نُون لیگ کی پارٹی آمریت
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 20 / جنوری / 2018
- 9556
پاکستان میں کون سا طرزِ حکومت رائج ہے؟
حکمرانوں کے محاورے میں یہ جمہوریت ہے جو بیس کروڑ لوگوں کے ووٹوں سے وجود میں لائی گئی ہے ۔ لیکن عوام اپنی زبانِ حال سے اسے نظریے کی تردید کرتے ہیں اور اسے نون لیگ کی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں جو یہ اپنی نوعیت میں بالفعل ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کا واحد مقصد حکمران خاندان کے اقتدار کی رسی کو دراز رکھنا ہے ۔ یہ طرزِ حکومت ایک بڑا کمرشل کمپلیکس ہے جس میں پورا انتظامی ، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ پارٹی کا تنخواہ دار ہے ۔
اس نظام میں مراعات کے عوض سیاسی ہم نواؤں کی قوال پارٹی منظم کی جاتی ہے جو خوشامد گاتی ہے اور معاوضے میں عہدے ، پلاٹ ، زرِ نقد اور لاقانونیت کا لائسنس حاصل کرکے من مانی کرتی رہتی ہے ۔ اس نظام کے تحت تمام عہدے چپراسی سے لے کر ادارے کے سربراہ تک بکتے ہیں اور اہل لوگ اپنی بد قسمتی پر کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے ۔ اس نظام کا سب سے مکروہ طبقہ اَنٹیلی جنشیا کا ہے جو اپنے کالروں پر دانشوری کے تمغے سجائے قحبہ خانوں کی نائکاؤں کی طرح قلم سے پیشہ کرواتا ہے ۔ اور چونکہ یہ نظام حکمران پارٹی کی آمریت ہوتا ہے اس لیے اُن کو عام آدمی کے حقوق کا خیال نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اپنے نااہل وجود کو ہی جمہوریت کا نام دے کے کر اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں ۔ یہ نظام یقیناً ایک نظریاتی نظام ہے جس کا واحد مقصد سیاست کو تجارت میں بدلنا ہے تاکہ اسے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر مستحکم کیا جا سکے ۔
اس ملک کی سیاسی قوال پارٹی بھاری مینڈیٹ اور ووٹ کی بے حرمتی کا رونا اس لیے روتی ہے تاکہ اُس سے وہ اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ کرے ، ورنہ پاکستان کے عام آدمی سے حکمرانوں کا رشتہ برائے نام ہے جسے وہ لفظوں میں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں جس کی کوئی ارضی حقیقت نہیں ہوتی ۔ یہ لوگ ووٹر سے کیے ہوئے وعدے جب پورے نہیں کرتے تو حرام کی کھاتے ہیں اور اپنی نجس کمائی چھپانے کے لیے دوبئی، کویت اور لندن میں خفیہ تجوریاں رکھ لیتے ہیں جن میں یہ نجاست جمع ہوتی رہتی ہے۔ اور جب ان میں سے کسی پر اپنے ملک میں بپتا پڑتی ہے یا وہ حالات کے شکنجے میں کسے جاتے ہیں تو اپنی خریدی ہوئی شہریتوں کا شناخت نامہ لے کر غیر ملکی بن جاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی اخلاق باختگی کا بھی اپنا ضابطہ ء اخلاق ہوتا ہے جس کا واحد مقصد اپنی پارٹی آمریت کو تحفظ دینا ہوتا ہے ۔ اس نظام میں جرائم کی ذمہ داری بھی مظلوموں اور مجبوروں پر ڈال دی جاتی ہے جس کی ایک تازہ مثال آزاد کشمیر کے صدر کا احمقانہ بیان ہے جس میں موصوف نے قصور کی زینب کی موت کا ذمہ دار اُس کے والدین کو قرار دیا ہے ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ میاں صاحب ، آپ اپنے کشمیر کی فکر کریں اور سرحد کے اس پار کشمیریوں کی فکر کریں جن کے ساتھ ہر روز ریاستی دہشت گردی ہوتی ہے مگر آپ ان کو بھول کر نااہل شریف کی حمایت میں جہالت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کیوں بلا وجہ ایک مظلوم بچی کی عصمت دری اور قتل کے غم میں دُبلے ہوئے جا رہے ہیں۔ شاید ان احمق حکمرانوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومتِ وقت کی اولیں ذمہ داری ہوتی ہے اور آپ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کے بہانے تلاش کرنے کی کوشش میں ایک دکھی خاندان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں ۔
پاکستان میں ملک سے غداری کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے ۔ ہر کھاتا پیتا خاندان پاکستان سے باہر دوبئی، کویت ، لندن ، ترکی اور امریکہ میں اپنا اپنا پاکستان بنائے ہوئے ہے جس میں اُن کی پاکستانیت سونے کے پلنگ پر سوتی ہے۔ بیماری کی آڑمیں وہ یورپ میں قیام کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں کراچی میں ملیر ایریا کے ایک پولیس افسر راؤ انوار کو پولیس مقابلے میں ایک نوجوان کو ہلاک کرنے کے جرم پر عہدے سے ہٹایا گیا تو اس نے بھاگ کو دوبئی جانے کی کوشش کی جسے بروقت روک دیا گیا ۔ یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ موصوٖف دوبئی کے "عادی" مسافر جو بیک وقت پاکستان اور دوبئی میں رہتے ہیں اور خُدا جانے وہاں دوبئی میں ان کا پاکستان کتنے بڑے حجم کا ہے۔ دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسروں کا ایک پورا گروہ ہے جن کی صحیح تعداد کا تو اندازہ نہیں مگر وہ کرپشن کے چوہوں کی طر ح پاکستان کے وجود کو کُترتے رہتے ہیں اور لے جا کر دوسرے ملکوں میں تعمیر اپنے بلوں میں چھپا دیتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ اس ادارے کی سرپرستی میں ہوتا ہے جسے قومی اسمبلی کہا جاتا ہے ۔
ان اسمبلیوں سے لے کر وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان تک دوہری شہریتوں والے پاکستانی ہر جگہ موجود ہیں جو پاکستان سے باہر اپنا اپنا پاکستان چھپا کر رکھتے ہیں اور اسے وہ اپنا کاروباری حق سمجھتے ہیں اور اپنے طرزِ عمل پر نہ شرمندہ ہوتے ہیں نہ اسے ناجائز سمجھتے ہیں ۔ پارٹی ڈکٹیٹر شپ کے نظریے کا حامل یہ پاکستان دشمن گروہ پاکستان میں سیاست کو کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور موٹر وے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو پاکستان کی ترقی کا واحد ذریعہ قرار دیتا ہے حالانکہ بھوکا آدمی نہ موٹر وے کھا سکتا ہے نہ ننگا پاکستانی اورنج بس پہن سکتا ہے اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جن لوگوں کے لیے یہ بسیں بنائی جا رہی ان کے پاس ان بسوں میں سفر کرنے کی استطاعت بھی ہے یا نہیں ۔ مگر ان سڑکوں اور بسوں کے گن گاگا کر حکمران طبقہ اپنے لیے اگلے انتخابات جیتنے کی ضمانت لینا چاہتا ہے اور جہاں جماعتی آمریت ہو وہاں ایسا ہی ہوتا ہے ۔
وہاں آئینی عملداری ہوتی ہے نہ کوئی قانونی نظام جس کی وجہ سے لوگ قانون کی حکمرانی کے تصور سے ہی نا آشنا ہوتے ہیں ۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ صورتِ حال کب ختم ہوگی اور تبدیلی کب آئے گی ۔