ہم جو مذہب کی راہوں میں مارے گئے
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 23 / دسمبر / 2017
- 9203
چند برس اُدھر ، نوم چومسکی کی کتاب " توسیع پسندی اور بقا" شائع ہوئی جس کے پہلے باب کا ترجیحات اور امکانات کے عنوان سے آغاز ہوا ۔ کتاب کے شروع میں ایک نامور محققِ حیاتیات ارنسٹ میئر کے حوالے سے بڑی دل چسپ باتیں کہی گئی ہیں جو بشر کی مافوق الفطرت سطح کی دانش و حکمت کے حوالے سے تھیں ۔ یہ ارنسٹ کا خیال ہے یا اُس کی علمی تحقیق کا حاصل جس کے مطابق وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکا ہے کہ انسانوں میں اعلیٰ سطح کی دانش و فراست کے امکانات بہت معدوم ، مبہم اور غیر واضح ہیں ۔
میری سمجھ بوجھ اور تفہیمی اوقات کے مطابق اُس کا سارا استدلال وحی و الہام کے حوالے سے تھا ، جس سے میں یہ سمجھا کہ ہم جسے وحی و الہام کہتے ہیں اور اُس کے متن میں جو حکمت ، بے نیازی اور محبت مضمر ہے، اُس کے عام انسانی معاشروں تک پہنچنے کے امکانات تو موجود ہیں مگر اُس کو سمجھ کر اُس سے مفہوم اخذ کرنا اور اُس کی بنیاد پر معاشرت استوار کرنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ تا حال نا ممکن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُمتِ وسط و خیر کے دعویدار اور دنیا کے آخری مذہب کے علمبردار اسلامی دانش و حکمت کی بنیاد پر وہ معاشرہ منظم و مرتب نہیں کر سکے ، جو مثالی ہو اور جس میں اُسوہ ء حسنہ ﷺ کی اخوت و مساوات کی مہک اُڑتی ہو ، بلکہ اس کے برعکس تمام موجودہ مسلم معاشرے سرمایہ داری کی راہ پر گامزن ہیں جس میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی اکثریت ہے۔ اور قرآن کے احکام کے برعکس دولت چند ہاتھوں کا " ھذا من فضلِ ربی" بنی ہوئی ہے ۔ چنانچہ خیرِ کثیر ہے ، امن ہے ، خوشحالی ہے اور نہ ہی باہمی یگانگت ۔ معاشرہ لاقانونیت کی چتا کا ایندھن بنا ہوا ہے اور شہوت پرست لوگ جنسی تلذذ کی تلاش میں ہر اخلاقی حد عبور کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔
ارنسٹ میئر کے تخمینے کے مطابق روزِ ازل کو معرضِ وجود میں آنے والی مخلوق کی تعداد پچاس کھرب سے زیادہ تھی جنہیں تہذیب و تمدن کی تعمیر اور نفاذ کے لیے حکمت و دانش تفویض ہوئی تھی لیکن پچھلے ایک لاکھ سال میں اُس کثیر التعداد مخلوق میں سے صرف ایک ہی ایسی مخلوق بچی جس کے پسماندگان ہم ہیں ۔ میئر کا خیال تھا کہ انسانی مخلوق کی فکری تنظیم ، انتخاب یا پسند کی مرہونِ منت نہیں ہو سکتی بلکہ زمین پر انسانی زندگی کی تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ زمین پر رہنے کے لیے تقلیدی بیوقوفی کی نہیں بلکہ تحقیقی زیرکی اور دانائی کی ضرورت ہے اور جہاں تک بقائے نسل کا تعلق ہے ، انسانوں سے زیادہ ، بھنورے ، اور جراثیم اپنے مقصد میں کامیاب ہیں ۔ ارنسٹ میئر کا خیال تھا کہ کسی مخلوق کے ایک نسلی گروپ کی اوسط عمر ایک لاکھ سال ہو سکتی ہے ۔
