ادھورا بیانیہ

میرے مونہہ میں تجزیے کی زبان نہیں بلکہ کُل کے جوہر کی تفہیم ہے ۔ میں تجزیہ کرنے اور دنیا کے بارے میں اپنی ناقص رائے ظاہر کرنے پر فائز نہیں  ہوا بلکہ میں ارد گرد کی دنیا ، ماحول اور معاشرت کو آراء  سے بالاتر جانتا ہوں  ۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہالت تھری پیس سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ، سر پر وِگ کا تاج پہنے رہتی ہے اور  اُس نے اپنی بقا کے لیے باقاعدہ قانون سازی کر رکھی ہے تاکہ اُن قوانین کے تحت لوگوں کو نفسیاتی اذیّت میں مُبتلا رکھا جا سکے ۔

جہالت کی سب سے بڑی رازدان بھی خود جہالت ہی ہے ۔ مثال کے طور پر اس عہد کے جمہوری دیوتاؤں کو ہی دیکھ لو کہ اُنہوں نے اپنا مضحکہ خود اُڑانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی اور جہالت کی آری سے پورے نظامِ حکمرانی کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہے اور اُسے وہ  اس بد نظمی کوعوام کی خدمت اور آئین اور قانون کی بالادستی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔

اور میری سُنو کہ میری نظر میں حکمران  اور عوام دو الگ الگ مظاہر نہیں ہیں ۔ یہ یا تو عوام حکمران ہیں یا یہ ان حکمرانوں کی حکمرانی کا  منصب  عوامی ہے ۔ چنانچہ مجھ فقیر کی فقہ میں حکمران اور عوام کے درمیان فرق روا رکھنا کفر اور بطلان ہے کیونکہ قومی وحدت عوام اور حکمران کے دوطرفہ مساوی رشتے کا قانون ہے جواز خود نافذ ہے۔  اس قانون کو بنانے کے لیے کسی اسمبلی ، کسی عدلیہ اور کسی میڈیا کے مداری یا اشاعتی ادارے کی ضرورت نہیں جو اس کی عظمت اور قوت کا پراپیگنڈہ کرکے اس کو جواز دے ، تحفظ دے  اور برقرار رکھے ۔ ایک اسلامی ریاست تو اپنی نادیدہ روحانی اور اخلاقی قوتوں اور مروجہ قوانین کا مشترک وجود ہوتی ہے : ایک ایسا وجود جو خود کو دیکھتا اور سُنتا ہے ۔

یہ وجود کوئی قومی ہجوم نہیں بلکہ یہ تو بائیس کروڑ سروں والا فردِ واحد ہے ۔
یہ چار صوبوں اور نصف کشمیر کا نقشہ نہیں ، اگرچہ یہ شمالاً جنوباً پھیلا ہوا ہے مگر یہ ماہیت اور نوعیت کے اعتبار سے ایک دائرہ ہے ۔
آپ ہی بتائیے کہ کیا یہ سارا پھیلاؤ امن کے نُون کا نقطہ نہیں ہے؟
پاکستان فردِ واحد ہے جو پنجابی ، سندھی ، پشتون اور بلوچی لہجے میں اردو بولتا ہے اور یہاں کوئی مہاجر نہیں کیونکہ یہاں سب مہاجر ہیں۔

تو اے اہلِ دانش و برہان ! مجھ عامی کی بات سنو جو کہتا ہے کہ پاکستان ایک ہی شخص کا نام ہے ۔ تمہاری قومی وحدت خُدائی وحدت کا عکس ہے جو کثرت کے اعدادو شمار کا گراف ہے ۔ اس نام کو جاننا اور اِس میں قیام کرنا زندگی میں قیام کرنا ہے اور اتحاد کے اس قانون کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے تحت رہنا زندگی سے گریز ہے اور زندگی سے گریز عدم کا راستہ ہے ۔ موت کا ٹیکسٹ میسیج ہے ۔
زندگی اپنی ذات کو مجتمع کرنا ہے اور موت خود کو تتر بِتّر کرنا ہے ۔ زندگی جوڑ کر رکھنے والی قوت ہے اور موت گھر جلا کر راکھ اُڑانے والا ضعف ہے ۔ لوگوں کو امن کی تسبیح میں پرو کر رکھنا قانون کی پابندی ہے اور اُنہیں دہشت گردی ، تشدد ، بد امنی ، کرپشن ، منی لانڈرنگ ، دھونس ، دھاندلی اور بد کلامی کی کچرا کُنڈی پر لا پھینکنا قانون شکنی ہے ۔

