انارکی کے انار

انارکی کو شُدھ اردو میں کیا کہتے ہیں؟
اس تصور کا  ایک ہندی ترجمہ نراجیت کے نام سے موجود ہے لیکن لُغت میں انارکی کے انار جب چھوٹتے ہیں تو ان گنت رنگ بکھرتے ہیں ۔ انارکی انتشار ہے ، بحران ہے ، پریشاں فکری ہے ، نقصِ امن ہے ، بد انتظامی ہے  ، لا حکومتیت ہے ،  لا قانونیت ہے ، بلوہ ہے اور بغاوت ہے  ۔اور مسلمان جہاں جہاں بھی ہیں اس نراجیت کا شکار ہیں۔ دو روز پہلے بھارت میں اُتر پردیش کی ایک مسجد میں سے ایک محوِ  نماز مسلمان کو ہندوؤں نے پکڑ کر  باہر نکالا اورتشدد کا نشانہ بنایا لیکن  آج کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے ایک ٹرین روک کر ایک مسلمان خاندان پر حملہ کیا اور ایک معذور نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔

آپ اس واقعے کو کیا نام دیں گے۔ سیاسی دادا گیری ۔ نہیں تو پھر تعصب سے ہٹ کر ایک انسان کی طرح صورتِ حال کا جائزہ لیجیے اور جواب دیجیے۔
میں اسے قانونی نفسا نفسی قرار دیتا ہوں حالانکہ میرے قرار دینے سے لفظ و معنی کے پانامہ کو معمولی سی ٹھیس تک نہیں پہنچ سکے گی۔ کیونکہ انارکی ایک سیاسی عقیدہ ہے جس کے ماننے والے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے بر عکس اپنی اپنی من مرضی کے سماجی رویے اختیار کرتے ہیں ۔ مارکسزم کے متعارف ہونے سے پہلے انارکی یورپی طلباء اور دانشوروں میں بہت مقبول تھی ۔ تاریخ میں رقم ہے کہ کسی زمانے میں   وکٹوریائی عہد کا انگلستان ایک کچرا کُنڈی تھا  جو مفلسی اور دہشت گردی کے سبب منظم معاشرت کے بالکل برعکس  افرا تفری اور قانونی  نظم و ضبط کے  فقدان کا شکار تھا ۔

آج کم و بیش یہی صورتِ حال ہے جس سے پاکستان دوچار ہے ۔ اس انارکی کی جڑیں مذہبی نفسا نفسی میں ہیں اور جو بہتر فرقوں کے فکری تصادم  کا ماحصل ہے اور یہ فرقے ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں ۔ موجودہ پاکستانی معاشرے میں صوفیا کی درگاہوں ، شیعوں کی امام بارگاہوں ، ہزارہ شیعوں اور احمدیوں پر حملے اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ہم فرقہ پرستی کا شکار ہو کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں اور فرقوں کی تیز چھریوں سے مذہبی وحدت کی تکا بوٹی کردیتے ہیں ۔  فرقہ پرستی کے سرچشمے سے پھوٹی ہوئی لاقانونیت کی یہ بیماری پاکستانی معاشرے کے تاروپود میں کینسر کی طرح جا گزیں ہے ۔ اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں قانون ایک تکلف محض ہے  اور اس کا عملی احترام ہر سطح پر ہر طبقے میں مفقود ہے ۔

کتنی شرم آتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کا احترام جج بھی نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں  چودھری افتخار کے بیٹے ارسلان افتخار کے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں  اور نہ ہی عدلیہ کی اُس تاریخ کو دوہرانا مقصود ہے  جس میں عدلیہ نے جمہوریت کو قتل کرنے اور مارشل لاؤں کو جواز فراہم کرنے  میں نمایاں کردار ادا کیا تھا ۔ میں اس کے بجائے ججوں کے خانگی رویوں کے حوالے سے وہ واقعات یاد لاؤں گا  جن کا کفن ابھی میلا نہیں ہوا ۔ آپ سب کو یاد ہوگا ایک لڑکی تھی طیبہ  ۔ ایک کم عمر بچی جو ایک جج صاحب کے گھر میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے بنتے ایک کہانی بن گئی ۔ جسے ہم آپ ، سب نے سنا اور جس کا نوٹس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی لیا اور پھر وہ کہانی، کہانیوں کے مردہ خانے یا سرد خانے میں کسی عدالتی  فیصلے کی طرح محفوظ ہوگئی ۔

