ایک خواب اور

بہت سی باتیں ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ سرِ فہرست برما کے روہنگیا مسلمانوں کا رنج و الم ہے لیکن سارا پاکستان ، ترکی اور ایران اُن کی مدد کو نکلا ہوا ہے ۔ سو میرے ہمدردی کے دو لفظوں کی اوقات کیا ہوگی۔ بہت سے لوگ ایک ٹی وی اینکر کے اس بیان پر سیخ پا ہیں کہ  اُس نے یہ کیوں کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں ۔ پتہ نہیں وہ اینکر یہ کیوں چاہتا تھا کہ پاسپورٹ کو تھوکدان ہونا چاہیے ۔ مجھے محسوس یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی عقل سلامت نہیں رہی اور وہ اول فول بولنے لگے ہیں اور اول فول بیان پر اول فول قسم کا  ردِ عمل بھی مونہہ کا ذائقہ خراب ہی تو کرتا ہے ۔

میں ایک خواب دیکھنا چاہتا ہوں ۔ شاعری ویسے بھی لفظوں کے خواب ہی ہوتے ہیں لیکن میں پاکستان کے نچلے طبقے کا نادار شاعر ہوں اور نادار شاعر ، کسی بھی طبقاتی سماج میں سوشل سٹیٹس والے دانشوروں اور ادیبوں کی نظر میں ایک غیر ضروری واقع ہوتا ہے ، جسے ہونا ہی نہیں چاہیے اور اب اگر ہے تو اس کا مضحکہ اُڑانے میں کیا مضائقہ ہے لیکن خواب تو نادار بھی دیکھتے ہیں ۔ اور میں ہمیشہ ایک غیر طبقاتی پاکستان کے خواب دیکھتا رہا ہوں ، جہاں ہر شخص کو اُس کی ضروریاتِ زندگی، عزت اور سہولت سے میسر ہوں گی اور یہ قائد اعظم کا نہیں میرے جیسے ناداروں کا نیا پاکستان ہوگا ۔ لیکن نئے پاکستان کے جملہ حقوق اس وقت عمران خان کے نام محفوط ہیں ۔ غالباً میں نہیں جانتا کہ عمران خان کا پاکستان کیسا ہوگا ، کیونکہ اس سے پہلے اکہتر کی جنگ اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک نئے پاکستان کی بات کی تھی ۔

لیکن میں اپنا نیا پاکستان اُنہی شہروں ، قصبوں ، اور دیہات کے گلی کوچوں میں  پرانے پاکستان کے کھنڈرات مسمار کرکے نئے پاکستان کی بنیادیں اُٹھانا چاہتا ہوں  اور یہ ہر نسل کا فطری حق ہے کہ وہ اپنا پاکستان وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق تیار ، استوار اور تعمیر کرے ۔ وہ پاکستان جو سچ مُچ عقابوں کا نشیمن ہو اور جہاں کوؤں ، گِدھوں اور چیلوں کے لیے الگ بیمارستان بنائے جائیں تاکہ اُن کی زر پرستی ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کا علاج ممکن ہو ۔ ہماری نئی نسل اس نشیمن سے نہ صرف شاخِ زیتون لیے گلی کوچوں میں نکل کر گھر گھر امن بانٹے گی ۔  اور بیرکوں میں رہنے والے پیشہ ور سپاہیوں کو بھی امن کا درس دے کر ،  جنگوں کے دروازے انسانی بستیوں  پر ہمیشہ کے لیے بند کر دے گی ۔اور اس کے لیے اس نئی نسل کو قانون سیکھنے، اُسے خود پر نافذ کرنے اور اُس کے مطابق خُدا کی عبادت کے لیے قائم ایوانوں اور معبدوں میں محبت تقسیم کرنے کا رقص بپا کرنا ہوگا ۔

لوگو ، اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو!
وہ مینارِ پاکستان جس سے پھوٹتی روشنی چار دانگِ عالم کو منور کر رہی ہے ۔ آج کے دن ، ہر دن اور اس کائنات کے آخری دن تک یہ روشنی تسلسل سے جگمگاتی رہے گی ۔ اور کوئی دن ایسا نہیں جو حشر کا دن نہ ہو بلکہ ہر گھڑی محشر کی ہے اور میں گواہی کے لیے اقبال سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا موقف دیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :
یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصہ ء محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

