نا اہل قیادت کو خُدا حافظ

یہ 2017 کی آخری شام ہے اور  میں پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ کہیں کسی خود کُش دھماکے کا نشانہ نہ بن جاؤں ۔ یہ ایک بہت ہی درد ناک سال تھا جو اپنے اختتام کو پہنچا ۔ کیا یہ سچ ہے کہ نیا سال آرہا ہے ؟ نہیں ، نیا سال تو نئے لوگوں سے بنتا ہے ۔ اور نئے لوگوں کے طلوع کا ابھی دور دور  تک کوئی اشارہ نہیں مل رہا ۔ ہاں البتہ ایک نا اہل قیادت ہے جسے خُدا حافظ کہنے کے امکانات موجود ہیں لیکن:
جانے والوں کو کسی ڈھنگ سے رُخصت کرتے
آنے والوں کو بھی آرام دیا جا سکتا

میں ، آپ اور سب لوگ حتیٰ کہ اندھے بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ آخری ہچکی لیتا ہوا یہ سال 2017 دھرنوں، نا اہلیوں ، کرپشن کے مقدمات  ، عدالتوں کی توہین ، خود کُش دھماکوں ، سٹریٹ کرائم فیسٹیول اور ٹرمپ کی دھمکیوں کے باعث بہت بہت بوجھل اور مشکل گزرا ہے ۔ لیکن اس سال کی سب سے دل چسپ واردات نظریہ نواز شریف ہے جس کی وضاحت اور تشریح ابھی پردہ  راز میں ہے ۔ تاہم کچھ لوگ اس کا رشتہ عدل کی بحالی سے جوڑ رہے ہیں ۔ کون سا عدل ۔ یہ بات بھی ابھی صیغہ راز میں ہے ۔ لیکن اب سال کے آخری عشرے میں نواز شریف نے نعرہ  شیرانہ بلند کیا کہ آئین شکنوں کا احتساب ہوگا ۔ مجھے عباس اطہر مرحوم کا ایک شعر یاد آگیا ہے:
کس کس کا دامن پکڑو گے ، کس کس کو سمجھا ؤگے
اس طوفان کا رستہ کاٹ کے تن تنہا رہ جاؤ گے

مگر آئین شکنی کی تعریف کیا ہے اور اس کا اطلاق کس کس پر ہوگا  یا اس شیر کی دہاڑ کا ہدف صرف فوج ہے اور پھر کسی حد تک عدلیہ ۔ فوج یعنی جی ایچ کیو جو لگ  بھگ تیس سے چالیس برس تک ملک ِ خُداداد میں طاقت کا سرچشمہ رہی ہے اور تا حال ہے ۔   اور آئین شکنی کی تاریخ کا آغاز اکتوبر 1958 سے ہوتا ہے جس میں صدر اسکندر میرا کو معزول کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا گیا ۔ اور آئین جو تھا ہی نہیں منسوخ کر دیا گیا ۔ اور پھر بنیادی جمہوریتوں کا نظام رائج ہوا اوو ملک کو ایک آئین بھی مل گیا ۔ لیکن ایوب خانی جمہوریت سے بھی لوگ اُکتا گئے تو ایوب خان نے خود ہی اقتدار فوج کے بدنام جرنیل یحیٰ خان کے سپرد کیا اور چلتے بنے ۔ ایوب خان کی رُخصت کا اعلان استاد دامن نے یوں کیا :
سُن اور بھایا ، جاندیا راہیا
گیا ایوب تے آیا یحیٰ

