غُلامی کا نوحہ
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 23 / جولائی / 2017
- 8097
پانامہ ، پانامہ ، پانامہ ۔ سُنتے سُنتے کان پک گئے اور کانوں سے سائیں سائیں کی جگہ پائیں پائیں کی آواز آنے لگی ہے اب تو ۔ یار اب معاف کردو۔ کب تک اس چیونٹی کو ہاتھی بنانے میں اپنی زندگی کو خوشامد کے تیل میں تلتے رہو گے ۔ جتنی تعریفیں درباریوں نے اپنے ممدوح آقا کی کر لیں اُن کو جمع کریں تو فردوسی کے شاہ نامے کی پچاس جلدیں تیار ہو جائیں گی ۔
آخر یہ سب کیا ہے؟ غلاموں کی شاہ پرستی ۔ غلام تو غلام بلکہ اُن غُلاموں کے یاروں کی گٹھلیوں کے بھی دام یعنی ؟ یعنی وہ بھی جو شاہوں کے قصیدے لکھنے سے بظاہر انکار کرتے ہیں اندر سے اُن کی کُتیا بھی چوروں کے ساتھ نہ صرف ملی بھگت میں شریک لگتی ہے بلکہ ہے۔
غُلامی ایک عفریت ہے ، جس کا جادو اعلانِ آزادی یا قراردادِ حُریت کے منتر سے نہیں ٹوٹتا ۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے جہالت ، مُفلسی ، نا انصافی ، ظلم ، دروغ اور بد دیانتی کی زنجیروں کو کاٹ کر رہائی پانی ہوتی ہے ورنہ لولی لنگڑی آزادی اُلٹا قوم کو کھا جاتی ہے یا مفلوج کر دیتی ہے ۔
غُلامی ایک تریمورتی ہے ۔ اس کا ایک مُکھ جسمانی غلامی ہے کہ آدمی کو خواہ مرد ہو ، عورت ہو یا تیسری جنس ۔۔۔ زر کے عوض خرید لیا جائے ۔ غُلامی کی یہ صورت مصر کے بازار سے لے کر لاہور کی چُونا منڈی تک یکساں تواتر کے ساتھ موجود رہی ہے بلکہ اس جدید عہد میں تختِ لاہور سے اسلام آباد کے ڈی چوک تک کم سن غلاموں کے ساتھ جسمانی تشدد کی جو مثالیں سامنے آئی ہیں ، وہ اتنی شرمناک ہیں کہ چیخیں مار کر کسی نا معلوم سمت بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے ۔
یہ غُلام دنیا کے ہر خطّے ، ہر ملک اور ہر کلچر میں پائے جاتے ہیں مگر الگ الگ صورتوں میں تاہم مشترک اقدار یہ ہیں کہ غلاموں کو برابر کے شہری حقوق حاصل نہیں ہیں بلکہ اُن کے حقوق سرمایہ دار ، جاگیردار اور نوکرشاہی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ حقیت یہ ہے کہ محروم طبقوں کو برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا اور اُنہیں بُری طرح دھتکارا جاتا ہے اور نچلے درجے کے انسان تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں چوہڑے ، مُصلی ، بھٹہ مزدور ، اور یومیہ اُجرت کے مزدور اس ذیل میں آتے ہیں جو اگر چہ کُلی طور پر نہیں خریدے جاتے مگر جزوی طور پر وہ بھٹہ مالکان ، وڈیروں ، جاگیرداروں اور خرکاروں کے غلام ہوتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ غُربا کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جن کے ان گنت بچّے غُربت میں جنم لیتے اور غُربت ہی میں مر جاتے ہیں ۔ اُن کی زندگی کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹُکڑے چنتے اور ردی کاغذ بیچ کر تمام ہو جاتی ہے ۔ وہ با صلاحیت ہوتے ہوئے بھی تعلیم کی سہولتوں سے محروم کر دیئے جاتے ہیں ۔
ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے روایتی معاشرے میں عورت کی جان کی قیمت مرد کے برابر نہیں اور غیرت یا کاروکاری کے نام پر اُس کا قتل پنچایت کے حُکم پر روا سمجھاجاتا ہے ۔ بالکل ایسی ہی جیسے باؤلے کُتّے کو لاٹھیوں سے ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔ غُلامی کی یہ وہ صورت ہے جس میں آج کا نا م نہاد انسان فرسودہ روایات ، لا یعنی رسومات اور نا منٖصفانہ پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔
غُلامی کی دوسری صورت نفسیاتی غلامی کی ہے جس میں مذہب ، عقیدے، سیاسی فلسفے اور نظریے کے نام پر لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا ہے جیسے ہٹلر نے جرمنوں کو بنا لیا تھا یا ماضی بعید میں امویوں نے مسلمانوں کو ۔ اگرچہ نام اللہ کا ، پیغمبروں کا اور برگزیدہ ہستیوں کا لیا جاتا رہا لیکن کام کعبے کے اُن برہمنوں کا چلتا رہا جو مذہب کے نام پر بڑی بڑی جاگیریں ، املاک اور جائدادیں بنا لیتے ہیں ۔
روایتی معاشرے اپنی نئی نسل کو سیاسی ، نظریاتی اور فرقہ واریت کے غلام بنانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بچوں کو سمجھ بوجھ ، تحقیق اور چھان بین کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ اُنہیں بچپن سے ہی مسلمان نہیں بلکہ وہابی ، اہلِ حدیث ، بریلوی ، سُنی ، شیعہ ، چکڑالوی ، احمدی اور دیو بندی بنانے کے لیے اُن کی ذہن سازی کی جاتی ہے تاکہ وہ فرقہ واریت کے غُلام بن کر رہیں ۔ اور یہ نفسیاتی غُلامی بہت عام ہے جس میں سیاستدان اپنے اقتدار کے بُتوں کے پجاری خریدتے ہیں اور اس بکاؤ مال میں دانشور، صحافی ، اینکر ، مُلا ، اساتذہ ، شاعر اور گلوکار ہوتے ہیں جو زرِ نقد، عہدے یا دیگر مراعات کے عوض اپنے سیاسی آقاؤں کی شان میں سٹھنیاں گاتے ہیں:
وے میرے ملک ریاضا
تیری بحریہ جیوے
غلامی کی تیسری صورت وہ ہے جس میں تیسری دنیا کے لیڈر بڑی طاقتوں کی غلامی کرتے ہیں اور سیاست کی بین الاقوامی بساط کے مہرے بن کر خود تو جیت جاتے ہیں مگر قوم کو پٹوا دیتے ہیں ۔ وہ اپنے اقتدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے وطن فروشی کی ایسی ایسی مثالیں قائم کرتے ہیں کہ عقل انگشت بدنداں رہ جائے ۔ مجھے اس وقت بھٹو کا قتل یاد ارہا ہے جس کے عقب میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس ایک شاندار منظر پیش کرتی ہے جس کے دو اور کردار شاہ فیصل اور معمر قذافی بھی صفحہ ء ہستی سے ایک سازش کے تحت ہی مٹا دیئے گئے تھے۔
تیسری دنیا کے بعض خبیث صفت لیڈر اپنے اقتدار کو طول دینے، اپنی جائدادوں ، املاک اور ذاتی بنک بیلنس میں روز افزوں اضافے کے لیے اپنے وطن کی ازادی کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ اور وہ اس لیے کہ اس اقتدار پرست طبقے کا کوئی اخلاقی اور روحانی مسلک تو ہوتا نہیں ، وہ صرف ایک ہی بات جانتا ہے کہ اس کے اقتدار کا سنگھاسن کبھی نہ ڈولے خواہ اس کے لیے کوئی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی ہتھکنڈہ ہی کیوں نہ آزمانا پڑے۔ وہ جو مال و دولت اور طاقت کا غلام ہوتا ہے ، اقتدار کو طول دینے کے لیے نہ صرف مجرموں کی پُشت پناہی کرتا ہے بلکہ وہ گلو بٹوں اور عزیر بلوچوں کی نسل کی پرورش بھی کرتا ہے ۔ اُس کا طرزِ حکومت مجرمانہ ہوتا ہے جس میں مجرموں کی پرورش ہوتی ہے اور معاشرہ جرم کی جمہوریت میں تبدیل ہو جاتا ہے:
مجرموں کی جمہوریت
مجرموں کے ذریعے جمہوریت
اور
مجرموں کے لیے جمہوریت