ایک غیر مستحکم ریاست

" بین الاقوامی قرضوں پر چلنے والے مقروض معاشرے حقیقی آزادی سے محروم ہوتے ہیں  ، کیونکہ  اس طرح کے معاشروں میں قانون کی حیثیت، لاقانونیت کے ہاتھی کے نمائشی دانتوں سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ "
درویش خانقاہی
فرد ہو یا اجتماع ، تین طرح کی قوتوں سے لیس ہوتا ہے اور تینوں قوتیں اپنی اپنی جگہ خود مُختار ہوتی ہیں ، تینوں کا ساختیہ الگ الگ ہوتا ہے اور اُن کو چلانے والے قوانین بھی الگ الگ ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی تشکیل میں ایک ہی سرچشمے سے منسلک ہوتے ہیں ۔

پہلی طاقت افرادی طاقت ہے ، جس کی صلاحیتوں کا دارمدار معاشرتی ساخت و پرداخت اور مروجہ قانونی ڈھانچے کے تاروپود کی مضبوطی پر ہوتا ہے ۔  دوسری قوت نفسیاتی قوت ہے جس کا دارومدار نظریاتی مرکز میں کام کرنے والوں کے تدبر و تفکر اور اُن کے تخلیقی متن پر ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک معاشرتی تبدیلی ، اقتصادی ترقی اور عملی فنون کے فروغ کے لیے عام آدمی کو نفسیاتی غذا فراہم کر سکتے ہیں ۔ تیسری قوت اخلاقی قوت ہے جس کا دارومدار معیارِ تعلیم اور تہذیبی ورثے پر ہوتا ہے۔

پہلی دو قوتوں میں تبدیلی نسبتاً آسان ہوتی ہے لیکن اخلاقی قوت کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ قومی اخلاقیات کی تشکیل و تعمیر میں برسوں لگتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ ستّر سال میں ہم سے من حیث القوم یہ ممکن نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ہم میں نہ تو حقیقی تاریخی شعور ہے اور نہ ہی ہمارے پلے وہ فکری استدلال  ہے جو ہمارے یہاں رائے عامہ کو تبدیل کرکے امن ، بھائی چارے ، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکے  ۔ ہم وہ فکری اور سیاسی یتیم ہیں جن کے سر پر آئین اور قانون کا سایہ نہیں اور جب کسی آنگن میں قانون اور آئین کے درخت تو ہوں مگر اُن کا اطلاقی سایہ نہ ہو تو پھر معاشرے میں اوپر سے نیچے تک ، ہر طبقے میں جرائم پنپتے ہیں ۔

فی زمانہ جرم ہماری روز مرہ سرگرمی سے الگ کوئی شے نہیں بلکہ یہ ہماری روز مرہ قانون شکنی ہے جو ہمیں گھُٹی میں دی گئی ہے ۔ اور وہ اس لیے کہ ہم قانون کے بجائے اپنی خواہشِ نفس پر چلتے ہیں ۔ ہم بطور والدین اپنے بچوں کے جرائم پر یہ کہہ کر پردہ ڈالتے ہیں کہ : " چلو کیا ہوا ، بچہ ہی تو ہے " ۔ اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ معاملہ تربیت میں کوتاہی کا ہے اور بجائے خُود ایک جرم ہے ۔ ہم روایتاً مونہہ ملاحظے والے لوگ ہیں اور قانون شکنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس میں ہماری خام مذہبی سوجھ بوجھ کا بڑا ہاتھ ہے کہ چونکہ اللہ ستار العیوب ہے ، اس لیے دوسروں کے پردے رکھو اور وہ دوسرے اپنے بچے ہوتے ہیں۔ ورنہ دوسروں کے بچوں کو یہ رعائت نہیں مل سکتی ۔ خود احتسابی ہمارے یہاں رواج ہی نہیں پا سکی۔ ہم خود اپنے حق میں تو اتنے رحمدل ہیں کہ خود کو منی لانڈرنگ اور کرپشن سے لے کر ماڈل ٹاؤن کے درجن بھر قتل بھی معاف کردیتے ہیں مگر دوسرے کی معمولی سی لغزش بھی قابلِ مواخذہ لگتی ہے ۔

