عدلیہ ہدفِ تنقید ہے
- اتوار 04 / اگست / 2013
- 5534
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف سپرم کورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی۔ عدالت کی جانب سے عمران کان کے جواب کو دو بار مسترد کرنے اور عمران خا ن اور تحریک انصاف کی جانب سے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے اعلان کے بعد پاکستانی سیاست ایک بر پھر بند گلی میں داخل ہوگئی ہے۔
در اصل حالیہ صدارتی انتخابات نے جہاں حکومتی پارٹی کی سیاسی اخلاقیات، اپوزیشن کے کھوکھلے پن اور دیگر جماعتوں کی وقتی مصلحتوں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے وہیں اِس بار عدلیہ کے بھرم کو بھی چکناچور کیا ہے۔ اور عدلیہ کے بارے میں ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کے بعد اٹھانے ممکن نہیں رہے تھے۔ جس کی ایک وجہ تو موجودہ عدلیہ پر لوگوں کے بھرپور اعتماد کا اظہار تھا جو اس ادارے کو آزادانہ کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔ اور دوسرے وکلاء تحریک سے عدلیہ اتنی مضبوط ہوگئی تھی کہ اس پر انگلی اٹھانا کوئی آسان کام نہیں رہا تھا۔
لیکن بدقسمتی سے موجودہ عدلیہ کے بعض حالیہ اقدامات نے خود لوگوں کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ عدلیہ کے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ کردار پر بات کرسکیں۔ اور جہاں کہیں عدلیہ کا کردار ان معیارات پر پورا نہیں اترتا وہاں کھل کر اس قومی ادارے پر تنقید کریں۔
صدارتی انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کی جلد بازی کی وجہ تو مسلم لیگ ن ہی کو معلوم ہوگی جس کے بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو کاکہنا ہے کہ اس حکومت کی تیزیوں (جلد بازیوں) اور تکبر کے نتیجے میں کچھ نہیں بچے گا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں جو کچھ کیا اس پر تادیر بحث ہوتی رہے گی۔
الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے لیے 6 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بقول اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بات کرنے کے بعد وہ تاریخ تبدیل کرانے الیکشن کمیشن کے پاس گئے۔ جس نے مسلم لیگ ن کی خواہش اور درخواست پر 30 جولائی کی تاریخ دینے سے انکار کردیا اور 6 اگست ہی کو انتخاب کرانے کا فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے خلاف مسلم لیگ ن کے رہنما راجا ظفرالحق سپریم کورٹ گئے۔ جس نے اپوزیشن کا مؤقف سنے بغیر الیکشن کمیشن کے حکم کو مسترد کردیا اور انتخاب 30 جولائی کو کرانے کا حکم دے دیا۔
اس عدالتی حکم پر صدارتی انتخاب ہوا۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار رضا ربانی نے سپریم کورٹ کے رویّے اور فیصلے پر تنقید کی اور اس فیصلے کو انصاف کے منافی قرار دیا۔ پیپلز پارٹی کے اتحادیوں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق نے بھی بائیکاٹ کے فیصلے کی تائید کی۔ تاہم انتخاب کے موقع پر مسلم لیگ ق کے بلوچستان کے ارکان نے تو بائیکاٹ نہ کیا البتہ بی این پی عوامی نے اس انتخاب کا بائیکاٹ کردیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور وکلاء تحریک کے روح رواں، بلکہ تحریک کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ڈرائیور بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس موقع پر یہاں تک کہا کہ ان کی پارٹی یعنی پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اب انصاف کے لیے ان کا عدلیہ سے رجوع کرنا بے کار اور بے سود ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی اعتزاز احسن ہیں جو عدلیہ تحریک میں چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کے لیے گلی گلی اور شہر شہر مارے مارے پھرے تھے۔
