اور پھر وہی کہانی
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 04 / مارچ / 2018
- 9347
پاکستان ، کون سا پاکستان ؟ لیکن موجودہ پاکستان وہ تو نہیں جو 14 اگست اُنیس سو سنتالیس کو وجود میں آیا تھا ۔ وہ پاکستان تو 16 دسمبر کو 1971 میں فوجی گولیوں کی بوچھاڑ میں چھلنی ہو کر ٹوٹ گیا تھا ۔ یہ تو بچا کھچا پاکستان ہے جو اب پانچ قومیتوں پر مشتمل ہے ۔ پنجابی ، سندھی ، پٹھان ، بلوچ اور مہاجر ۔ کشمیریوں کا ذکر فی الحال رہنے دیتے ہیں کیونکہ وہ ستر برس سے تنازعے کی آگ میں جل رہا ہے ۔
مہاجر قومیت خود کو پاکستان ساز کہتی ہے لیکن اُن کا وہ سیاسی باپ جو لندن میں روز بروز موٹا بلکہ پھول کو کُپّا ہوتا چلا جا رہا ہے ، بر طانوی شہری ہے لیکن اُس کے پیروکار پاکستان کو مہاجر کیمپ بنائے بیٹھے ہیں اور ہر روز پاکستانیوں کو یہ احسان جتلاتے ہیں کہ اُن کے امی ابّا نے پاکستان بنایا تھا ۔ بے حد شکریہ جناب ، آپ پاکستان نہ بناتے تو بنگلہ دیش بھی نہ بنتا نہ کشمیر کا تنازعہ کھڑا ہوتا اور نہ ہی بھارت سے پانچ سات جنگیں لڑنا پڑتیں۔ اور بے چارے پاکستانی جن کو آپ نے پاکستان تحفے میں دیا ہے ، آخر کہاں جاتے۔ لیکن آپ یہ بتائیں کہ آپ مہاجر کیمپ سے پاکستان کب منتقل ہوں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاریخ کی کتابوں میں کھو گیا ہے اور کسی کو نہیں مل رہا ۔ شاید را کے کسی ایجنٹ کو ، جو لندن میں بیٹھا ، بھارت سے مدد طلب کرتا رہتا ہے ، اس سوال کا جواب معلوم ہو ۔
پاکستان کی یہ پانچوں قومیتیں الگ الگ لسانی اور سماجی قومیتیں ہیں جو مذہب کے کچے دھاگے میں بندھی ہیں اور سانس لینے میں ٹُوٹ کر بکھر جاتی ہیں ۔ یہ قومیتیں ایک دوسری سے بزرگ و برتر ہیں لیکن مہاجروں کی زبان جسے وہ خود بھی بھولتے چلے جارہےہیں ، کاغذوں میں ہماری قومی زبان ہے ، ہماری لنگوا فرانکا ہے ، ہماری رابطے کی زبان ہے لیکن سرکاری اداروں کی زبان اب بھی انگریزی ہے۔ ہماری یہ سرکار اب بھی نصف لندن میں رہتی ہے اور نصف جاتی اُمرا میں ، چوتھائی دوبئی میں ہے اور باقی چوتھائی یا تو ترکی میں یا سعودی عرب میں لیکن اس کے ڈانڈے سرحد کے اُس پار امرتسر میں اُس جاتی اُمرا سے ملتے ہیں جو لاہور والے جاتی اُمرا کی سگی ماں اور اقامہ داروں کا قبلہ ہے ۔ اُن حکمرانوں کے بارے میں جو دولت میں کھیلتے ہیں ، سونے کے چمچے سے چاندی کی پلیٹوں میں بریانی کھاتے ہیں ، ایک فارسی شاعر نے کیا خُوب کہا ہے :
منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
ہر جا کہ رفت ، خیمہ زد و بارگاہ ساخت
( امیر آدمی کہیں بھی غریب الوطن نہیں ہوتا ، وہ پہاڑ پر ہو ، دشت میں ہو یا بیابان میں اپنا کنٹینر رکھ کر دربار لگا لیتا ہے ۔)