اس لیے ہم کچھ لو اور کچھ دو کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں  جسے رواج دینے کے لیے ہم نے قانون کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی قائم کر لی ہے تاکہ مُک مُکا کا پرچم سر بلند رہے ۔ قانون کا بول بالا بھی رہے اور جرم کا مونہہ بھی کالا نہ ہو ۔  قانون کو جرائم کی منڈی میں اس طرح بیچ دیا جاتا ہے جیسے مویشیوں کی منڈی میں گھوڑے بکتے ہیں ۔ اس کاروبار میں سب سے زیادہ فائدہ اُن کا ہوتا ہے جو حاکمِ وقت کی اولاد ، رشتہ دار ، یار دوست ، کاروباری حلیف،  زر خرید حاشیہ بردار اور چاپلوس ہوں ۔ یہ طرزِ فکر ہمارے معاشرے کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے ۔ چنانچہ مذہبی ادارے ہوں یا سیکولر ریاستی ادارے ( سیکولر اس لیے کہ ملک میں اقلیتیں بھی موجود ہیں جن پر وفاقی شرعی قوانین کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ) جولحاظ ملاحظہ کی نفسیاتی آب و ہوا میں پروان چڑھے ہیں ، دوسروں کے ہر قسم کے جرائم کی قیمت لگا کر اُن کو حذف کر دیتے ہیں ۔ ریکارڈ تک جلا دیتے ہیں ، دستاویزات میں رد وبدل کرتے ہیں ، جعلی دستاویزات فراہم کرتے ہیں ، دستاویزات کا متن بدل دیتے ہیں ۔

اس بد عملی  اور جعلسازی سے ہمارے ذاتی مفادات اور  کاروباری  تعلقات تو مضبوط ہوتے ہیں مگر معاشرتی رشتے وسیع تر مفہوم میں کمزور ہو کر مرجاتے ہیں اور اس مردہ معاشرت کا جنازہ اُٹھائے لوگ اپنی تیرہ نصیبی پر ماتم کرتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو کوسنے دیتے رہتے ہیں ۔ اس طرزِ فکر و عمل اور بد اندیشی کی روایت نے ریاست کو غیر مستحکم کردیا ہے اور ہم ایک غیر مستحکم ریاست کی عدم استحکام کی چکی میں مسلسل پِستے چلے جا رہے ہیں مگر اپنی ذاتی ، خاندانی اور جماعتی بقاء کے لیے ہر جائز اور ناجائز کو شیرِ مادر سمجھتے ہیں ۔ اس سے ہمارا قانونی نظام کھوکھلا اور عدالتی نظام اتنا غیر موثر ہوگیا ہے کہ ملزم عدالتی سمن کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوہرے معیار کے حامل ملک میں ایک طرف محلاتی سازشوں کا دور دورہ ہے اور دوسری طرف پڑوسی ممالک پوری ریاست کو حرفِ غلط کی طرح مٹانے کے لیے اپنی مکروہ چالیں چلتے رہتے ہیں جو کلبھوشن یادو برانڈ کے متعدد گماشتوں کے ذریعے بنگلہ دیش کی تاریخ دوہرانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ۔

اور ہمارے اداروں میں اتنا دم نہیں کہ کہ تمام خطرات سے نبرد آزما ہو کر ریاست کو مضبوط پیروں پر اس طرح کھڑا کر سکیں کہ اس کا ناقابلِ تسخیر ہونا سیاسی گیدڑوں کی بھبکیوں میں نہیں بلکہ لوحِ وقت پر لکھا ہوا نظر آنے لگے۔ ہمیں جس امن ، ترقی اور خوشحالی کی ضرورت تھی ، وہ یہ ادارے ستر برس میں مہیا نہیں کرسکے ۔ لگتا ہے اُنہیں ڈیلیور کے سپیلنگ ہی نہیں آتے ۔ ہمارا یہ حال ہے کہ شہر شہر اور سڑک سڑک خانہ جنگی کی آگ پھیلی ہوئی ہے ۔ جرائم پیشہ اور دہشت گرد  غُنڈوں کے ہاتھوں سرِ راہ گولیاں کھانے اور لُٹنے کے مناظر سے لبریز معاشرہ زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہم ایک غیر مستحکم ریاست میں یرغمال ہیں ۔

انسانی صلاحیتوں میں اتنا دم ہے کہ ایک غیر مستحکم ریاست کو استحکام دیا جا سکتا ہے لیکن یہ موجودہ سیاسی گروہوں کے بس کی بات نہیں ، جو آپس میں ریچھ اور کُتّے کی طرح الجھے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک غیر یقینی صورتِ حال ہے لیکن تا حال کسی کو دور افق پر وہ نادیدہ سر دکھائی نہیں دے رہا جو ہمیں یقین ، اتحاد اور ایمان کی تازہ نوید دے کیونکہ قائد اعظم پچھلے 11 ستمبر کو اںُنہترویں بار وفات پا چکے ہیں ۔
اِنّا للہ و اِنّا الیہ راجعون ۔