ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

پچھلے دو تین دن میں ٹی وی سکرینوں پر  کچھ ایسی اندوہ ناک ، کرب ناک  اور بھیانک تصویریں دیکھنے کو ملیں  کہ مجھ سا کمزور دل ، عمر رسیدہ بچہ کانپ کر رہ گیا ۔ کتنی ہی دیر تک میرے بدن کے رونگٹے کھڑے رہے  ۔ اب میں عمر کے اس حصّے میں ہوں  کہ مجھے یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کب کیا کہا تھا  اور میں پہلے سے کہی ہوئی باتیں  بار بار دوہرانے لگتا ہوں  ۔ یہی وہ کیفیت ہے جو بچوں کو بوڑھا کردیتی ہے  اور عمر رسیدہ بوڑھے  مجبور اور لاچار  بچّے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ اور تب اچانک سورہ  مُزمل کی ایک آیت مجھے دہشت زدہ کیے دیتی ہے :
"فکیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیا "
اور تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو  ، جو اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بُوڑھا کر دے گا  ۔

اب تفصیل اس اجمالی بیان کی ملاحظہ ہو :
پچھلے دو تین دنوں میں  تین  نومولود بچیاں ملکِ خُداد ، اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی سڑکوں پر پڑی ملی ہیں ۔ ان میں سے سب سے آخر میں ملنے والی خوبصورت آنکھوں والی بچی ایک ٹانگ سے معذور ہے ۔ ان بچیوں کو لاوارث اس لیے نہیں کہا جا سکتا  کہ بچوں کا وارث معاشرہ ہوتا ہے  اور یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی معاشرہ لفظ کے حقیقی مفہوم میں معاشرہ ہی نہیں بن  پایا  ، جس میں انسانی رشتے اسللامی اخوت کی بنیاد پر استوار ہوں ۔ مسلمان قرآن کی رو سے آپس میں اخوت کے رشتے میں بندھے ہیں  ، جس کی بنا پر معاشرے  میں جنم لینے والے بچے ، معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہیں ۔ لیکن ہم سب اخوت کے منکر ہیں اور سفاکی اور سنگ دلی کے راستے پر چل رہے ہیں ۔

اور سنگدلی کا عالم یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں میں تین نوجوان لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک بوری بند لاش بھی تھی ۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی،  مذہبی جماعتیں  اور سول سوساٗٹیوں کے نام پر چلنے والی این جی اوز  سب کی سب مردہ ضمیری کے قبرستان میں دفن ہیں  جبکہ گُڈ گورننس کی مالا جپنے والی حکمرانیہ  میڈیا کے ایک پالتو  طبقے کی  سازشی دانش خرید کر  ، گلیوں بازاروں اور گھروں میں  عوام کو لچھے دار تقریروں ، جھوٹے نعروں  ، کھوکھلے وعدوں  اور رنگ برنگے ترانوں کا چارہ ڈال کر، فریب کے  شیشے میں اُتارے ہوئے ہیں۔  اور عوام کے ووٹ کی طاقت کو خود اُنہی کے خلاف  استعمال کرتے چلے آتے ہیں ۔  لیکن ہمیں یہ بالکل بھی یاد نہیں رہتا کہ اب ہم ستر سال کے ہو چکے ہیں ۔  اور ستر سال کی ہماری تاریخ حیات و موت کی کشمکش کی خونیں تاریخ رہی ہے  جس میں چار مارشل لاٗ ، پانچ جنگیں نام نہاد عوامی لیڈروں کے  جمہوریت کے نام پر مالی  استحصال  کی آشوبناک داستانیں شامل ہیں ۔  سب سے بڑھ کر یہ کہ  ملک کے مذہبی اور تعلیمی اداروں نے  پاکستان کی تازہ نسلوں کی تربیت کچھ ایسی کی ہے  کہ وہ  ملک کے تجارتی تعلیمی اداروں کی ورکشاپوں سے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے بھوت  اور بد اخلاقی کے عفریت بن کر نکلے ہیں اور اُنہوں نے اس  ملک کو تہذیب اور اخلاق کی قتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے ۔

صاحبو ! میں مفتی عبدالقوی کی بات نہیں کر رہا ۔ میں تو مذہبی لوگوں کا بڑا احترام کرتا ہوں ۔ شاید سارا قصور قندیل بلوچ کا ہے کیونکہ مذہبی اکابرین تو اخلاقی پستی کا اظہار نہیں کر سکتے ۔ مگر برا ہو اُس مشین کا جس نے مفتی عبدالقوی کو جھوٹا ثابت کردیا ہے ۔ ممکن ہے اس میں بھی کوئی امریکی سازش ہو  لیکن کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ مفتی موصوف تو  مذہبی انارکی کی دیگ کا ایک دانہ ہیں  جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کا  پورے کا پورا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ چنانچہ مجھے یہاں وہ فارسی شعر چسپان کرنا اور بآوازِ بلند  کہنا بہت موزوں لگتا ہے کہ :
گر ہمیں مکتب و ہمیں مُلا
کار٘ طفلاں تمام خواہد شُد

دیکھیے میں کہیں اصل موضوع سے ہٹ نہ جاؤں  ،  کیونکہ میں تو اُن بچیوں کی بات کر رہا تھا  جن کو پیدا ہوتے ہی سڑکوں کے کنارے  کوڑے کے ڈھیروں پر اس طرح پھینک دیا گیا جیسے وہ مری ہوئی چوہیاں ہو جنہیں چمٹے سے پکڑ کر پھینک دیا گیا ہے ۔ مجھے حیرت اور تعجب ہے کہ کسی اسلامی معاشرے میں  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے برعکس لڑکیوں کو جنم لیتے ہی زندگی کے کوڑے میں شمار کردینے کا سانحہ بھی رونما ہو سکتا  ہے۔

کہاں ہے خوفِ خُدا ۔ کہاں ہے وہ مذہبی تعلیم جو بیٹی کے جنم کو خیر و برکت کا موجب قرار دیتی ہے ۔ لیکن بے حسی ، بے غیرتی اور  بد اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنے جگر گوشوں کو  نجاست سمجھ کر کچرا کُنڈیوں پرپھینکنے لگے ہیں ۔  لاہور میں جس بچی کو اس کی معذوری کے باوجود سفاکی سے سڑک پر ڈال دیا گیا  ، وہ معذور ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے لیے بوجھ بننے والی تھی ۔ چانچہ ماں کو اچھا نہیں لگا کہ وہ معذور بچی کو دودھ پلائے ۔ یہ ماں کی ممتا کا نیا تصور ہے ۔ کیا  اب آج کی ماں اتنی بے رحم اور سنگدل ہو سکتی ہے؟
خامہ انگشت بدنداں ہیں اسے کیا لکھیے

تعجب تو اس بات کا ہے کہ مذہبی ادارے اس سفاکی اور بے رحمی کا تدارک کرنے کی طرف پیش رفت کرتے نظر نہیں آتے اور محض مذمت کرنے اور کفِ افسوس ملنے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔ مجھے ساحر صاحب کی آواز کہیں دور افتادہ قبرستان سے آتی سنائی دے رہی ہے :
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی اُمّت زُؒلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں