آزادئ اظہار مقدم ہے

  • منگل 06 / اگست / 2013
  • 5593

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس ملنے کے بعد بحث کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی عمران خان کو 28 اگست تک کی مہلت دی گئی ہے۔ تب انہیں ایک ایسا جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے جو عدالت کے لئے قابل قبول ہو اور توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جا سکے۔ یا پھر انہیں اس الزام میں مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس دوران ملک میں ایک دوسرے کے مقابلے پر اترے ہوئے 60 سے زائد ٹیلی ویژن اسٹیشن اور ان پر نشر ہونے والے اس سے بھی دوگنی تعداد میں ٹاک شوز اور مختلف پروگراموں کے لئے یہ ایک دلچسپ اور مرغوب موضوع بن چکا ہے۔ اینکرز اور تبصرہ کرنے والے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق عمران خان یا سپریم کورٹ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں ۔ یا بعض اوقات یہ دونوں ہی نکتہ چینی کا شکار ہوتے ہیں۔ صبح شام ایسے قابل صحافیوں کی کثیر تعداد سامنے آتی ہے جو یہ بتانے پر مصر ہوتے ہیں کہ اگر عمران خان کی جگہ وہ ہوتے تو وہ کیا کرتے۔ اور اگر وہ سپریم کورٹ کو مشورہ دے سکتے تو ان کا مشورہ کیا ہوتا۔ ان سب کے پاس مسئلہ کا ایک ایسا تیر بہدف نسخہ موجود ہوتا ہے جو کسی فیس کے بغیر  وہ عمران خان اور سپریم کورٹ کے ججوں کو تجویز کرنے پر اصرار کر رہے ہیں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ قومی مسائل کا حل اگر صحافی پیش نہیں کریں گے تو اور کون کر سکتا ہے۔

تاہم ان سب مباحث میں جو پہلو تاحال سامنے نہیں آ سکا، وہی درحقیقت صحافیوں اور میڈیا کے لئے سب سے زیادہ اہم ہونا چاہئے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن و ریڈیو اسٹیشن جس اخلاقی بنیاد پر تنقید کرنے ، جائزہ لینے اور مشورہ دینے کا حق استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ اس کا تعلق آزادئ تحریر و تقریر سے ہے۔ یہ آزادی کسی بھی مہذب جمہوری قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اسی آزادی کی بنیاد پر پاکستان کے میڈیا نے بھی امور مملکت میں بے پناہ دسترس حاصل کی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستانی میڈیا اس اصول کی بنیادی اہمیت ، امکانات ، ضرورت اور پہلوؤں کا جائزہ لینے سے قاصر نظر آتا ہے۔

عمران خان کو ملنے والا توہین عدالت نوٹس دراصل ایک طرح سے میڈیا کا ٹیسٹ ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے میڈیا نے اس حوالے سے اس اصول کی اہمیت کو اجاگر کرنے یا اس کی روشنی میں اس معاملہ کو دیکھنا ضروری نہیں سمجھا ہے۔ اس کی بجائے اس معاملہ کو سپریم کورٹ کے بارے میں پاکستان میں پائے جانے والی مختلف آراء یا عمران خان اور ان کی پارٹی کے بارے میں اختلافات کو موضوع بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سلسلہ 28 اگست اور اس کے بعد تک جاری رہے گا۔

پاکستانی تبصرہ کرنے والوں اور دیکھنے والوں کے نزدیک سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا عمران خان نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے مناسب زبان استعمال کی تھی ۔ اور اگر یہ زبان مناسب نہیں تھی تو اس پر معافی مانگ لینے میں کیا ہرج ہے۔ اگر یہ لب و لہجہ درست تھا اور عمران خان سپریم کورٹ کے بارے میں اپنے تاثرات کے اظہار میں غلطی پر نہیں تھے تو انہیں معافی نہیں مانگنی چاہئے۔

گویا سارا معاملہ اس ایک نکتہ پر گھوم رہا ہے جو سپریم کورٹ نے عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے طے کر دیا ہے۔ کہ بادی النظر میں تحریک انصاف کے چیئرمین توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ جواب دیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف عدالت کی توہین کرنے کے الزام میں کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ کا یہ موقف متعلقہ قوانین کی بعض شقات کے تحت درست ہو سکتا ہے۔ عدالت کا موقف ہے کہ عمران خان نے عدالت عظمیٰ پر تنقید کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اس طرح عدالت کے خلاف فضا سازگار کرنے اور اس کے خلاف عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے خاص طور سے لفظ شرمناک کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لفظ توہین کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ایک گالی ہے۔ اس کے بعد اب یہ بحث بھی کی جا رہی ہے کہ کیا شرمناک گالی ہے۔ بہت سے محقق نما جرنلسٹ، زبان دانوں سے اس لفظ کے مطلب پوچھنے ، تشریح کرنے ، لغت میں اس کے معنی تلاش کرنے اور سپریم کورٹ یا عمران خان کو غلط ثابت کرنے میں خاصے سرگرم ہیں۔