یہ زندگی نیب کی اکاؤنٹ بُک ہے ، جس میں ہر شخص کا نامہ اعمال رکھا ہے ، اُس کا اکاؤنٹ چیک ہورہا ہے ، آڈٹ کیا جا رہا ہے ۔ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ۔ سب کچھ میزانِ میں تُل رہا ہے ۔ کوئی خیال ، کوئی عمل اور کوئی خواہش ایسی نہیں جو صاحبِ خیال ، صاحبِ عمل اور صاحبِ خواہش کے وجود کی کتاب کے صفحات میں لکھی ہوئی نہ ہو ۔ خیالات ، خواہشیں اور اعمال بانجھ اور منفک نہیں ہوتے بلکہ گردوپیش میں موجود ہم خیالوں ، ہم خواہشوں اور ہم عملوں سے منسلک اور مربوط ہوتے ہیں ۔ چنانچہ جو حکمران خُدا کے قانون کی پابندی کرتے ہیں وہ زندگی کو فروغ دیتے ہیں اور جو قانون شکنی کرتے ہیں وہ اپنی قبر کھودتے ہیں ۔ سب کے دن ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ کچھ لوگ خوش بختی کی شہ نشینوں پر متمکن محبت کے جھولوں میں جھولتے ہیں اور قانون کی پابندی کے بیج بو کر خوشحالی کی  گندم کی سنہری فصل کاٹتے ہیں ۔

کچھ اقتدار پرستوں پر ، جو نصف  نیم بیداری میں اور نصف نیم  خوابی  میں ہوتے ہیں ،  طاقت کے بادل جادو کر دیتے ہیں ۔ اُنہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک بپھرا ہوا طوفان ہیں ، جن کی آنکھوں میں گرج چمک اور کڑک ہوتی ہے اور اُن کے نتھنوں سے بجلی گرتی ہے ۔ وہ لوگوں کو اوپر سے دبوچتے ہیں اور اُن کی ٹانگوں پر کوڑے برساتے ہیں ۔ وہ عوام کو دائیں اور بائیں سے نا اہلی کے جھٹکے مارتے ہیں اور پھر اُن غریبوں کو زمیں بوس کرکے دھول چاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور وہ بے چارے سعدی کے لہجے میں چیخ اُٹھتے ہیں:
مرا اے  کاش کہ مادر نہ زادے
( کاش ہمیں ماں نے جنا ہی نہ ہوتا )

اور ایسا ستم وہی لوگ توڑتے ہیں جن کی طرزِ حکمرانی میں قانون اُن کا کھلونا ہوتا ہے جس سے وہ کھیلتے اور قانون کے باسٹھ تریسٹھ کو ترکی دنبے کی طرح ذبح کرکے کھا جاتے ہیں ، لیکن اُنہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ دنبہ کھا رہے ہیں یا گدھا  ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نیا پاکستان بننے دینا ہی نہیں چاہتے ۔ وہ تعمیرِ نو کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ مگر رصد گاہوں میں بیٹھے ٹیکنیشن دیکھ لیتے ہیں کہ موسم کی کیفیات کیا ہوں گی اور آنے والے دنوں میں برکھا برسے گی مگر یہ حکمران ایسے گاؤدی ہیں کہ اُنہیں عام آدمی کے انسوؤں کی برکھا نظر ہی نہیں آتی ۔ مگر اب نیب کے دن آ پہنچے ہیں اور کتنے خوفناک ہیں یہ دن جن میں ایک ایک ٹرانزیکشن کا حساب ہوگا اور ثابت کیا جائے گا کہ جدید زمانے کے ڈاکو رہبروں کی وردی میں ہیں اور غریبوں کے مونہہ کے نوالے چھین کر اپنے لالچ ، حرص اور طمع  کی دور دیسوں میں رکھی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں ۔

ان تجوریوں کا جب مونہہ کھلے گا تو ان میں سے دودھ سے محروم بچوں ، اندھیری راتوں میں کتابوں میں اندھیرا پڑھتے طلبا و طالبات، بے روزگار نوجوانوں ، مجبور ماؤں اور معذور بوڑھوں کے آنسو اور آہ و بکا برامد ہوگی ، جس کا سو موٹو نوٹس عدالت لے گی تو انسانیت کے درد میں مبتلا این جی اوز اور سول سوسائٹیاں اُن کے دکھوں پر آنسو بہائیں گی اور انسانیت کا درد بیچنے والے کالم نگاروں کی بھی چاندی ہوگی جو کسی اخبار کو انسانوں کے دکھ مہنگے داموں بیچ کر ، شام کسی منصب دار کے نجی مے خانے میں بلیک لیبل اپنے ماتھے پر سجا کر قہقہے لگا رہے ہوں گے تو ایسے میں اُن کو کیسا نظر آئے گا پاکستان ۔۔۔