وزارتِ عظمیٰ کی قبل ازوقت وفات پر پُرسا
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 29 / جولائی / 2017
- 6610
28 جولائی 2017
آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے ۔ آ ج پھر ایک نام نہاد منتخب حکومت کو ، جس کے پاس بھاری مینڈیٹ کا دعویٰ تھا ، اقتدار سے معزول کر دیا گیا ۔ اِس بار نہ تو فوج نے مارشل لا ٗ کا بگل بجایا اور نہ ہی کوئی بیرونی سازش ہوئی بلکہ اس کے بر عکس مقدر نے ستم ڈھایا ، آسمان گرا اور پانامہ کے پنگے کا دستاویزی پلندہ دھم سے کود کر وزیر اعظم ہاؤں میں آ گرا اور عمران خان نے اُسے کیچ کرلیا ۔ وہ دن اور آج کا دن ، پاکستان کی پوری سیاست پانامہ پانامہ ہوگئی ۔
ہر چند کہ پانامہ ، تحریکِ انصاف کی ایجاد نہیں تھی مگر اُس کا الزام عمران خان کے سر آیا اور پھر رنگ برنگے الزامات کے وہ ، وہ لُچ تلے گئے کہ خُدا کی پناہ ۔ مجھے ذاتی طور پر نواز شریف کی سیاست سے اتفاق ہے نہ اختلاف ، اِس لیے کہ وہ سیاست کرتے ہی نہیں ۔ اُن کا تو لوہے کا دھندا ہے جو دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے لیکن مجھے تو اپنے جیسے اُن پاکستانیوں کی فکر ہے جو پچھلے ستر برس سے پسماندگی کی چکی پیس رہے ہیں اور خطِ غُربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں مگر کوئی اُن کے لیے خوش حالی کا پیام بر بن کے نہیں آتا ۔
لیکن آج ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا ۔ ایک عدالتی بم گرا اور پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ قبل از وقت وفات پا گئی ۔ اِنّا للہ و انا الیہ راجعون ۔
مرحومہ ایک عرصے سے پانامہ کے عارضے میں مُبتلا تھی ۔ ہر چند کہ بڑے مہنگے قانونی مسیحاؤں نے اُس کو پیکِ عدل سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکی اور اپنا مینڈیٹ ، مینڈیٹ آفریں کے سپرد کرکے جاتی عمرا بُرد ہو گئی ۔ اب کاتبِ تقدیر کے فتوے کے آگے دم مارنے کی مجال کسے لیکن فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے مرحومہ کے لواحقین اور عزیز و اقارب اس موت کو قتلِ عمد قرار دے رہے ہیں ، جو عمران خان کی سازش سے ہوا اور جس کے نتجے میں غریب عوام کے مینڈیٹ کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔
ان غریب عوام میں سرِ فہرست وہ ڈھائی کروڑ بچے ہیں جو تعلیمی سہولتوں سے محروم میں ، جن کے بارے میں سوچ سوچ کر مینڈیٹ گنجا ہو گیا ہے ۔ دوسرے نمبر پر دہشت گردوں کی فوجِ ظفر موج ہے جو اللہ کے نام پر خود کُش دھماکے کرنے کے علاوہ بھتہ خوری اور سینہ زوری کے ہر شعبے میں اپنے کمالات دکھانے کی ماہر ہے ۔
ملک بے روز گار نوجوانوں کا عزا خانہ ہے ، گھر کی چھت سے محروم خاندانوں کے اعداد و شمار اپنی جگہ مگر کرائے کے اِن گھروں میں رہنے والے مجبور ماں باپ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی اذیت میں چوبیس گھنٹے مُبتلا رہتے ہیں ۔ مگر چھوڑیئے ، یہ تو بڑی فضول باتیں ہیں ، اصل معاملہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے مل کر ایک نیک پاکباز محبِ وطن ، صادق اور امین وزیر اعظم کو جو اب خود کو نظریاتی بھی کہہ رہے ہیں ، مدتِ اقتدار پوری کرنے سے پہلے ہی گھر بھیج دیا ۔ بہت ہی بُرا ہوا ۔ اور اس مرگِ ناگہاں پر مرحومہ وزارتِ عظمیٰ کے لواحقین سوگ کے صوفے بچھائے پانچ ججوں کی وگوں میں سے جوئیں اور جے آئی ٹی کے اراکین کی کرسیوں میں سے ذاتیات کے کیڑے نکال رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی بنی گالا کی طرف مونہہ کرکے تھوکتے بھی جاتے ہیں اور شیخ رشید کو صلوٰتیں بھی سناتے جاتے ہیں ۔ یا اللہ ، یہ کیا درد بھرا منظر ہے ، جس میں کل ایک وزیر کی آنکھوں میں ریل گاڑی کے انجن کے برابر موٹے تازے آنسو بھی تیرتے نظر آئے ۔
اور چشمِ میڈیا نے دیکھا کہ وکیلوں نے فیض کی نظمیں پڑھ پڑھ کر اپنے سیاسی مخالفین کے لتے لیے اور اپنی حُب الوطنی اور عوام کی خدمت کے ترانے گائے ۔ ہائے ، ہائے ، ہائے ، بے چارے وزیر جو سپریم کورٹ کے حکم سے بے تدبیر ہو چکے ہیں اور کھسیانی بلیوں کی طرح کھمبے نوچ رہے ہیں ۔ وزیرِ اعظم کے بارے میں پہلے یہ بڑک سُنی گئی کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے مگر پھر یہ بے پر کی اُڑائی گئی کہ اُنہوں نے عدالتِ عظمیٰ کا نا اہلی کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی استعفا دے دیا تھا ۔ گویا وہ استعفیٰ نا اہلی میں نہیں اہلیت میں دیا گیا تھا ۔ اس پر نون لیگ کی پوری قیادت مبارک باد کی مستحق ہے کیونکہ اہل اور نا اہل لیڈر کے استعفے میں کوسوں میل کا فرق ہوتا ہے ۔ اور کبھی کبھی یہ فاصلہ رائے ونڈ سے اسلام آباد تک براستہ دوبئی اور لندن ہوتا ہے جس کے راستے میں اربوں روپوں کی مالیت کے فلیٹ اور آف شور کمپنیاں پڑتی ہیں ۔
عوام پر بادشاہی کرنے کو خدمت قرار دینا اور اپنے ذاتی کاروبار کو سیاست کا درجہ دینا ، کسی جدید جمہوری ریاست کی مثالیں قرار نہیں پا سکتیں ۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چند گھرانوں کی چیرہ دستیوں کو جمہوریت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو نظریہ ٗ پاکستان کی صریح تردید ہے ۔ پاکستان جاگیر داروں ، سرمایہ داروں اور کرپٹ حکمرانوں کی جنت بننے کے لیے وجود میں نہیں آیا تھا مگر انہی نا مراد طبقوں نے اس ملک خداداد کو سیاست کے کوٹھے پر بٹھا کر اس کی کمائی کھائی اور غریب مسلمانو ں کو غربت ، پسماندگی اور اقتصادی نا آسودگی میں مبتلا کردیا ۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ مگر میں تو اس دکھ میں ہوں کہ آخر پاکستان کے عام آدمی کو اقتصادی ، معاشرتی ، اخلاقی اور روحانی آزادی کب ملے گی اور وہ کب سکھ کا سانس لے کر اپنی اور اپنے بچوں کی بنیادی ضرورتیں سہولت سے پوری کر سکیں گے ۔
آخر کب ؟
شاید کبھی نہیں ۔
اس لیے کہ معزول ہو جانے کے بعد بھی نا اہل سیاست دان ، سابق وزیر اعظم سرکاری پروٹوکول اور اپنے سرکاری محافظوں کی خدمات کو ناجائز طور پر استعمال کر رہے ہیں اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر اپنے مستقبل کے منصوبے بنا رہے ہیں ۔ کیا یہ بد عنوانی اور اختیار کے ناجائز استعمال کا تسلسل نہیں ہے۔
ایسے طرزِ فکر کے حامل لوگوں سے خیرکی توقع رکھنا ، خود فریبی ہے اور ہم پاکستانی من حیث القوم اس خود فریبی میں مبتلا ہیں اور جانے کب تک رہیں گے ۔