ہم اس وقت یا فی زمانہ جن ارضی قیامتوں سے گزر رہے ہیں اُن کی بنا پر ہم ارنسٹ میئر کے سوال کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ آیا ہم تقلیدی بیوقف ہیں یا تحقیقی زیرک و دانا ۔ کیا ہم درپیش چیلنج کو شعور کی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا غیر شعوری بے بصری سے ۔ اس سوال کا کوئی قطعی جواب نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ ہماری نادانی اور بیوقوفی کسی جینیاتی خلطی کا نتیجہ ہے جس کی بنا پر ہم انسان پچھلے ایک لاکھ سال سے ایک دوسرے کو جرثوموں اور حشرات الارض کی طرح تلف کرنے میں لگے ہیں ۔ آدم کی کہانی میں قتل کی پہلی واردات اُس کے بیٹوں کے درمیان اختلاف رائے اور تقلیدی روش کی بنا پر سرزد ہوئی تھی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی گواہی رقم کی تھی کہ قتل کا تعلق ہمارے باپ آدم کے بیٹے قابیل کی روایت سے ہے ۔ جو کوئی حیاتیاتی خطا ہے یا نہیں ، میں نہیں جانتا ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وہی خطا ہو جس کی بنا پر انسان کو خطا کا پُتلا کہا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ صرف خطا کا ہی نہیں ، بلکہ انا ، جفا ، دغا اور حرص و ہوا کا مرقع بھی ہے جس کا واضح اظہار ہمیں سیاست دانوں کے کرتوتوں میں نظر آتا ہے ۔
ہم دور کیوں جائیں ۔ ہمارے اپنے پیارے پاکستان میں برطانیہ کی طرز پر دو طرح کا آئین ہے : تحریری اور غیر تحریری ۔ غیر تحریری آئین کے مطابق حکمرانوں ، مراعات یافتہ طبقوں ، مذہب کے نا خُداؤں اور جنگ و جدل کے دیوتاؤں یہ حق حاصل ہے کہ وہ بر سرِ اقتدار آکر خطا کریں ، جفا کریں یا دغا کریں ۔ وہ جب چاہیں اپنا قبلہ تبدیل کر لیں جب کہ ملک کا تحریری آئین ہاتھی کے دکھانے کے دانتوں کی طرح ہے جو عام آدمی کو دھوکہ دینے کے لیے ہے کہ طاقت کا سرچشمہ تم ہو حالانکہ یہ محض طفل تسلی ہے، جس کے ذریعے بائیس کروڑ میں سے اُس اکثریت کو بیوقوف بنایا جاتا ہے ، جو خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ یہ سب کچھ ایک ایسے مُلک میں ہو رہا ہے جو الوہی دانش یعنی مذہب کے نام پر وجود میں لایا گیا تھا ۔ اس ملک میں سیاستدان ووٹ اور مینڈیٹ کی گولی سے جسے چاہیں اور جب چاہیں ہلاک کر دیں ۔
یہ گولی صرف روایتی سیاستدانوں کے ہی نہیں ، مذہبی سیاستدانوں کی دسترس میں بھی ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اپنے بس میں رکھتے ہیں اور اُنہیں تحقیقی دانائی و زیرکی کے بجائے تقلیدی بیوقوفی اور جہالت کے زندانوں میں اپنا قیدی بنا کر رکھتے ہیں ۔ چنانچہ مذہب کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے اور لوگ ہر روز مر رہے ہیں ۔ موت کا یہ رقص صوفیوں کی درگاہوں میں ، اثنا عشری امام بارگاہوں میں ، احمدی معبدوں میں اور بچوں کے سکولوں میں یکساں بے رحمی سے جاری ہے اور کمزور اور مجبور لوگ موت کے گھاٹ اُتارے جا رہے ہیں :
ہائے یہ اکیسویں صدی کی بدقست روحیں
ہم جو مذہب کی راہوں میں مارے گئے