یہی کہانی گزشتہ ہفتے لاہور میں ، نون لیگ کے ایک اسمبلی ممبر کی بیٹی کے گھر سے نو عمر ملازم کی تشدد زدہ لاش بن کر برامد ہوئی  اور مقتول کی تشدد زدہ بہن چیختی اور دہائیاں دیتی دکھائی دی اور پھر یہ چیخیں پانامہ کے شور میں دب گئیں ۔ اور یادش بخیر مجید اچکزئی جس نے دن دیہاڑے جلتے سورج کے نیچے  چوک میں ڈیوٹی دیتے پولیس اہل کار پر اپنی گاڑی اس شانِ بے نیازی سے چڑھائی جیسے وہ باؤلہ کتّا  مار کر  کسی سرکاری فرض سے سبک دوش ہوئے ہوں ۔ موصوف کی گرفتاری بھی کسی ڈرامے سے کم نہیں تھی ، وہ ہتھکڑی کے بغیر پولیس کے جلو میں کسی ہیرو کی طرح چلتے اور میڈیا کو ڈانٹتے پھٹکارتے ، ایک  ائر کنڈیشنڈ حوالات میں اُترے اور استراحت فرماتے رہے ۔ کیا ایسے قانونی نظام پر  انگلی اٹھائی جا سکتی ہے جس میں ایک زندہ انسان کو مار کر  یہ تاثر دیا جائے کہ کیا ہوا ، میں خون بہا دے دوں گا ۔ قتل کرنا میری ہوبی ہے۔ لا حول ولاقوۃ ۔ کیا ایسا  ہی ہوتا ہے اسلامی جمہوریتوں میں ؟

ایسی وارداتیں ، کہانیاں اور بد نصیبیاں  پاکستان میں گلی گلی دوہرائی جا رہی ہیں  لیکن حکومت پانامہ کے ہاتھی کی دُم سے لٹکی جوڈیشل اکیڈمی اور سپریم کورٹ کے باہر  اپنے ترجمانوں کے ذریعے گالی گلوچ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔  سیاستدان اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں اور ان بھانت بھانت کی بولیوں سے ایسا طوفانِ بد تمیزی مچا ہے کہ خُدا کی پناہ ۔  کیا مسلمان ایلیٹ ایسی زبان بولتی ہے یا یہ کرائے کے بلوائی ہیں جو اس لسانی تو تو میں میں کے لیے بطور خاص تیار کیے گئے ہیں ۔ انسانیت انگشت بدنداں ہے اور نظریہ ء پاکستان پر سکوتِ مرگ طاری ہے کہ کیا یہی ہے میری عملی تعبیر ۔

لیکن کوئی مانے یا نہ مانے یہی ہے ہماری ستر سالہ قومی کارکردگی ہے  جس میں ہم  ایک ایسی انارکی متعارف کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کا ایک صفحہ لاقانونیت ہے اور دوسرا کرپشن اور پوری حکومتی مشینری اور  اُس کے پالتو خوشامدی پرندے ان دونوں صفحات میں اپنا گھونسلہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پانامہ لیکس کا دفاع کرنے والوں نے  الزامات کا جواب الزامات سے دے کر جو  ما ورائے عدالت دفاعی پالیسی اختیار کر رکھی ہیں ، وہ پورے معاشرے کو لے ڈوبے گی ۔ میرے مونہہ میں خاک ۔ لیکن اب  اللہ  ہی پاکستان کی حفاظت کرے کیوںکہ بندوں نے تو اس کو ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ۔
وما علینا البلاغ