اِداروں کا تصادم

کبھی کبھی لگتا ہے کہ پاکستان کسی گھر کا ایسا آنگن ہے جس میں جھاڑ چوہے کا کانٹا دفن ہے جس کے سبب اس گھر میں ہر وقت جوتیوں میں دال بٹتی ہے ، پگڑیاں اُچھلتی ہیں ، جُگتیں تیروں کی طرح چھٹتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی ہوتی ہے ۔ مذہبی اور سیاسی کارکنوں کی ایک فوجِ طفر موج ہے جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہے ۔ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کوستی ہے اور حزبِ اختلاف حکومتِ وقت کے لتّے لیتی ہے ، پولیس مقابلہ ایک عام سی بات ہے ۔ دھرنے ، کنٹینر ، بد کلامی ، ٹی وی ٹاک شوز میں مونہہ زبانی ہاتھا پائی ہمارا روز مرہ ہے اور یہ اکیسویں صدی کے برقیاتی دور کا مسلمان ملک ہے جسے نظریاتی طور پر حاصل کیا گیا تھا مگر وہ نظریہ اپنی بھانت بھانت  کی تعبیروں میں قتل ہو کر رہ گیا ہے ۔

یار ، کیا ہمارا مقدر یہی ہے کہ ہم ہمیشہ ایک سی فرسودہ ، بدبودار اور جھوٹی باتیں کرتے رہیں ، فرضی ترقی کے فسانے گھڑتے رہیں  جبکہ ملک میں ترقی محض چند خاندانوں کے مالی مفادات کا نام بن کر رہ گیا ہو ۔ حکمران ترقی ترقی ترقی کی تسبیح خوانی کرتے نہیں تھکتے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ترقی کا لفظی وظیفہ ترقی نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ کوئی شاعرانہ تصور ہے کہ آپ نے ترقی پر نظم لکھ دی ، سیمینار ترتیب دے لیا یا ترقی پر کوئی ٹی وی شو کردیا اور ترقی ہوگئی ۔ ترقی کرنا اور ترقی پسند ہونا الگ الگ باتیں ہیں۔ عدم صاحب نے کہا تھا "
کام کے لوگ تو بصد دقت
ہر زمانے میں چند ملتے ہیں
ورنہ اس خوش نصیب دنیا میں
سب ترقی پسند ملتے ہیں

اور ہمارے سیاسی رہنما  تو بڑے ہی ترقی پسند ہیں ۔ مثال کے طور پر  آج ہی پاکستان کے معزول  و نااہل سابق وزیر اعظم  اور دلوں کے تا حیات وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی میں بڑی دھواں دھار تقریریں کیں اور ترقی کے فسانے سنائے ۔ اُن کا سب سے بڑا گلہ یہ تھا کہ اُنہیں عوام کی خدمت کرنے سے روکا گیا ۔ کون سی خدمت ۔ صفائی کی خدمت جو نصف ایمان ہے اور میرے دوست ماسٹر گام کا کہنا ہے کہ صفائی میں سب سے اعلیٰ درجے کی صفائی وہ ہے جس میں آپ عوام کے بیت المال کی صفائی کردیں ۔ میں نے اسے ماسٹر گام کی جگت سمجھ کر نظار انداز تو کر دیا  ہے ،  لیکن ایک منٹ ۔ کراچی میں  میاں نواز شریف کے نااہل ہونٹوں سے جو تقریر پڑھ کر وکلاء کو سنائی گئی ہے ، وہ لکھنے والے نے پورا ہوم ورک کرکے لکھی تھی ۔ میاں محمد نواز شریف نے پاکستان میں پارلیمانی حکمرانی ، مارشل لاؤں اور عدلیہ کی جمہوریت دشمنی کا پورا جائزہ لیا اور مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے الگ الگ دائرہ  اختیار کی بات کی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ ادارے تین سے بڑھ کر اب پانچ ہو چکے ہیں اور باقی کے دو ادارے عسکریہ اور مذہبیہ بھی  ہیں جب کہ چھٹا  اور حتمی ادارہ عوامیہ ہے جو ان سب اداروں کی ماں ہے ۔