چنانچہ دولت وہ بادشاہ گر ہے جو میاں محمد شریف کی طرح کسی صاحبِ منصب کو معزول نہیں ہونے دیتی ۔ نااہل ہونے کے باوجود وہ اہل رہتا ہے اور اُس کے درباریوں اور خوشامدیوں میں اُسی کے نام کا سکہ چلتا ہے اور اُس کی تھالیوں میں کھانے والے تھالیاں لہرا لہرا کر کورنش بجا لاتے ہیں اور دولت کا درفشِ کاویانی ہمیشہ لہراتا اور جگمگاتا رہتا ہے ۔ چلو سب مل کر نعرہ لگائیں : " دولت و ثروت براستہ کرپشن و منی لانڈرنگ زندہ باد۔" اور زندہ باد کا یہی نعرہ سینیٹ کے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں مسلسل گونجتا رہا ۔ آزاد اُمیدوار میاں نااہل شریف کی جے بولتے رہے اور اپنی نیاز مندی اور عقیدت کی گٹھڑیاں کھول کھول کر میاں صاحب کے پاؤں پر نچھاور کرتے رہےاور اپنی ذاتِ بے برکات کو جاتی اُمرا کی دہلیز پر جھکاتے رہے ۔
ہمارے تاجر برادران انہی خوشامدیوں کے دم قدم سے آج بھی ملک و قوم کے کندھوں پر پیرِ تسمہ پا کی طرح سوار ہیں ۔ یہ وہ کاسہ لیس بریگیڈ ہے ، جس کے لنڈوروں نے اپنے اپنے ضمیروں کے عوض آسائشیں خریدی ہیں اور گلچھرے اُڑانے کے لیے جمہوریت کُشی کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے ۔ جی ہاں ، جمہوریت کُشی ان کا پیشہ ہے جو عوام کے نام پر ملک کے سارے وسائل ہڑپ کر جاتے ہیں اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر امیر سے امیر تر اور امیر ترین ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ موجودہ مروجہ جمہوریت ان لوگوں کی رکھیل ہے اور سیاسی کارکُن ان کے گھر کے نوکر چاکر ، جب کہ پاکاستان کو اُنہوں نے عوام سمیت اغوا کر رکھا ہے ۔ اس واردات کے پس پردہ کردار کرپٹ تاجر ، ٹیکس نا دہندگان ، بد کردار وڈیرے ، پیٹ پرست سردار اور ظالم خوانین ہیں جو اس ملک کی معاشت کو گھُن کی طرح کھاتے چلے جا رہے ہیں اور عوام نام کی بھیڑوں کوئی سر سبز باغ دکھا کر وعدوں اور تقریروں کا چارہ ڈالتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی انتخابی دنگل ہو تو ووٹر وں کو قیمے والے نان اور کھانے کے پیکٹ ڈالتے ہیں اور عوام کو اپنے کھانے کے جادو ، اور جماعتی ترانوں سے اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔
نہ جانے کب تک یہ جادو ووٹروں اور انتخابی جھرلو کے سر چڑھ کر بولتا رہے گا ۔ کب تک بچّے جنسی تشدد کے راستے موت کو گلے لگاتے رہیں گے۔ کب تک جعلی دواؤں کی گولیاں کھا کر غریب مریضوں کے سینے چیرتی رہیں گی۔ کب تک عورتیں سڑکوں پر بچوں کو جنم دیتی رہیں گی۔ کب تک پولیس افسر جعلی پولیس مقابلے منعقد کرتے رہیں گے۔ کب تک بجلی چور مونچھوں پر تاؤ دے کر اندھیر مچاتے رہیں گے۔ کب تک ٹریفک کی بد نظمی شہریوں اور طلبا و طالبات سے جانوں کے نذرانے طلب کرتی رہے گی ۔ آخر کب تک۔ حکمرانوں کی بلا سے ۔ جب تک دولت اُن کے بنکوں ، تجوریوں اور املاک میں جمع ہے وہ نا اہل ہو کر بھی اہل رہیں گے اور خُدا کو آنکھیں دکھاتے رہیں گے ۔