عوام کی عدالتیں
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 26 / فروری / 2018
- 8494
اہلِ پاکستان کو مژدہ ہو کہ عدلیہ کی سہولت کے لیے نُون لیگ نے عوامی عدالتیں قائم کر دی ہیں تاکہ سرکاری عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو سکے ۔ شاید تحریکِ عدل کا یہی مطلب ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔ چنانچہ لوگوں کو اس عوامی عدل کی مثال پیش کرنے کے لیے میاں نواز شریف ٹیسٹ کیس کے طور پر اپنا کیس عوام کی عدالت میں لے گئے ہیں اور اس کیس میں مدعی بھی نون لیگی لیڈر ہیں ، عدالت بھی وہ خود ہیں اور خود ہی فیصلہ دے کر سامنے کھڑی بھیڑ سے تائید لے لیتے ہیں کہ فیصلہ منظور ہے ۔
اس پر مکھیوں کی بھنبھاہٹ جیسی آواز وں کا ترجمہ بھی خود ہی کرتے ہیں کہ عوام نے اپنا فیصلہ دے کر سرکاری عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے ۔ نظام عدل کی کیسی خوبصورت اور تابناک مثال ہے جس کا نقشہ نُون لیگ کے نظریاتی پہلوان پیش کر رہے ہیں ۔ غالباً یہ وہی طریقِ کار ہے جو جنرل ضیا الحق نے اپنے ریفرنڈم میں استعمال کیا تھا کہ عوام اسلام کے ساتھ ہیں یا نہیں ۔ یا وہی امریکی پیڑن ہے جس میں کولن پاول کہتا ہے کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف ہیں ۔ بات سے بات نکلتی ہے اور نون کے مرکزی نقطے سے نقطہ برامد ہوتا ہے کہ جمہوریت میں پارٹی لیڈر مطلق العنان آمر ہوتا ہے جس کے مونہہ سے نکلا ہر لفظ لوہے پر سونے کی لکیر ہوتا ہے ۔ چنانچہ اگر وہ سیاہ کو سفید کہے تو وہ سفید ہی ہے کیونکہ جمہوریت کے ج کا نُقطہ ن کے نقطے کی طرح وہ نقطہ ہے جس پر ہر "گل مُکدی اے " ، ہر تان ٹوٹتی ہے اور ہر فیصلہ مبنی بر عدل ہوتا ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو بُلھے شاہ نے کہی کہ:
ہک نُقطے وچ گل مُکدی اے
چنانچہ مستقبل میں انصاف اسی طرح ہوگا کہ جب کوئی چور اپنے تین نقطوں والی چوری کرے تو اپنے پیٹی بند چور بھائیوں کو جمع کر کے پوچھے کہ آپ گواہی دیتے ہیں کہ جو کام میں نے کیا ہے وہ چوری نہیں کاروبار ہے ۔ اور پھر اُن کا جوابی شور سُن کر وہ اعلان کرے کہ عوامی عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے کہ " میں چور نہیں ہوں " ، بلکہ خادمِ مُلک و مِلّت ہوں اور اگر سرکاری عدالت مداخلت کرے تو اُس کو یہی جواب دیا جائے کہ جب عوامی عدالت نے مجھے بری کر دیا ہے تو ایک ، تین یا پانچ جج ہوتے کون ہیں مجھے مجرم قرار دیتے والے ۔ لہٰذا یہ عوامی عدل و انصاف اُس نظامِ عدل کا نیلا خاکہ ہے جسے نون لیگ دوبارہ منتخب ہو کر نافذ کرے گی تاکہ نہ رہے سرکاری عدالت اور نہ چلے کسی پر کرپشن کا مقدمہ ۔ یعنی نون لیگ اگر میم لیگ بن کر اُبھرے یا کاف لیگ کا لاحقہ اختیار کرے تو بھی جرائم اور تنازعات کے فیصلے چوراہوں ، سڑکوں، اکھاڑوں، سکولوں اور گھروں کے آنگنوں میں ہوں گے ۔ واہ کیسی سچی جمہویت ہو گی ۔ ہر تنازعے اور مقدمے سے پاک فرشتوں کی جمہوریت ۔ ماورائے عدل عدالت۔
لیکن بعض بیوقوفوں ، جاہلوں ( نا اہلوں کو نہیں ) اور ٹاک شوز کے باتونیوں کو اعتراض ہے کہ معاشرے کو انارکی کے راستے پر ڈالا جا رہاہے ۔ اُن کا استدلال یہ ہے کہ قانون کے چُنگل سے نکلنے کے حیلے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں جو قانون کی حکمرانی کے خلاف سازش ہے ۔ لو سُن لو ! بھئی آپ کو اپنے خالص جمہوری حکمرانوں پر اعتماد ہونا چاہیئے ۔ وہ نظریاتی لوگ ہیں اور اپنی قوم سے کبھی بے وفائی نہیں کر سکتے ۔ لیکن قوم کو اُن کے نجی اور ذاتی کاروباری معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیئے ۔ یہ تو اُن کے گھر میں گھُس کر چادر اور چاردیواری کی بے حُرمتی کی بات ہوئی کہ حکمرانوں کے باورچی خانوں میں گھُس کر اُن کی بریانی اور نہاری کو نظر بد لگا دی جائے ۔ جی ایسا نہیں ہوگا اور نہ ہونے دیں گے ۔ یہ تو چادر اور چاردیواری کے ساتھ بریانی اور نہاری کی بھی بے حُرمتی ہے اور جمہوریت میں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ یہ نظام تو ملک کے کھاتے پیتے متمول گھرانوں کا مقبول نظام ہے لیکن اِن میں ملک کے وہ دس کروڑ لوگ شامل نہیں ہیں جن کی رسائی خطِ غربت تک بھی نہیں ہے اور جن کے تین ساڑھے تین کروڑ بچے بھی سکول نہیں جاتے، بالکل غیر ضروری لوگ ہیں جن کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور بے روزگار نوجوانوں کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملکی معیشت پر بوجھ بنیں ۔
یہ غیر ضروری لوگ تو ملکی معیشت خراب کر رہے ہیں کیونکہ وہ اتنے کاہل ہیں کہ نہ کرپشن کر سکتے ہیں نہ منی لانڈرنگ ۔ معیشت پر بوجھ بننے والے یہ لوگ جرائم پیشہ ہوتے ہیں کیونکہ غُربت، بے روزگاری ، جہالت ، بیماری ، کسمپرسی اور مجبوری بہت بڑے بڑے سنگین جرائم ہیں ۔ اتنے بڑے اور سنگین کہ اُن کی وجہ سے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے حکمران جمہوریت کے ذریعے عوام کی خدمت نہیں کر سکتے اور نہ ہی خارجہ پالیسی وضع کر سکتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ چار سال تک پاکستان میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان ہی نہیں تھا ۔ اِن غریبوں یعنی جعلی اور غیر ضروری عوام کی وجہ سے حقیقی عوام کی منتخب حکومتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں ۔
اور یہ حقیقی عوام ہیں کون۔ جی حضوریے ، خوشامدی اور بریانی و نہاری پسند لیڈروں کے مداح پارٹی کارکُن، مالشیئے دانشور اور وہ ووٹر جن کے ووٹ کی قیمت قیمے کے دو نان ہیں ۔