ردِ جمہوریت
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 26 / اگست / 2017
- 10338
اُردو کے اہلِ زبان اور نا اہلِ زُبان مل کر یہ محاورہ باندھتے ہیں کہ جتنے مونہہ اُتنی باتیں اور اگر اِس بات کو اینکروں ، ٹاکروں ، وکیلوں اور سیاسی دانشوروں کے ہونٹوں کی رفتار سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب کُل ملا کر کھربوں باتیں بنتی ہیں۔ لیکن محتاط انداز میں کہا جائے تو یہ اُتنی باتیں ہیں جتنا پاکستان پر امریکہ اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا قرضہ ہے اور اب پاکستان کی آبادی جو لگ بھگ بائیس کروڑ کے عددِ اعظم تک پہنچ گئی ہے اس قرض کا طوقِ غلامی گلے میں ڈالے سڑکوں پر ایک دوسرے کے موبائل چھینتی اور بلاس فیمی کی آڑ میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہے۔
پاکستان شریف ، سرکاری خزانے اور ملکی بنکوں سے بھاری قرضے لے کر معاف کروانے والے متمول طبقوں اور ریاست کے نام پر قرض لے کر اُسے عوام کی گردن میں طوقِ غلامی کی طرح ڈال کر رفو چکر ہو جانے والوں کی جنّت ہے ۔ اور اب جب اس جنّت میں امریکہ کے منحوس صدر ٹرمپ کی نحوست نے قدم رکھ دیئے ہیں اور پاکستان کو میلی آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں تو کیا۔ متمول حکمران طبقوں کی بلا سے۔ اُن کی املاک اور اثاثے بقول رؤف کلاسرا سارے بر اعظموں میں اپنے منی لانڈرانہ قدم جمائے ہوئے ہیں ۔ یہ متمول شریف طبقے تو قرض معاف کروا کے یا مال کو بیرونی ملکوں میں چھپا کر نو دو گیارہ ہو جائیں گے اور دہشت گردی ، مہنگائی اور غُربت کا جن لوگوں کا خون پی پی کر مذہب کی جے بولتا رہے گا ۔
جب امریکہ کا ٹرمپ طوطا ٹائیں ٹائیں کرتا ہے تو اُس کی نقل اُتارنے ، اُس کا مونہہ چِڑانے ، اُس کی ہنسی اُڑانے کی مضحکہ خیزی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ امریکی سیاست کی صدائے باز گشت ہے جو اُس جگہ بھی سنائی دیتی ہے جہاں کان بند ہوتے ہیں اور سماعتیں نا اہل قرار پاتی ہیں ۔
مجھے کبھی لگتا ہے کہ ٹرمپ تیسری دنیا کی ، امیر حکمرانوں کی " عوامی " جیلوں میں سڑتی غریب قوموں پر سزا بن کر اُترا ہے ، جس کی مسخروں جیسی دلیلوں نے جو لائل پور کی پنجابی جُگتوں کی سی طرح چٹخارے دار ہوتی ہیں ، وائٹ ہاؤس کو پنجابی تھیٹر ہاؤس میں تبدیل کر دیا ہے ۔ پنجابی تھیٹر بھی عوامی دانشوری کا ایک معیار ہے جس کی جگتوں میں بڑی کاٹ ہوتی ہے۔ ٹرمپ اُسی سیاسی تھیٹر کا منصب دار کلاکار ہے ۔
ٹرمپ کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا دانشمندی نہیں مگر اُس کی مکروہات کو نظر انداز کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کون جانے وہ راجستھانی بدؤں کے اونٹ کی نقل اُتارتے ہوئے کسی ایسی کروٹ بیٹھ جائے جس میں ہٹلر کی سفاکی اور چائے والے مودی کا پیچ و خم ہو ۔ مودی اور ٹرمپ اس عہد کے وہ سیاسی مغبچے ہیں جن کی وجہ سے دنیا کے امن کو گئی گُنا خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور شومی ء قسمت سے بیشتر غریب اور اسلامی کہلائے جانے والے ملکوں میں حکمرانی کا قلمدان نا اہلوں کے ہاتھ میں ہے اور جہاں ادارے ایک دوسرے سے مفادات کی جنگ میں مبتلا ہیں ۔ ایسی جمہوریتیں ، جمہوریتیں نہیں جمہوریت پر بد ترین استہزا ہیں۔
جہالت کی طرح نا اہلی بھی ایک سرمایہ دارانہ منصب ہے ، جسے قائم رکھنے کے لیے باقاعدہ سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے ۔ مشیر کرائے پر لینے پڑتے ہیں اور پبلی سٹی کرنی پڑتی ہے جس پر زرِ کثیر خرچ ہوتا ہے ۔ غریب عوام کی اکثریت والی ریاست میں سیاسی اور اقتصادی نا اہلی بے حد منافع بخش کاروبار ہے جس میں اراکینِ اسمبلی کی دوطرفہ خرید و فراخت ہوتی ہے ۔ اس کاروبار میں اسمبلی کی نشست یا تو امیدوار خریدتا ہے یا پارٹی لیڈر اپنی ضرورت کے مطابق نشستوں کا سودا کرتا ہے ۔ چونکہ حکومت بنانے کے لیے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اللہ کا نام لے کر اُسے خرید لیا جاتا ہے اور ذاتی ملاازموں کے طور پر اُن سے کام لیا جاتا ہے ۔ یہ کمرشل جمہوریت کا شرافت مآب حُسن ہے۔ کچھ اُمیدوار سینیٹ کی نشست خریدتے ہیں تاکہ شارٹ کٹ سے حکومت میں آ جائیں یا لائے جائیں اور کوئی ایسا قلمدانِ وزارت حاصل کر سکیں جو نشست کی خرید پر اُٹھنے والی سرمایہ کاری پر خاطر خواہ منافع دے سکے ۔
اس سارے جمہوری کاروبار میں خسارہ عوام کا ہوتا ہے ، جو انتخابی مہم کے دوران وقتی موج میلے کے لیے جھوٹے وعدوں اور فرضی منصوبوں کے سبز باغ دیکھ کر اپنی رائے کو قربان کرکے جمہوریت کو اپنے ہاتھوں کفنا دیتے ہیں اور اُس کے نتیجے میں جمہوریت ردِ جمہوریت بن جاتی ہے ۔ اینٹی ڈیموکریسی ۔ شاہ کار طرزِ حکومت ۔ اور یہ ہے پاکستانی جمہوریت کا خاکہ جو میں نے تیار نہیں کیا بلکہ اُڑایا ہے ۔ اسی ضمن میں شاعر نے کہا ہے :
جمہوریت اک طرزِ تجارت ہے کہ جس میں
بندے ہی بکاؤ ہیں تو بندے ہی خریدار
ہم سب کو ، مجھے ، آپ کو اور اُن سب کو جو جہاں کہیں بھی ہوں ، یہ لوہے کے چنوں جیسی تجارتی جمہورت مُبارک ہو ۔