بلدیاتی انتخابات ۔ امکانات اور خدشات

  • منگل 30 / جولائی / 2013
  • 6155

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں 15 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے اور اس کے لیے 15 اگست تک ضروری قانون سازی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے قرار دیاکہ بلدیاتی انتخابات آئین پاکستان کا منشاء ہیں۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 15 اگست تک ضروری قانون سازی کرکے رپورٹ نہ د ی تو سپریم کورٹ حتمی حکم جاری کردے گی۔

دوران سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی جاری ہے جو دو تین ہفتے میں مکمل ہوجائے گی۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن سے انتخابات کرانے کی استدعا کی جائے گی۔ سندھ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے 31 دسمبر کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔ بلوچستان حکومت نے بھی مہلت طلب کی۔ خیبرپختونخوا حکومت نے 2002 ء کے بلدیاتی انتخابات اپنانے اور اس کے لیے ترمیم لانے کے بارے میں بتایا۔ جبکہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے شہری حلقوں میں تو انتخابات کرانے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ دیہی علاقوں میں مشکلات کا ذکر کیا۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بارہ کہو (دیہی اسلام آباد) میں تو بلدیاتی انتخابات ہوں اور کنونشن سینٹر یا بلیو ایریا میں نہ ہوں۔ عدالت نے اس موقع پر واضح کیا کہ 15 ستمبر تک کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کرانے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اس کے دو ہفتے بعد تک پورے ملک میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرادیے جائیں ۔ عدالت نے کہا کہ یہ انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔ حکومتیں ایک منٹ میں آرڈیننس لاتی رہی ہیں۔ اس کے لیے بھی آرڈیننس یا ترمیم لائیں الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایاکہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے اطلاع ملنے کے 90 دن بعد انتخابات کرادیے جائیں گے۔

بلدیاتی ادارے کسی بھی ملک میں جمہوریت کی نرسری قرار دیے جاتے ہیں۔ مستحکم اور صحت مند جمہوریت کے لیے جو ادارے افرادی کھیپ فراہم کرتے ہیں ان میں مزدور یونین‘ طلبہ یونینز، بار ایسوسی ایشن‘ پریس کلبز۔کسانوں کی نمائندہ تنظیمیں اور پیشہ وارانہ منتخب ادارے (جیسے انجینئرنگ کانگریس‘ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، ایوان ہائے صنعت و تجارت) شامل ہیں۔ لیکن جمہوریت کی بنیادی اور تربیتی نرسری بلدیاتی ادارے ہی ہیں۔ جہاں نمائندوں کو نہ صرف عوام سے براہ راست رابطے کا موقع ملتا ہے بلکہ نظام حکومت چلانے کا ابتدائی تجربہ بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 1980 ء کی دہائی سے ٹریڈ یونینز اور اسٹوڈنٹس یونینز پر پابندی عائد ہے۔ جنہیں گزشتہ 30 ‘35 سالوں کے عرصے میں کسی منتخب حکومت نے بھی اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔

پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے 100 دن کے منصوبوں میں ٹریڈ یونینز اور اسٹوڈنٹس یونینز کی بحالی کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوسکا۔ گزشتہ تیس سالوں کے دوران وفاق اور صوبوں میں تقریباً تمام جماعتوں کی حکومتیں برقرار اقتدار رہیں ۔ جن میں پیپلزپارٹی‘ مسلم لیگ نواز‘ مسلم لیگ (ق)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ ایم کیو ایم‘ تحریک انصاف ‘ فنکشنل مسلم لیگ‘ ایم ایم اے کے زیر قیادت جماعت اسلامی ‘ جمعیت العلمائے اسلام کے علاوہ قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں۔ مگر کسی نے یہ پابندی نہیں اٹھائی۔ موجودہ برسراقتدار پارٹیاں بھی اس معاملے میں تاحال خاموش ہیں۔ لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں بھی موجودہ برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی دلچسپی بہت کم ہے یہ تو سپریم کورٹ ہے جو انہیں بلدیاتی انتخابات پر مجبور کررہی ہے۔

