انگریزی ٹوپی اور عوام کی خدمت

سب سے پہلے رنگ ، اُس کے بعد ڈھنگ ۔ میں چیزوں کو نہ جانے کیوں اِسی ترتیب سے دیکھتا ہوں  یا کم از کم میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر شے جیسی ہے ، مجھے ویسی ہی دکھائی دے ۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ :
" جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا ، یہ عالمِ پیر مر رہا ہے "
تبدیلی کی نشانی انگریزی ٹوپی ہے ۔ انگریزی ٹوپی المعروف ہیٹ ، جسے انگریزی میں ہیٹ بمعنی نفرت بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ دیسی عوام کے درمیان حکمرانی کے احساسِ برتری کو جوان رکھتی ہے اور یہ ٹوپی پہن کر حبیب جالب کے باغیانہ اشعار اُسی کے لہجے میں پڑھتے ہوئے ، آپ یہ سیاسی بیان جاری کر سکتے ہیں کہ :

" ہم لاشوں پر سیاست نہیں کرنے دیں گے " ۔

اس بیان پر قبرستانوں سے گولیوں کے خول بولتے ہیں کہ کیوں نہیں ۔ جب لاشوں پر حکومت کی جا سکتی ہے تو لاشوں پر سیاست کرنے میں کسی کو کوئی اعتراض کیسے ہو سکتا ہے ، کیونکہ اس قوم کے خواہ مُخواہ کے لیڈروں نے ہمیشہ لاشوں پر ہی حکومت کی ہے ۔ اور اس وقت ساری سیاست تو پچھلے چند مہینوں سے وزارتِ عظمیٰ کی لاش پر ہو رہی ہے ۔ ہر چند کہ وزارتِ عظمیٰ کی ڈمی موجود ہے  مگر اُس میں سے بھی مسلسل یہی آواز آتی ہے کہ " میں نہیں ، میں نہیں اور اُس کا سبب یہ ہے کہ میں یعنی  میاں نا اہل ہے اور ڈمی اہل ہے ۔ اور میں پوری بے پر کی صداقت کے ساتھ اس سارے موضوع  بارے  رنگ برنگی  خوش فہمیوں میں مبتلا ہوں ۔ اگرچہ بہت سے دوست میری خوش فہمیوں میں شریک ہونے سے سراپا معذرت ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں اسے اپنی خوش فہمیوں کا حاصل سمجھتا ہوں ۔

چنانچہ اے پاکستان کے اصلی ، کھرے اور سچّے پاکستانیو ! میں آپ سے اعتماد کی بھیک مانگتا ہوں ۔ حلفیہ کہتا ہوں اور محض اقرار نہیں کرتا کہ میں آپ کا دوست اور بہی خواہ ہوں ۔ میں آپ کے سارے کرپشن پیشہ دشمنوں کو گن گن کر اور چُن چُن کر سیخوں میں کبابوں کی طرح پرونا چاہتا ہوں ، حالانکہ یہ میرے بس کی بات ہے ہی نہیں مگر میری خواہش اور ارادے تو دیکھئے کہ میں پاکستان کو سیاسی مداریوں کا بیان کیا ہوا قائدِ اعظم کا پاکستان نہیں بلکہ غریب آدمی کی بنیادی ضروریات کی جنت کا پاکستان بنتے دیکھنا چاہتا ہوں حالانکہ میں اُس جنت سے نکالا ہوا ہوں ۔
 منیر نیازی کے ساتھ بصد معذرت:
جرم شاہوں نے کیا اور بھوکے ننگوں کو سزا
کاٹتے وہ ہیں جو ہم نے آج تک بویا نہیں

جانے میری کہی ہوئی باتوں سے آپ نے کیا تاثر لیا ہے۔
آپ پریشان تو نہیں ہوئے ۔ میری استدعا ہے کہ خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میں میڈیا کا کوئی کھرا سچ نہیں ہوں بلکہ صرف ایک موہوم سی دعا ہوں جو اپنے آپ  میں کسی وظیفے کی طرح ہمہ وقت جاری رہتی ہے ۔ یہ آپ سے میری محبت ہے مگر مجھے محبت کرنی نہیں آتی اس لیے میں خود کو اپنے آپ سے بھی متعارف نہیں کروا سکا ، مگر اس کی  ضرورت بھی کیا ہے ۔
بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ میں پاکستان کے عام آدمی کا ،  اُس کی محرومیوں ، مجبوریوں اور مشکلوں کا ساتھی ہوں ۔ آج عمران خان کی عدالتِ عظمیٰ سے بریّت پر بھی میں بہت خوش ہوں کیونکہ میں نے پاکستانیوں کی نئی نسل  کے بہت سے پُر اُمید چہروں کو گلابوں کی طرح کھلتے دیکھا ہے ۔ اگر چہ یہ نظارہ ایک ٹی وی سکرین پر تھا مگر یہی تو ایک ڈور ہے جس نے مجھے پاکستان سے باندھ رکھا ہے لیکن جس دن یہ ڈور کسی محل کی بالکنی میں الجھ گئی تو یا وہ ٹوٹ جائے گی یا  پھر میں ہی  دھڑام سے نیچے اپنی اوقات میں آ گروں گا۔ اور یہ بھی ایک نئی دریافت ہوگی مگر خوابوں اور خیالوں کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے شاعرِ مشرق اقبال کا خواب ، محمد علی جناح کی تعبیر ، جنرل یحیٰ کی تقصیر اور جنرل نیازی کی تکبیر ۔ اللہ اکبر ۔

خواب کا گلا کٹ گیا اور تعبیر کا خون گلی گلی بہنے لگا جو آج بھی ماڈل ٹاؤن کی چودہ لاشوں کے گلے سے مسلسل بہ رہا ہے مگر کسی کو پرواہ نہیں ۔ کوئی نہیں بتاتا کہ ان چودہ لاشوں کا قصور کیا تھا ۔ لاشوں کو اپنے قصور کا علم نہیں ہوتا  اور نہ ہی گولی کو ہوتا ہے مگر گولی بڑی عقل مند ہوتی ہے جو اپنا راستہ بناتی ہدف تک تیرتی چلی جاتی ہے ۔ گولی کے رویے پر ڈاکٹر طاہرالقادری غُصے میں آکر لوگوں سے خُدا کے لہجے میں بات کرتے ہیں مگر خُدا کی باتیں لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ تمام مذاہب بھی خُدا کی باتیں ہیں جو لوگوں کے سروں کے اوپر سے گزر جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مذہبی مفروضوں پر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں حالانکہ مذہب تمام لڑائیوں کا فل سٹاپ ہے ۔ مذہب میری سمجھ بوجھ سے بھی بالا تر ہے اس لیے کہ میں ایک زیرِ عتاب قوم کا غیر ضروری جزو ہوں ۔ بعض قومیں ایسی ہوتی ہیں جن کے پلے شرم و حیا کا دھیلہ تک نہیں ہوتا لیکن عدالت سمیت کوئی اُن کے حکومتی نظریے کا کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ 

یہ ایک بے منزل  قافلہ ہے جو ایک بے مقصد سفر پر رواں دوااں ہے، جس کی علمی اوقات ایک لایعنی فکری استعارہ ہے مگر اس کے با وصف یہ قوم اپنے عشق میں مبتلا ہےاور وہ میں ہوں یا آپ یا کوئی تیسرا  ، ہمارے لیے ایک ہی نسخہ ء کیمیاء ہے:
لبیک یا رسول اللہ ، صلی اللہ علیہ وسلم