یہ وہ مادر ادارہ ہے جو نہ ہوتا تو پاکستان بنانے یا نظریہ ء پاکستان وضع کرنے کی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔ مگر ہم نے مشرقی پاکستان عوامیہ سے  جو جمہوری سلوک روا رکھا وہ ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے کافی  سے بھی کچھ سواہے۔ مگر ہم شرمندہ ہونا جانتے ہی نہیں ۔ ہم نے یہ کام سیکھا ہی نہیں کیونکہ جب ہم شرمندہ ہونے لگتے ہیں تو بریانی یا نہاری کا وقت ہو جاتا ہے اور ہم پھر ترقی کی باتیں کرنے لگتے ہیں کیونکہ ہم ترقی پسند ہیں اور اب نظریاتی بھی ہو چکے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہم نے عوام کی خدمت کی ہے۔ عوام کی خدمت کا نظریہ یہ ہے کہ موٹر وے بناؤ ، پُل بناؤ ، میٹرو چلاؤ ، سی پیک بناؤ ، سو یہ بن گیا ہے ۔ کیا یہ تبدیلی نہیں ۔ یہی تو تبدیلی ہے مگر عمران خان کی کمزور آنکھیں یہ نہیں دیکھ سکتیں تو اس کی ذمہ دار نون لیگ تو نہیں ۔ کرکٹ کپتان کو اپنی آنکھوں کا علاج کروانا چاہیے اور اگر اُس کا شوکت خانم ہسپتا ل اس کی آنکھوں کا علاج نہیں کر سکتا تو وہ اسے نون لیگ کے حوالے کردے جو ہسپتال بھی چلائے گی اور کے پی کے میں موٹر وے بنا کر میٹرو اور اورنج بسیں بھی چلائے گی اور تب آئے گی تبدیلی ۔

میاں صاحب آج بہت غمزدہ تھے کہ اُنہیں گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کہا گیا اور اُن کی توہین کی گئی جو مقننہ کی توہین تھی ۔ اور جب ایک ملکی ادارہ دوسرے کی توہین کا حق رکھتا ہے تو دوسرے ادارے کو جوابی کاروائی کے طور پر توہین کا حق حاصل ہے ۔ یہ ہے انصاف کی بات  ۔ یعنی  میاں نواز شریف کی بات میں دم  ہے کہ جیسے کو تیسا ، یعنی  جیسا کروگے ویسا بھرو گے ۔ میاں صاحب نے اپنی حکومت کی شاندار  کارکردگی کا جی بھر کے قصیدہ پڑھا اور اپنے مونہہ میاں مٹھو بنتے ہوئے وہ بڑے معصوم لگ رہے تھے اور اُن کی طرزِ تقریر ، خطباتی  تدبر اور اُن کے ہمت و حوصلے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اُنہیں اس بات کا پورا یقین ہو  کہ اگلے پانچ سالوں کے اقتدار کی چوری اُن کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ اور کون جانے یہ ایسا ہی ہو کیونکہ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ جو دنیا کا طالب ہو ہم اُسے دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ۔ ہم نظریاتی مسلمان ہیں اور ہمارے اقرار باللسان کی فکری و نظریاتی متاع یہ بتاتی ہے کہ یہ دنیا گلو بٹ اور اسحاق ڈار کی ہے جو اسلام پر عمل پیرا ہونے سے زیادہ منافع بخش ہے ۔  اور پھر خُدا کی جنت کس نے دیکھی ہے ۔ اقبال کہہ گئے ہیں:
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کے مانند

اور اسی لیے میاں صاحب نے قریہ  افرنگ میں لندن میں اپنے بیٹوں کے لیے جنت کے محل بنا لئے ہیں تاکہ اںہیں اللہ  اسی دنیا میں وہ سب کچھ دے جس کے وہ حقدار ہیں ۔ یہ وہی سب کچھ ہے جو جاتی اُمرا سے لے کر لندن فلیٹس تک پھیلا ہوا ہے کیونکہ حکمرانوں کی یہی جمہوریت ہے اور اُنہیں یہ جمہوریت مبارک ہو ۔  اور  باقی رہے عوام ، تو وہ  گدھا خور  اپنے مقدر پر شاکر رہیں اور جنت کا انتظار کریں ۔