تین بڑے تعلیمی اداروں کی تباہی

  • ہفتہ 03 / اگست / 2013
  • 5837

پاکستان کے تین تعلیمی ادارے ایسے تھے جن کی ڈگریوں کی بیرون ممالک قدر کی جاتی تھی۔ بلکہ ان سے فارغ التحصیل طالب علم آج دنیا کے مختلف ممالک میں کلیدی عہدوں پر بیٹھے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اور اپنی قابلیت اور ہنر مند ی کی بدولت ان ممالک کی ضرورت بن چکے ہیں ۔

انگریز کے قائم کردہ ان تینوں تعلیمی اداروں کا تعلق لاہور سے ہے ۔ جب تک ان تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کا آغاز نہیں ہوا تھا یہ اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ علم کی روشنی کے مینار بنے انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔ لیکن جب سیاسی اشرافیہ نے ان اداروں میں مداخلت اپنا حق حکمرانی سمجھ لیا تویہ ادارے اپنا وقار کھوتے گئے ۔ایک کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج جسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ہے اور آج کل یہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کہلاتی ہے ۔ دوسرے نمبر پر ڈی مونٹ مورلسنی کالج آف ڈینٹیسٹری اور تیسرے نمبر پر ایچی سن کالج ہے ۔

ان میں سے ایک یونیورسٹی اور کالج تو زوال کی آخری حدود ں کو چھورہے ہیں۔ لیکن تیسرے کی تباہی کے لئے سیاسی ہنرمند تیاریاں کر چکے ہیں ۔برصغیرکے نامور لوگوں نے یہاں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی عظیم روا یات کی آخری نشانی پروفیسراعجاز احسن تھے ۔اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں منظوراحمد وٹونے کسی طالبعلم کے داخلہ کی سفارش کی وہ طالبعلم کالج کی میرٹ پالیسی پر پورا نہیں اترتا تھا۔ پرنسپل نے طالبعلم کو داخلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کا لج کی پرنسپل شپ سے استعفٰی دے دیا۔ یوں کا لج کی عظیم روایات کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے عہدے کی قربانی دینے والے پروفیسراعجاز کا نام آج بھی کالج کی تاریخ میں عزت سے لیا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر اعجاز احسن، اعتزاز احسن کے بھائی ہیں ۔ پروفیسر اعجاز احسن کے بعد پرنسپل شپ کا تاج ڈاکٹر محمود علی ملک کے سر پر سجا۔ ان کے بعد ڈاکٹرنصیر احمد ، ڈاکٹر افتخار علی راجہ پھرپروفیسر ممتاز حسین ،ڈاکٹر ظفراللہ خان، ڈاکٹر اسد اسلم سے ہوتا ہوا اب ڈاکٹرفیصل مسعود کے سرپر ہے ۔ پروفیسر ممتاز حسن کا دور کا لج کی عظمت رفتہ کا آخری دور ثابت ہوا ۔انہوں اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی خاطر ہر وہ کا م کیا جو پرنسپل کے عہدے کے شایان شان نہیں تھا۔موصوف گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کی راہداریوں میں اکثر پائے جاتے تھے۔ ان کی انہی خدمات کے عوض ان کی مد ت ملازمت میں ایک سے زیادہ مرتبہ توسیع کی گئی۔

کالج کی 90سالہ تاریخ میں یہ پہلے پرنسپل تھے جو9سال سے زیادہ عرصہ اس سیٹ پر براجمان رہے ۔ڈاکٹر ظفر اللہ کی رٹیائرمنٹ کے بعد محکمہ صحت پنجاب نے کسی شخص کو بھی اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھال سکے ۔حکومت نے جونےئر تر ین پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم کوجن کا سنیارٹی لسٹ میں 85 واں نمبرتھا عارضی طور پر وی سی کی سیٹ پر بٹھادیا ۔ڈاکٹر برادری چیختی رہی ڈاکٹر سراپا احتجاج رہے لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ آخر عدالت کے حکم پر ڈاکٹر فیصل مسعود کو وائس چانسلر مقرر کردیا گیا۔ اس دوران یونیورسٹی کو جو نقصان پہنچا اس کی تلافی شاید ممکن نہیں ۔

ڈی مونٹ مورلسنی کالج آف ڈ ینٹیسٹری کانام بھی پوری دنیا میں عزت احترام سے لیا جاتا تھا ۔کسی زمانے میں ایران ، مڈل ایسٹ ،شام لبنان اور دیگرممالک کے طالب علموں کی کثیر تعداد ڈینٹل کی تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان کا رخ کرتی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ اسے بھی سیاسی مافیا کی بیجا مداخلت نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا۔ آج کل کا لج کی پرنسپل سیٹ پر جونےئر تر ین پروفیسر بیٹھے ہیں ۔ پنجاب بھر میں سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر ڈاکٹر سہیل عباس عدالتوں میں انصاف کے لئے دھکے کھارہے ہیں۔

اب آتے ہیں ایچی سن کالج کی طرف۔ جون کی ایک صبح کالج کے اساتذہ حسب معمول ڈیوٹی کے لئے کالج داخل ہوتے ہیں۔ 60 اساتذہ کو برطرفی کے نوٹس تھماتے ہوئے حکم دیا جا تا ہے کہ وہ کالج چھوڑ دیں ۔ اب کالج کو ان کی ضرورت نہیں رہی۔ ساتھ ہی ان کے کالج میں داخلے پر پابندی لگادی جاتی ہے ۔ بر طرف شدہ اساتذہ میں چند ایسے بھی ہیں جن کی رہائش کا لج کی حدودمیں واقع ہے۔ ان کو فوری طور پر رہائش گاہیں چھوڑنے کے احکامات دے دیے گئے ۔

ایچی سن کالج نے اپنی 126سالہ تاریخ میں سکھ مہاراجوں ، انگریز جرنیلوں ، فوجی آمروں کو دیکھا ۔ لیکن کبھی کسی ڈکٹیٹرکو بھی جرات نہیں ہوئی کہ وہ کا لج کے معاملات میں اس حد تک مداخلت کرتے۔ آج عوامی جمہوری حکومت میں بیک جنبش قلم 60اساتذہ کو بغیر کسی شو کاز نوٹس فارغ کردیا گیا۔ فارغ ہونے والے اساتذہ میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کو کا لج میں اعلیٰ خدمات انجام دیتے ہوئے 20سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ ان کو اعلیٰ خدمات کے عوض بہترین اساتذہ کے اعزاز سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔

سوال پیدا ہوتا ہے آ خر کا لج کے بورڈ آف گورنر زکو جس کا چئیرمین صوبہ کا گورنر ہوتا ہے۔ اور ایسا گورنر جس کی گورنر شپ چند دنوں کی مہمان ہو کیا ضرورت پیش آ ئی کہ وہ جاتے جاتے اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کو بر طرف کر جائیں۔ سوال اپنی جگہ موجود ہے لیکن ہر ذہن اپنی استعدادکے مطابق اس کا مطلب اخذ کر رہا ہے ۔خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس قتل عام کے فوری بعد نئے اساتذہ کی بھرتی کیلئے اشتہار بھی اخبارات میں آگیا ۔