یہ ایک مارشل لاء سے دوسری مارشل لا تک کا سفر تھا جو بخیرو خوبی انجام کو پہنچا ۔ اس دوران مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے نظریہ  پاکستان کو چکنا چور کرکے رکھ دیا۔ پاکستان کے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے ۔ تب ذولفقار علی بھٹو نے ایک نئے عہد کا آغاز کیا ، ملک کو ایک نیا اور متفقہ آئین دیا لیکن اس آئین کے پرزے اُڑانے کے لیے جنرل ضیا الحق نازل ہوئے اور  اُن کی قوال پارٹی میں میاں نواز شریف اپنے پورے خاندان کے ساتھ شامل تھے ۔ تاریخ میاں نواز شریف کو آئین شکنی کے جرم سے بری نہیں کر سکتی ۔ وہ ملکی آئین توڑنے والی پارٹی میں شامل تھے ۔ اسی آئین شکنی کی برکت سے خاندانِ شریفاں کو اقتدار کی بیساکھی ملی جسے اُنہوں نے خوب سنبھالا اور اپنی آہن گری سے اُسے بیساکھی سے سونے کی جادوئی چھڑی میں تندیل کردیا جس نے وہ وہ کمالات دکھائے کہ دنیا امگشت بدبداں رہ گئی ۔

تاریخ گواہ ہے کہ شریف شاہی جنرل ضیا کی آئین شکن حکومت کا حقیقی تسلسل تھی اور ہے اور ملک پر جب سے اب تک  آئین شکنی کی حکومت ہے ۔ جیسا کہ ضیا الحق نے ایک بار کہا تھا کہ یہ آئین  ، یہ کاغذ کے پرزے ، میں انہیں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں اور نیا آئین لکھ لوں ۔ بالکل اسی فلسفے اور نظریے کے مطابق ملکی آئین شریف خاندان کے لیے کاغذ کے چند پرزے ہیں جنہیں وہ توڑتے مروڑتے رہتے ہیں ۔ اور سیاستدانوں کے ضمن میں ضیا نے کہا کہ یہ دم ہلاتے ہوئے اپنے مفادات کی ہڈی پر جھپٹیں گے ۔ شریف خاندان نے دُم ہلانے والوں کی ہڈیوں کا باقاعدہ راشن مقرر کر رکھا ہے جس کے ذریعے اقتدار اُن کی تجوری میں رہتا ہے ۔ کتنی دل چسپ تاریخ ہے ہماری کہ ہم نے ایک آئین شکن فوجی آمر کے ہاتھ چومے ، اُن کو امیر المومنین تک قرار دیا  اور اب آئین شکنی کی سزا کا استغاثہ لے آئے ہیں ۔ ماشا اللہ ۔ بہت اچھی بات ہے مگر اس آئین شکن قوال پارٹی کے ہمنوا اور تالی بجانے والے آپ تھے اور آئین شکنی کے ذمہ دار بھی آپ ۔ چنانچہ بصد شوق اپنے پھانسی کا ریشمی پھندا بنوا لیجیے جس پر شہر کی تصویر بنی ہو ۔

2017 کے اس آخری عشرے میں جو کچھ جس تیزی سے ہوا وہ ناقابلِ فہم ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ ، فوجی ایسٹیبلشمنٹ اور مذہبی اجماع سب اُتنے ہی نالائق اور نا اہل ہیں جتنا کہ نواز شریف ۔ کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کیا ہے ۔ مولانا طاہر القادری پچھلے تین سال سے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں  لیکن وہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خصوصی رابطوں کے دعوؤں کے باوجود  ماڈل ٹاؤن کے چودہ مقتولین کے ورثا کو انصاف نہیں دلوا سکے ۔ کیلنڈر کا 17 کا ہندسہ 18 ہوگیا تو کیا ، وقت گھڑی کی ٹک ٹک ہے اور گھڑی کسی کی پرواہ نہیں کرتی ۔ وہ چلتی رہے گی ۔ 18، 19، 20 مگر اس ملک اور قوم کے جملہ حکمرانوں میں اتنا دم نہیں کہ وہ ملک میں تبدیلی لا سکیں اور تبدیلی کے نعرے تبدیل نہیں ہوتے ۔

عوام کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں ۔  اور جو 2017 میں بیتی وہی 18 میں بھی بیتے گی ۔ بایں ہمہ مجھے دعا کرنی ہے ، اُن کے لیے جو پاکستان کا مستقبل ہیں ۔ وہ کون ہیں ۔ میں نہیں جانتا مگر وہ ہیں ، ہوں گے اور رہیں گے ۔ انشا اللہ