انسانی حقوق کا دن مگر انسان کہاں ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے ۔ یہ خبر میں نے پاکستان ٹی کے چینل 92 پر دیکھی جہاں ایک خاتون رپورٹر بے چارے پاکستانیوں سے پوچھ رہی تھی کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے ، اس سلسلے میں اپ کیا کہتے ہیں ۔ اس پر ایک نوعمر خاتون نے کہا کہ کون انسان ؟ اور پھر وہ اپنی راہ چلتی بنی اور رپورٹر بغلوں سے کیمرا جھانکنے لگیں ۔

اس پر میرے دوست ماسٹر گام نے کہا کہ بھائی یہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ آپ انسان ہیں ۔ مجھے بتائیں کہ آپ کے حقوق کیا ہیں۔ میری بات سُن کر ماسٹر گام نے مجھے بغور باقاعدہ گھور کر دیکھا اور بولے تو تم بھی مجھے انسان سمجھتے ہو۔ عرض کیا ، میں کیا اور میری سمجھ بوجھ کیا بس  اندازے سے کہہ دیا تھا کہ لگتے تو نہیں مگر شاید ۔
اچانک مجھے ایک پرانے چینی شاعر کے حوالے سے ایک واقعہ یاد آیا کہ لوہشون سے کسی نے پوچھا کہ بھائی ، " آپ نے انسانی حقوق پر بھی کوئی نظم لکھی ہے تو وہ کہنے لگے کہ پہلے مجھے وہ انسان تو دکھاؤ جس کے حقوق ہیں اور وہ واقعی انسانی حقوق کا اہل ہے "۔

خیر شاعروں کی باتیں چھوڑیں ، وہ بالعموم ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو بے تُکی ہو سکتی ہیں ۔ اس لیے تو اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ ان شاعروں کی پیروی  نہ کیا کرو ، یہ گمراہ لوگ ہوتے ہیں اور کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے " الشعراء ۲۲۴۔۲۲۵،۲۲۶
اس لیے شاعروں اور انسانوں کو ایک ہی مخلوق شمار کرنا درست نہیں کیونکہ انسان تو خُدا کی ارفع ترین مخلوق ہے اور اُس کا مرتبہ  انسانیت اس قدر بلند ہے کہ اُس کو قبول کرنے سے انکار پر شیطان کافر بن گیا۔ جبکہ فی زمانہ  شاعر بے چارہ شہرت کا بھوکا انا پرست ہوتا ہے جو بے تُکے شعروں کو شعر اور نا شاعری کو شاعری بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ ہے وہ شیطانیت جس نے اسے شاعری کے منصب سے محروم کر رکھا ہے۔  اب تم کیا سمجھتے ہو کہ شیطان خُدا کا منکر تھا ۔ نہیں ، مگر وہ توحید پرست تھا اور وہ بھی اعلیٰ درجے کا مگر وہ انسانیت کا منکر تھا جس پر اسے مردود قرار دے دیا گیا ۔

مگر انسانی حقوق ہیں کیا ؟
مجھے زیادہ تو علم نہیں مگر میرا خیال ہے کہ سب سے پہلا انسانی حق ، زندہ رہنے کا حق ہے جو پاکستان میں بڑی غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ، کس وقت ، کس حالت میں اور کس الزام کے تحت کسی سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جائے ۔ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں فیکٹریوں میں زندہ جلا دیئے جاتے ہیں ۔ کچھ ایسے ہیں جو مذہبی اجتماعات میں گولیاں مار کر جہنم واصل کر دیئے جاتے ہیں ۔ ان رفتگاں کو کچھ ریاست کے باغی کہتے ہیں  جب کہ کچھ لوگ اُنہیں شہید کہتے ہیں ۔ کچھ  نومولود بچے زندگی کی اقلیم میں داخل ہوتے ہی اغوا کر لیے جاتے ہیں اور پھر وہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی اس منڈی میں بیچ دیے جاتے ہیں ، جس کا مصر کے بازار سے کوئی تعلق نہیں ۔ نوجوان لڑکوں کو مغربی ممالک میں اعلیٰ تنخواہوں کا لالچ دے کر اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ قتل کر دیئے جاتے ہیں ۔ یہی حال  نوجوان لڑکیوں کا ہے جو خلیجی ریاستوں میں نوکری کے لالچ میں زندگی سے محروم کر دی جاتی ہیں ۔

زندہ رہنے کے لیے روٹی ، کپڑے اور مکان کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تینوں حقوق زندہ رہنے کی ضمانت بنتے ہیں جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے طبی سہولتوں اور تعلیم سے مشروط ہوتے ہیں اور جہاں ان پانچوں حقوق کی ضمانت نہ ہو وہاں زندگی کے حق کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ۔ اس صورتِ حالات میں کون کہہ سکتا ہے کہ پاکستانیوں کے انسانی حقوق بھی ہیں ۔ پاکستان میں جن لوگوں کو یہ بنیادی حقوق سہولت سے حاصل ہیں وہ پاکستان کی فوجی ، سول اور مذہبی ایلیٹ ہے جسے انسانوں کا درجہ حاصل ہے۔ ورنہ باقی لوگ جو خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ، جو تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں ، جنہیں بچپن تک میسر نہیں ہوتا اور بچپن ہی میں بڑھاپے کی طرٖف بھیج دیے جاتے ہیں ، انسانوں میں شمار نہیں ہوتے۔

پاکستان میں ، انسانوں نے نا انسانوں کی ، غیر ضروری آبادی کو ٹھکانے لگانے کے لیے طرح طرح کی دہشت گرد تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو اپنے اپنے اذیت خانوں میں لوگوں کو اس بات کی سزا دیتی ہیں کہ وہ انسانوں میں کیوں پیدا ہو گئے ہیں ۔ چنانچہ اُنہیں کافر قرار دے کر قتل کرنا ، غلط مذہبی عقائد کی بنا پر اُنہیں الزام کی سولی پر لٹکائے رکھنا موت کا بد ترین عمل ہے جس سے اُمت روز گزرتی ہے ۔ اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان مسلمان کے انسانی حقوق بھی ہیں ، ایک غلط بیانیہ ہے ۔ پاکستان میں اگر سچ مچ اسلام ہوتا تو انسان بھی ہوتا اور اس کے انسانی حقوق بھی ہوتے ۔