عید الفطر - یوم الاجر

  • جمعہ 02 / اگست / 2013
  • 5296

مختلف مذاہب کے ماننے والے جو تہوار مناتے ہیں اس کے ذریعہ ایک جانب وہ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب ان کے عقائد و افکار اور طور طریق کی عکاسی بھی ہوتی ہے اوریہ تہوار مذہب کا ترجمان بنتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مختلف قسم کے تہوار کسی نہ کسی مخصوص تاریخی واقعے، شخصیت یا کسی خاص کامیابی کی یاد سے منسلک ہوتے ہیں۔ پھر یہی وہ تہوار ہیں جن کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں یا تو اس مذ ہب اور اس کی فکرسے قربت قائم کرنے کی خواہش پیداہوتی ہے اور دل مائل ہوتا ہے یا پھر ان طور طریقوں کو دیکھ کر کراہت محسوس ہوتی ہے اور دوری اختیار کرنے کا دل چاہتا ہے۔

اسلام وہ عالمگیر دین ہے جو قیامت تک تمام اقوام کے لیے کامیابی و فلاح کا پیغام دیتا ہے اور اس میں کامیابی و ناکامی اور خوشی و رنج کا دارومدار تقویٰ اور نیکی پر ہے۔اسلام کے ماننے والوں کے لیے سب سے بڑی خوشی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ بندہ مومن اپنے شب و روز کے جو کام انجام دے رہا ہے اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کامقرب بندہ بن جائے نیز اللہ اور رسولؐ کے احکامات پرعمل کرنا آسان ہوجائے۔اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں کہ جب نیکی کرکے تجھے خوشی ہو اور برائی کرنے سے رنج ہو تو، تو مومن ہے۔بندہ مومن ہر کام کرنے سے قبل اور بعد اپنے دل کا جائزہ لیتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ یا تووہ مطمئن ہو جاتا ہے یا پھر توبہ و استغفار کا رویہ اختیارکرتا ہے۔

عید الفطر احادیث کی روشنی میں:
انس بن مالکؓ رویت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسولؐاللہ عید الفطر کے دن جب تک چند چھوہارے نہ کھالیتے، عید گاہ کی طرف نہ جاتے اور چھوہارے طاق عدد میں کھاتے(صحیح بخاری)۔جابرؓ نے کہا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی ؐ واپسی میں راستہ بدل کر جاتے(صحیح بخاری)۔حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ میں رسولؐ اللہ کے ساتھ عید کے دن نماز کے لیے حاضر ہوا تو آپؐ نے خطبے سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی ۔ پھربلالؓ پر ٹیک لگائے کھڑے ہو گئے۔ عروہ بن زبیر ، حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایاکہ ابو بکرؓ آئے اور میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں جنگ بعاث کے دن کا شعر گا رہی تھیں، اور ان لڑکیوں کا پیشہ گانے کا نہیں تھا، تو ابو بکرؓ نے فرمایا کہ یہ شیطانی باجہ اور رسولؐ اللہ کے گھر میں؟ اور وہ عید کا دن تھا، رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ اے ابو بکرؓ ! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہم لوگوں کی عید ہے(صحیح بخاری)۔صحیح مسلم میں اتنا اضافہ اور ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ: ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے اور یہ ہماری خوشی کا دن ہے۔

درج بالا احادیث سے چند باتیں واضح ہوتی ہیں : i)عید گاہ جانے سے قبل کوئی میٹھی چیز ضرور کھانی چاہیے بہتر ہوگا کہ کھجور یا چھوہارے ہوں۔ii) عید کے دن عید گاہ جانے اور آنے کے راستے الگ الگ ہونے چاہئیں۔اس بنا پر کہ کہ وہاں کے رہنے والے انسان اور جنات اور فرشتے نیکیوں پر گواہ بن جائیں۔ یا اس بنا پر کہ دونوں راستوں کے رہنے والوں کو برکتیں حاصل ہوں۔ یا اس بناپر کہ دونوں راستوں میں شعائر اسلام کا اظہار ہو، وغیرہ۔iii)عید کی نماز کے بعد امام تقویٰ اور نیکی کی ترغیب دلائے اور مقتدی اس کو بغور سنیں اور اس پر عمل کرنے کی سعی کریں۔iv) اگر عید کے دن نماز فوت ہو جائے تو چاہیے کہ دو رکعت نماز پڑھ لی جائے، یہی مناسب طریقہ ہے۔v) عیدین کی نماز میں عورتیں بھی شامل ہوں اور ان کی نماز کا الگ اہتمام کیا جائے۔ نیزعورتیں اُن باتوں کا پاس و لحاظ رکھیں جو اسلام کو مقصود ہیں۔vi ) عید کے دن خوشی کا اظہار ہونا چاہیے اور اس کے لیے جائز طریقوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ تمام کام اس لیے اختیار کیے جائیں کہ آج کا دن ہمارا عید کا دن ہے اور عید خوشی کا دن ہے ۔پھر یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے اللہ اور اس کا رسولؐ بھی خوش ہوتا ہے۔

