدالت کے محاذ پر
ان چاروں کے علاوہ ایک پانچواں محاذ بھی ہے ، جسے صرف اہلِ فکر و نظر ہی دیکھ سکتے ہیں ، جس میں خاکی پوشوں کے نام بھی آتے ہیں۔ چنانچہ ایسی آزمائش جیسی صورتِ حال میں سپریم کورٹ کو ٹھینگا دکھا کر اگلے الیکشن میں جیتنے اور وزارتِ عظمیٰ جاتی عمرا میں رکھنے کا تصور ہی ٹرینکولائزر ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ ۔ آخر میاں صاحبان کے پاس اتنی دولت تو ہے جس سے وہ اگلا انتخاب بھی خرید سکیں گے ۔ اور اس کے لیے سڑکوں کی تعمیر ، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کا افتتاح اور لیپ ٹاپ کی تقسیم سے لے کر پالتو میڈیا کے ذریعے ہتھیلی پر سرسوں جما کر یہ معرکہ پانچویں بار سر کرنے کے تمام امکانات شامل ہیں ۔ ایسی اندوہ ناک صورتِ حال میں ہم سمندر پاکستانی کس حال میں ہیں ، یہ بھی سُن لیجے:
شمعِ ماتم جلائے رکھتے ہیں
تھام کر غم کے پائے رکھتے ہیں
عشق اور عشق کی حقیقت پر
ہم حسینی بھی رائے رکھتے ہیں
کرکے روشن چراغ اشکوں کے
طاقِ مژگاں سجائے رکھتے ہیں
ہم مدینے سے تا بہ کرب و بلا
اپنی آنکھیں بچھائے رکھتے ہیں
شامِ غُربت ہے احتراماً ہم
دیپ گھر کے بجھائے رکھتے ہیں
ہم یزیدانِ عصر کی زد سے
اپنا ایماں بچائے رکھتے ہیں
ہم کو عبّاس کی قسم مسعود
حق کا پرچم اُٹھائے رکھتے ہیں