ابھی رضا ربانی کا احتجاج اور اعتزاز احسن کا عدلیہ پر عدم اعتماد کادھواں فضا میں موجود تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ کہہ کر بارود کو آگ دکھادی کہ گزشتہ انتخابات میں الیکشن کمیشن اور عدلیہ کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے اور ان انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف سیاسی رہنما کہہ چکے ہیں کہ مئی 2013ء کے انتخابات میں تمام تر دھاندلی ریٹرننگ افسران کے ذریعے کی گئی۔ جو عدلیہ سے لیے گئے تھے۔ جبکہ الیکشن کمیشن بھی ایک طرح کا عدالتی ادارہ ہی ہے۔
عمران خان، رضا ربانی اور اعتزاز احسن ہی نہیں، وکلاء تحریک کے ایک سرگرم رہنما علی احمد کرد بھی حالیہ عدلیہ پر متعدد بار اعتراضات کرچکے ہیں اور اس کے کردار کو ہدفِ تنقید بنا چکے ہیں۔ وکلاء تحریک کی ایک اور رہنما عاصمہ جہانگیر بھی ایک سے زائد بار عدلیہ کے کردار پر کھلے عام انگلی اٹھا چکی ہیں۔ یہ سلسلہ اب آہستہ آہستہ بڑھتا جارہا ہے اور سب اب آہستہ آہستہ عدلیہ کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستانی عدلیہ ہمیشہ سے ہی اپنے کردار اور فیصلوں کی وجہ سے زیر بحث رہی ہے۔ مولوی تمیزالدین کیس میں عدالتی فیصلے، نظریۂ ضرورت اور پی سی او کے تحت ججوں کے حلف اٹھانے کا معاملہ ہمیشہ ہی سے زیر تنقید رہا ہے۔ اگرچہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں میں موجودہ چیف جسٹس اور دوسرے جج بھی شامل ہیں۔ لیکن جنرل پرویزمشرف کے عدلیہ کے خلاف اقدامات کے بعد عدلیہ کی آزادی کی جو تحریک شروع ہوئی وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس نے عدلیہ کا ایک آزادانہ اور دباؤ سے آزاد کردار پیش کیا۔
حقیقت یہی ہے کہ اس تحریک کی کامیابی کے بعد عدلیہ نے اپنے آپ کو ایک تبدیل شدہ اور بہتر روپ میں پیش کیا۔ لیکن جلد ہی اس کی ضرورت سے زیادہ فعالیت اس کے اصل کردار پر حاوی ہوگئی۔ تب ہی سے یہ مسئلہ موجود ہے جو روز بروز سر اٹھا رہا ہے۔ عدلیہ کی فعالیت کے علاوہ زیر سماعت کیسوں کے دوران جج صاحبان کے ریمارکس نے بھی بہت سے مسائل پیدا کیے۔ چنانچہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں سوالات سر اٹھا رہے ہیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کیا ہوا؟ مہران بینک کیس میں فیصلہ آنے کے باوجود اس پر کیا عملدر آمد ہوا؟ کراچی بدامنی کیس جس میں خود چیف جسٹس عملاً کراچی ایئرپورٹ پر قید ہوکر رہ گئے تھے اس کا فیصلہ کس کے حق میں ہے اور کس کے خلاف۔۔۔؟ اور اس غیر جانبدار فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا؟
لوگیہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ارسلان کیس کا کیا ہوا؟ ایک وزیراعظم کو گھر بھیجنے اور دوسرے کے خلاف فیصلہ دینے والی عدلیہ نے ملک ریاض کے خلاف کیسوں کا کیا بنایا؟ حج اسکینڈل میں گرفتار ہونے والے وزیر حامد سعید کاظمی بھی اب بہت سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اس صورت حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عدلیہ زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ اس کے کسی جانب جھکاؤ کا شائبہ تک نہ ہو۔ تمام فریقوں کو سننا انصاف کا بینادی تقاضا ہے جو پورا ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت اس لیے ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں سے عدلیہ کی آزاد حیثیت بحال ہوئی ہے۔ اس قومی ادارے کی ساکھ بحال رہنا بلکہ بہتر ہونا سب کے مفاد میں ہے۔
موجودہ چیف جسٹس چند ماہ بعد ریٹائر ہونے والے ہیں اس لیے عدلیہ کو ابھی سے مستقبل کی صف بندی کرلینی چاہیے۔ عدلیہ سے قوم کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور یہ امیدیں پوری ہونی چاہئیں۔