میڈیا تماشا

ہم پنجابی طبعاً ، مزاجاً اور روایتاً بڑے زندہ دل تماشائی ہیں ۔ میں نے اپنے بچپن سے کُتوں کی آپس کی لڑائی ، ریچھ کُتّوں کے معرکے ، سانپ نیولے کی جنگ ، بٹیروں ، مرغوں اور مینڈھوں سے لے کر گاؤں  کے "شریکوں" تک کی لڑائیاں دیکھی ہیں ۔ اس قسم کی لڑائیاں دیکھنے اور اُن میں نفسیاتی فریق بننے کا ہم سب کو تجربہ ہے ۔ میں نے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں پر اُنگلی اُٹھانے کی جسارت نہیں کی کہ کہیں میرے سندھی ، بلوچ اور پٹھان دوست مجھ پر متعصب پنجابی ہونے کا ٹھپہ نہ لگا دیں ۔ آپ ہم سب اپنی اس عادت سے واقف ہیں کہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور ملعون قرار دینے میں ہم ذرا سا بھی توقف نہیں کرتے کیونکہ پچھلی کئی صدیوں سے ہماری جو سائیکی بنی ہے ، وہ ہمارے لاشعور کا حِصّہ ہے اور ہم من حیث الاجتماع " وما یشعرون" کی کیفیت میں رہتے ہیں اور شعورسے ہر گز کام نہیں لیتے ۔

اب ہمارے یہاں سانپ نیولے کی لڑائی پرنٹ میڈیا سے نکل کر الیکٹرانک میڈیا کے دور میں داخل ہو گئی ہے اور ہم معصوم بچیوں کی عصمت دری کرکے اُن کے نابالغ جسموں کو مسلتے ، بھنبھوڑتے اور  اُن وحشیانہ مناظر کی ویڈیو فلمیں بنا کر اُنہیں برقی میڈیا پر پھیلاتے ہیں ۔ اس حد تک کی اخلاق باختگی  کا تو مجھے علم ہے لیکن اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ یہ پورنو گرافی بین الاقوامی بزنس ہے جس سے کروڑوں ڈالر کمائے جاتے ہیں ۔ یہ بات میرے علم میں نہیں ہے اور وہ اس لیے کہ میں ایک گنوار پنجابی ہوں اور عمر کے اُس موڑ پر ہوں جہاں آدمی کے پاؤں قبر میں ہوتے ہیں اور جسم چتا میں ہے ۔ چنانچہ جدید قسم کی تحقیقاتی صحافت میرے بس کی بات ہی نہیں ۔ ایسا کام کرنے کے لیے بڑے دل ، گُردے ، جگر بلکہ مضبوط پھیپھڑوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کا میں متحمل نہیں ہو سکتا ۔ لیکن حال ہی میں مجھے کچھ ایسی تحقیقاتی صحافت  کا ناگوار ذائقہ چکھنے کا موقع ملا ہے جس نے میرے کام و دہن میں تلخیاں گھول دی ہیں ۔

اس قسم کی ایک خبر تو میرے محترم بھائی ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہے جو بطور ڈاکٹر اپنے چیر پھاڑ کے اوزار انسانی بدن کی جراحی کے بجائے مذہبی مرتدوں ، مصنوعی مومنوں اور جعلی سیاستدانوں پر آزماتے ہیں اور ہمیشہ سیاسی مردوں کی چیر پھاڑ پر مصروف رہتے ہیں ۔ جب وہ نیوز ون پر اپنے شو میں بولتے ہیں تو اُن کا انداز موہ لینے والا ہوتا ہے ۔ وہ جس کو بھی چرکے لگاتے ہیں اُس کو پہلے اپنا بھائی ، بہن یا دوست قرار دیتے ہیں ، اُسے اچھا آدمی قرار دیتے ہیں۔ جیسے میری بہن مریم صفدر اور میرا بھائی طلال چودھری وغیرہ وغیرہ اور پھر وہ اپنے ممدوحین کے لتّے لیتے ہیں ۔ اُن کا تازہ تحقیقی معرکہ قصور کی زینب کے ریپ اور قتل کے مبینہ ملزم عمران علی کے بنک اکاؤنٹس کی کھوج ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی تحقیق کے مطابق اُس ملزم کے درجن بھر بنک اکاؤنٹ ہیں جن میں کچھ غیرملکی کرنسی کے اکاؤنٹ بھی ہیں ۔ اب میڈیا کے ذریعے پورا پاکستانی ڈایا سپورا یہ بات جان چکا ہے کہ ڈاکٹر شاہد نے یہ بات عدالتِ عظمیٰ کے کان میں بھی ڈال دی اور وہ دو بڑے نام بھی بتا دیئے جو ملزم کی سرپرستی یا پشت پناہی کرتے ہیں ۔

ڈاکٹر صاحب کی اس تحقیق پر مختلف صحافتی حلقوں سے الگ الگ ردِ عمل سامنے آیا ہے ۔ کسی صحافی نے اس خبر کو من گھڑت قرار دیا اور اسے سوچی سمجھی شرارت یا سازش قرار دیا بلکہ پنجاب حکومت کے ترجمان نے ایک خصوصی پریس کانفرنس میں سٹیٹ بنک کے حوالے سے یہ بیان جاری کیا کہ عمران علی کا کوئی بنک اکاؤنٹ  ہےہی نہیں  اور یہ خبر سرے سے ہی غلط ہے ۔ میرے لندن کے صحافی دوست تاج جاوید کا کہنا ہے کہ غلط خبروں کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور جنگ اور نوائے وقت سمیت سارے اخبارات میں غلط خبریں چھپتی رہی ہیں لیکن اس پر اخبارات بند نہیں ہوئے مگر ڈاکٹر شاہد مسعود اخبار نہیں حکومت کی نظر میں خُدائی فوجدار ہیں جن کی بات زود ہضم نہیں ہے ۔ کچھ ایسی ہی بات "ڈان" سے منسلک دوست انور اقبال نے کہی کہ ہم سے ڈان میں کئی بار ایسی غلطیاں ہوئی ہیں مگر دانستہ نہیں ۔ اور غلط خبر کی تردید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اس لیے اس گرد  کو مرحلہ اور غلطی کو مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

میں نے لاہور میں نیوز ڈیسک کے کارکن کے طور پر یہ بھی دیکھا کہ حکومت بعض اوقات نا پسندیدہ خبر کی اشاعت روکنے کی کوششیں بھی کرتی ہے۔ ایک بار محکمہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائیریکٹر نے فرمائش کی کہ فلاں آئیٹم کِل کر دیا جائے تو نیوز ایڈیٹر مرحوم عباس اطہر نے کہا کہ اُن کے پاس خبر چھاپنے کی اتھارٹی تو ہے مگر روکنے کی نہیں ۔ لیکن میرے محترم دوست شاہد مسعود کا مسئلہ الگ ہے ۔ ہر چند کہ میں ان کا بڑا مداح ہوں لیکن عمران علی کے بنک اکاؤنٹوں کے حوالے سے ان کی خبر متنازعہ بن گئی ہے جس کے ذمہ دار وہ خود ہیں ۔ یعنی قہرِ صحافی بر جانِ صحافی ۔ اگر خبر غلط ہے تو اس کی ذمہ داری خود اُن پر ہے اور اگر درست ہے تو اُس کا  بوجھ بھی وہ اپنے کندھوں پر ہی اٹھائیں گے کیونکہ سچ کی قیمت بعض اوقات منصور اور سقراط جتنی ہوتی ہے ۔

میں  نہیں جانتا کہ پنجاب حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شاہد مسعود کی تحقیق کو اگر جھوٹ قرار دے رہے ہیں تو کیا وہ جانتے ہیں کہ کسی بات کو بلا تحقیق آگے بیان کرنا بہت بڑا جھوٹ ہوتا ہے اور جھوٹ کے بارے میں کتاب میں لکھا ہے :
لعنتہ اللہ علی الکاذبین
لیکم میرے مرشد عبد الحمید عدم کہہ گئے ہیں :
جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے
کون سچ کہہ کے دار پر لٹکے

لیکن بایں ہمہ ، میڈیا تماشا جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ جھوٹ کے بے نقاب ہونے پر چیخنا چِلّانا تو ہوتا ہی ہے ، لیکن  سچ بولنے والے اپنا رویہ نہیں بدلتے ۔ تاہم میں یہ بات وثوق سے نہیں کہ سکتا کہ جھوٹ کون بول رہا ہے کیونکہ میں میڈیا تماشے کا ایک دور افتادہ تماشائی ہوں ، تماشہ نہیں ہوں ۔