تاریخ کا طمانچہ

  • سوموار 24 / جون / 2013
  • 5793

وقت کا دھارا ایک عرصہ تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج اس مقام پر لے آیا ہے جہاں کبھی انہوں نے پاکستانی عوام کے منتخب وزیراعظم کو دھکیلا تھا ۔ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر عوام الناس کے ووٹوں کی سند لیکر آنے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے دو مرتبہ پاکستان کا آئین توڑا۔ مشرف کے اقدامات غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ پرویز مشرف کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء جبکہ دوسری مرتبہ 3 نومبر 2007ء کو پاکستان کا آئین توڑا۔ مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو تسلیم کرنے کے لئے ہم پر دباؤ ڈالا گیا لیکن ہم نے اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا۔ یہ اقدامات پاکستان کے دستور سے غداری کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمنٹ نے آمر کے اقدامات کو تحفظ نہیں دیا۔

دوسری جانب اپوزیشن نے بھی سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کی حمایت کر دی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے معاملہ پر حکومت کا سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ درست ہے۔ اور ہم آئین کے مطابق کئے گئے فیصلوں میں حکومت کا ساتھ دینگے۔

حکومت کے ان اقدامات سے یقیناً کئی ادارے اور طاقتور افراد ناراض ہونگے لیکن اگر آج پاکستان نے تاریخ نے سبق نہ سیکھا اور ایک آمر کو اس کے غیر قانونی اقدامات اور آئین توڑنے پر سزا نہ دی تو جمہوریت کو خطرات لاحق رہیں گے۔ اور اسے پھلنے پھولنے کے لئے وہ ماحول میسر نہیں آ سکے گا جو کسی بھی بیج کو پودا اور پھر تناور درخت بننے کے لئے درکار ہوتا ہے۔

آج جب اپوزیشن اور ملک کے دیگر طبقات بھی سابق آمر کیخلاف کارروائی کے لئے متفق نظر آ رہے ہیں اور طاقتور عدلیہ بھی ان کی پشت پر ہے تو یقیناً ایسے ماحول میں پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے میں حکومت کو مشکلات پیش نہیں آنی چاہئیں۔ اگر حکومت نے یہ سنہری موقع ہاتھ سے گنوا دیا تو جہاں ان کی پوزیشن اور ساکھ کمزور ہو گی وہیں آمریت کے کالے بادل بھی پاکستانی فضا پر چھائے رہیں گے۔ اور مستقبل میں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکی گی کہ کوئی اور طالع آزما اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گا۔

تاریخ شاہد ہے کہ کچھ حقائق ٹھوس ہوتے ہیں اور کچھ تصورات ہوتے ہیں اور اگر ان تصورات کا بروقت ادراک کرتے ہوئے سدباب نہ کیا جائے تو وہ تصورات رفتہ رفتہ حقائق کی جگہ لے لیتے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی یہ تصور موجود ہے کہ فوج جب بھی چاہے اقتدار کی باگ دوڑ سنبھال سکتی ہے اور سوائے عدلیہ کے کوئی ایسا طاقتور ادارہ نظر نہیں آتا جو اس خلاف آئین عمل کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کر سکے۔

اب ہمیں اس تصور کو زائل کرنا ہے۔ اس راستے پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں پرویز مشرف کو اس کے کئے کی سزا دلوانا ہو گی۔ تا کہ فوج سمیت دیگر اداروں کو بھی اس بات کا احساس ہو سکے کہ ان کے کسی بھی خلاف آئین عمل کو قوم کسی حالت میں قبول نہیں کرے گی۔ اگر ایسا نہ ہو تو جن تصورات کو آج مفروضہ سمجھا جا رہا ہے انہیں ٹھوس حقائق میں تبدیل ہوتے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

آج تاریخ نے سابق آمر پرویز مشرف کے چہرے پر جو طمانچہ رسید کیا ہے، اس کی گونج پاکستان کی جمہوری تاریخ میں سنائی دیتی رہے گی۔ اس طمانچے سے طالع آزماؤں اور وقت کے فرعونوں کو سبق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کسی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کے بعد انہیں بھی یہ طمانچہ سہنا پڑ سکتا ہے۔