اجر و مغفرت کااعلانِ عام:
عید الفطرکا دن مومنین کو پورے ایک ماہ رمضان المبارک کی عبادات کے بعد نصیب ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں وہ اپنے آپ کو ظاہر ی اور باطنی طور پر پاک کرتے ہیں اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان بندوں سے راضی ہوتا ہے۔صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے اور معدؓ بن اوس انصاری اپنے والد حضرت اویسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ و سلم نے ارشاد فرمایا :جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو خدا کے فرشتے تمام راستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے مسلمانو! رب کے پاس چلو جو بڑا کریم ہے ،نیکی اور بھلائی کی راہ بتاتا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت انعام سے نوازتا ہے ۔ تمہیں اس کی طرف سے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی ۔ تمہیں اس کی طرف سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے تراویح پڑھی سو اب چلو اپنا انعام لو۔ اور جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے۔اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرمادی۔ پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو۔ یہ عید کا دن انعام کا دن ہے۔ اس اجر و انعام اور رحمت و مغفرت کے تعلق سے یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ جب لوگ عید گاہ میں آجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: جن مزدور وں نے اپنا پورا کام کیا ہو اس کی مزدوری کیا ہے! فرشتے عرض کرتے ہیں اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے۔ تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں ان کے عوض میں، میں نے انہیں مغفرت سے نوازدیا۔

یہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا کرم ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں بھی خوشیاں مہیا کراتا ہے۔ ان اعمال کے بدلہ جو دنیا میں ہم نے کیے ہیں اور آخرت کا اجر تو اجرِ عظیم ہوگا۔ہم نے رمضان میں روزے رکھے اور عبادات انجام دیں اس کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے بغیر دیر کیے ہی ہمیں ہماری مزدوری کی اجرت دے دی۔یہی اللہ کی سنت ہے اور اس ہی طریقہ کو مسلمانوں کو بھی اختیارکرنا چاہیے۔بے انتہا خوشیاں اور مسرتوں سے بھرپور عید سعید خصوصاًامت مسلمہ اور تمام ہی انسانیت کے علمبرداروں کو مبارک باد کا پیغام پیش کرتی ہے۔اچھا ہوگا کہ یہ عید انسانوں کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن جائے اور انسانوں کی انسانوں سے جو دوریاں پیدا ہو رہی ہیں ان میں کمی واقع کردے۔ یہی ہماری خواہش اور یہی ہماری دعا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور دنیا اور آخرت میں متقیوں کا امام بنائے(آمین)۔

اس عید سعید کے موقع پر ہمیں اپنے ان اسلام پسند بھائیوں کو بھی نہیں بھلانا چاہیے جو آج تنگ دستی اور تشدد کا شکار ہیں۔ ساتھ ہی ملت اسلامیہ کے وہ تمام لوگ جو کہیں بھی اور کسی بھی ملک میں اللہ کے دین کے قیام کی جدو جہد میں مصروفِ عمل ہیں اور باطل قوتیں ان کی سرکوبی میں لگی ہوئی ہیں، ایسے تمام لوگوں کے لیے بھی ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی سعی و جہد کو قبول فرمائے ۔ ان کے درجات دنیا و آخرت میں بلند کردے اور وہ فتح نصیب کرے جس کا وعدہ اُس نے اپنے نیک بندوں سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ وقت جلد آئے جب کہ اسلام کو غلبہ عطا ہو اور اللہ کی زمین پر اللہ کی کبریائی بیان کی جائے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