اور یہ لوگ ہیں کون جو قانون شکنی کی چتا میں جلنے والے بد قسمت لوگوں پر رائے زنی کرتے اور اُنہیں قابلِ گردن زدنی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود اپنے معاملات میں خود مُذمتی کا شکار ہیں  ۔ کتنا خوف ناک ہے اُن مراعات یافتہ طبقوں  کا طرزِ عمل جو لوگوں کو گمراہی کی اذیت اور معاشی و معاشرتی مصائب میں مبتلا کرتے ہیں ۔ اُن سے کم تو جلاد  جنرل تارا مسیح کا عمل تھا جس نے ایک شاعر کو پھانسی کے مرگھٹ پر موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا حالانکہ دونوں ہل کے  بیلوں کی جوڑی کی طرح  موت کے شکنجے میں ایک ساتھ  کسے ہیں ۔ یہ دو مردے ہیں جو ایک ہی قبر میں گڑے ہیں اور قبر کی مُذمت پر تبادلہ ء خیال کر رہے ہیں ۔ تو میرے صاحبو ! ایک دوسرے پر منصف بن کر ایک دوسرے کے خلاف فیصلے نہ دو ۔ کیوں مادر زاد اندھوں کی طرٖح جو بصارت اور بصیرت سے محروم ہیں ، ایک دوسرے کی بے نُور آنکھوں کو کوس رہے ہو۔

تو میرے عزیز بھائیو اور بچوں میں محبت تقسیم کرنے والی میری بہنو!
تُمہیں ایک دوسرے کا جج بننے کی ضرورت نہیں ۔ اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ تم قومی وحدت کا قانون پڑھو ، جانو اور سمجھو مگر پیشہ ور وکیلوں کی عقل کے ساتھ نہیں کیونکہ اُن کی روزی روٹی قانون فروشی ہے قانون فہمی نہیں ۔ اس قانون کی روشنی میں امن ، یگانگت اور معاشرتی مساوات کو زندگی دو  کیونکہ جدید سو فسطائیوں نے معاشرے کو لفظی جنگوں سے جہنم میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ اور اس جہنمی آب و ہوا میں جو طوفان مچ رہا ہے اُس طوفان کو جواب دہی کے لیے طلب کرنا ہوگا اور پانامہ ، ڈان لیکس  ، عمرانی دھرنے ، قادری  انقلاب کے علاوہ جی ٹی روڈ کے جلوس میں نا اہلی کے پاؤں تلے روندے جانے والے بچے کی گواہی لینی ہوگی ۔

ہم جو سیاروں کی نحس چالوں کو   سمن بھیج سکتے ہیں ، نہ اُن کے وارنٹ گرفتاری  جاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی ماڈل ٹاؤن کے سانحے کی چودہ لاشوں پر سیاست کرسکتے ہیں کیونکہ تمام میتیں ، لاشیں اور بے گورو کفن ڈھانچے زندہ لوگوں کے ہجوم میں شامل ہو گئے ہیں ۔ ایسی صورتِ حال میں تو صرف اور صرف 14  اگست 1947 کو طلب کرنا چاہیے اور جب بہ نفسِ نفیس پاکستان کو طلب کیا جائے گا تو کسی عدالت کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ تب کوئی کسی کا محتسب نہیں ہوگا اور سوائے اپنی ذات کے کوئی کسی کو حساب  دے سکے گا  اور نہ لے سکے گا۔ اور بات یہاں تک پہنچ جائے گی کہ نا انصافی ججوں کو گردن سے پکڑلے گی ۔ تب ہر شخص اپنی مذمت خود کرے گا ۔

اس وقت نا اہل جمہوریت جس بوجھ تلے پس کر کراہ رہی ہے ، وہ بوجھ اُس نے سیاسی ہوبی یا مشغلے کے طور پر خود اُٹھایا تھا کیوں کہ  وہ عوام کی زندگی کو  اپنے حق میں جم جیسی ورزش گاہ سمجھ بیٹھی تھی ۔ مگر اُس جمہوری ورزش نے اُس کے حواس مختل کردیئے اور اعصاب کو چٹخا چٹخا کر بے سُدھ کردیا ہے اور ہم نے دیکھ لیا ہے اس کا انجام کہ نو من تیل موجود ہے مگر جمہور یت کی رادھا ناچنے پر تیار نہیں ۔ وہ پاسپورٹ کے پروں پر بیٹھ کر لندن جانا چاہتی تھی سو چلی گئی ۔ چلیں گے آپ بھی ساتھ۔
نہیں ، معافی چاہتا ہوں ، مجھے یہیں رہ کر اپنا ادھورا بیانیہ مکمل کرنا ہے ۔