پاکستان کے بلدیاتی اداروں کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔ 1958 ء تک ملک کے جن چند شہروں میں وقفے وقفے سے بلدیاتی ادارے قائم ہوئے۔ وہ انگریز کے چھوڑے ہوئے قانون کے تحت معرض وجود میں آئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام سے جو بلدیاتی نظام دیا وہ چھوٹی سطح پر عوام کے مسائل کا ایک حل تھا۔ لیکن ایوب خان نے اپنی سیاسی ضرورت کے تحت ایک تو اس نظام کو الیکٹورل کالج کے طور پر استعمال کیا دوسرے اس میں برابری (مشرقی اور مغربی پاکستان آبادی میں واضح فرق کے باوجود برابر ہیں) کے اصول کو اپنا کر مشرقی پاکستان کی عوامی اکثریت کو ختم کردیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے دورن بلدیاتی انتخابات کرائے ہی نہیں گئے۔ بلکہ پیپلزپارٹی نے اپنے چاروں ادوار میں ایسا نہ کیا۔ اور اس بھاری پتھر کو چومے بغیر ہی ایک طرف ڈالے رکھا۔ بے نظیر نے تو اپنے دور میں پہلے سے موجود بلدیاتی اداروں کو ہی توڑ دیا تھا۔صدر ضیاء الحق نے 1979 ء اور 1983 ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے۔ جن کا تھوڑے وقفہ کے باوجود آج تک تسلسل جاری ہے۔ نواز شریف چونکہ مارشل لاء حکومت ہی کا تسلسل تھے اور ان کی ضروریات بھی فوجی حکمرانوں جیسی تھیں۔ اس لیے وہ اپنے دور حکومت میں بلدیاتی انتخابات کراتے رہے۔ البتہ شہباز شریف نے اس اچھی روایت کو توڑ ڈالااپنے گزشتہ دور میں وہ اس جانب نہیں آئے۔ صدر پرویز مشرف نے دانیال عزیز کے ذریعے ضلعی نظامت کا جو نظام دیاہ وہ 2008 ء تک جاری رہا لیکن 2008 ء کی منتخب حکومتوں نے کسی بھی صوبے میں بلدیاتی ادارے قائم نہ ہونے دیے۔ جو سیاسی جماعتوں اور جمہوری حکومتوں کے لیے قابل شرم ہے۔
بلدیاتی نظام میں یقیناًکچھ خرابیاں ہوں گی۔ یہ انگریزکی یادگار اور فوجی حکومت کی باقیات بھی ہیں۔ لیکن کیا ہمارا موجودہ جمہوری نظام بھی انگر یز کا دیا ہوا نہیں ہے ؟ پھر فوجی حکومتوں کے کسی اچھے کام کو محض فوجیوں کی باقیات کہہ کر مسترد کردینا کو ئی دانشمندانہ استدلال نہیں۔بلدیاتی نظام دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی اور تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ چھوٹے حلقے ہونے کی وجہ سے عوام کی اپنے نمائندو ں تک براہ راست اور آسان رسائی ہوتی ہے۔ دوسرے بلدیاتی نمائندے نسبتا چھوٹے لیڈر ہونے کی وجہ سے ایک طرف عوامی مسائل کا احساس اور ادراک رکھتے ہیں دوسرے ووٹرز کی براہ راست رسائی کی وجہ سے ان کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو براہ راست عوام کی پکڑ اور تنقید کی زد میں آتے ہیں۔ ان نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی کام بھی بہتر نگرانی میں اور تیز رفتاری سے مکمل ہوسکتے ہیں۔ پھر یہی بلدیاتی نمائندے آگے چل کر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں پہنچ کر ملکی قیادت کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ ان کی کارکردگی اور تربیت اس میدان میں ان کی معاون ثابت ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں جن اداروں کو بلدیاتی اداروں کی ترقی اور نشوونماء کے لیے کام کرنا چاہیے وہی ان کے وجود کے مخالف ہیں۔ ان میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان‘ سیاسی جماعتوں کی قیادتیں ‘ افسر شاہی اور فوج شامل ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی مخالفت کی وجہ ترقیاتی فنڈز ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے وجود میں آنے اور ان کے طاقت پکڑنے سے تمام ترقیاتی فنڈز اور ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی سیاسی چوہدراہٹ ختم اور کرپشن و کمیشن کا امکان محدود ہوجاتا ہے۔ پھرمنتخب بلدیاتی ارکان مستقبل میں اپنی کارکردگی کی بنا پر ان کے لیے خطرہ بھی بن جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی مقامی ضلعی بلکہ صوبائی قیادت کو بھی یہی خطرہ ہوتا ہے کہ بلدیاتی ارکان مستقبل میں ان کا متبادل ہوسکتے ہیں۔ افسر شاہی کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں ان کے اختیارات محدود ‘ چوہدراہٹ اور تسلط ختم اور کمیشن و کرپشن کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اور انہیں حقیر قسم کے موری ممبرزکے حکم پرکام کرنا پڑتا ہے۔ فوج بھی کنٹونمنٹ بورڈ کے اداروں کو اپنے لیے چیلنج سمجھتی ہے۔ جہاں کسی جنرل کے حکم کے بجائے مشاورت اور جمہوری انداز میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اور فوجی اداروں کو محض ان سے تعاون کرنا ہوتا ہے۔ تاہم جب فوج اقتدار میں ہوتی ہے تو اپنے اقدار کو دوام دینے اور اپنا چہرہ کسی حد تک جمہوری بنانے کے لیے بلدیاتی ادارے قائم کرلیتی ہے۔ لیکن پرویز مشرف کے دو رمیں یہ ہوا کہ فوج نے ملک بھر میں تو بلدیاتی ادارے قائم کردیے۔ لیکن کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات نہ ہونے دیے۔

اس پس منظر کے ساتھ سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات کرانے پر تلی بیٹھی ہے۔ جبکہ فوج کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کو خوشدلی سے قبول نہیں کررہی ۔سیاسی جماعتیں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ‘ بیورو کریسی اپنے اپنے خدشات اور خوف کا تاحال شکار ہیں ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں خود ان انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے ابھی یہ بات طے ہونی ہے کہ کیا پورے ملک میں ایک ہی طرح کا بلدیاتی نظام ہو یا ہر صوبے میں مختلف نظام ہو ۔ پھر یہ نظام پرویز مشرف کا ضلعی نظامت کا نظام ہوگا یا ضیاء الحق کا کونسلر سسٹم ہوگا یا ایوب خان کا بی ڈی سسٹم۔

ایک سوال یہ ہے کہ یہ انتخابات سیاسی اورجماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی بنیادوں پر ۔۔ ویسے اگر بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر بھی ہوں تو بھی یہ سوفیصد سیاسی اور جماعتی ہوں گے۔ صرف امیدوار اپنے غیر سیاسی اور غیر جماعتی ہونے کے جھوٹے حلف نامے داخل کرائیں گے۔ اس کے علاوہ باقی سب کام سیاسی اور جماعتی ہوں گے۔ یہ بھی سوال ہے کہ یہ انتخابات کتنے شفاف ہوں گے۔ کیونکہ مئی 2013 ء کے انتخابات کے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات موجود ہیں۔ ان انتخابات میں حکومتی مداخلت کتنی ہوگی اور اسے روکنے کا کہ کیا انتظام کیا گیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند کرنے کے ساتھ ان خدشات اور تحفظات کے ازالے کا بھی بندوبست کرے۔