عدالت نے عمران خان کے خلاف اس معاملہ میں 2 اگست کو صبح ہونے والی ابتدائی سماعت میں یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ یہ الفاظ چونکہ ایک قد آور لیڈر کی طرف سے ادا کئے گئے ہیں اس لئے ان کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یعنی عمران خان جیسے بڑے سیاسی لیڈر کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سے عدالت کی توہین ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر وہی الفاظ کوئی عام آدمی ، صحافی ، سیاست دان یا تبصرہ نگار ادا کرے تو توہین کا پہلو نہیں نکلتا۔ سپریم کورٹ نے اس موقف کے ذریعے اس تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ عمران خان کوئی پہلے شخص تو نہیں جو سپریم کورٹ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کر چکے ہیں ۔۔۔ ان سے قبل بلکہ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران اور بعد میں بھی پاکستان کے متعدد لوگ اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس ساری بحث سے قطع نظر اس معاملہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ سمیت کسی ادارے یا اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عمران خان سمیت کسی بھی شہری کی طرف سے اظہار رائے پر قدغن عائد کر سکے۔ اور یہ طے کر سکے کہ کسی ادارے کے بارے میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کس قسم کے الفاظ استعمال کرنا درست ہے۔ اور کن الفاظ کا چناؤ غلط ہے۔ اگر اس بنیادی اصول کو مان لیا جائے تو پاکستان میں آزادئ تحریر و تقریر کے حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

اس وقت سپریم کورٹ یہ طے کر رہی ہے کہ عمران خان کو ان کی اعلیٰ سیاسی و سماجی حیثیت کی وجہ سے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ تاہم یہ اختیار مسلمہ طور سے طے ہونے کے بعد یہی عدالت اس دائرہ کو وسیع بھی کر سکتی ہے۔ اور یہ طے کر سکتی ہے کہ مزید کن لوگوں کو سخت الفاظ عدالتوں کے بارے میں استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ کیونکہ اس سے عدالتوں کی توہین ہوتی ہے اور عوام کے دلوں میں ان کے خلاف بدگمانی اور بددلی پیدا ہوتی ہے۔

ایسی صورت پیدا ہونے پر سپریم کورٹ یا دوسری عدالتوں کا نشانہ اخبارات اور ٹیلی ویژن اور ان میں اظہار رائے کرنے والے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس اصول کے تحت عدالت کسی بھی اینکر یا کالم نگار اور رپورٹر کو عدالت میں طلب کر کے اسے معافی مانگنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ یا قانون کے مطابق 6 ماہ تک قید کی سزا دے سکتی ہے۔ اس لئے اس وقت بے حد ضروری ہے کہ اس معاملہ کو محض سپریم کورٹ بمقابلہ عمران خان نہ دیکھا جائے بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے حق رائے پر قدغن لگانے کے تناظر میں دیکھا جائے۔

بدقسمتی سے پاکستانی صحافی اس بنیادی نکتے کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے وہ اس پر بحث پر بھی آمادہ نہیں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ لڑائی محض عدالتوں اور سیاستدانوں کی ہے اور اس تماشے میں صحافیوں کا تو فائدہ ہی ہے۔ وہ اس اختلاف اور تنازعہ کی بنیاد پر مقبول پروگرام پیش کر کے اپنی ریٹنگ اور مقبولیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تاہم ہمارے خیال میں اگر اس وقت اس معاملہ کو آزادئ اظہار کے بنیادی حق کے تناظر میں نہ دیکھا گیا اور سپریم کورٹ پر یہ واضح کرنے کی کوشش نہ کی گئی کہ اس کا نوٹس اصل میں اس بنیادی آزادی پر حملہ کے مترادف ہے، جس کے لئے صحافیوں اور لکھنے والوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یہ آزادی ایک مقدس اصول ہے جسے توہین عدالت کی دہلیز پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک میں سب سے بڑی عدالت ہونے کی حیثیت میں سپریم کورٹ آئین کے تحت عام آدمی کو ملنے والے بنیادی حقوق کی ضامن ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر شخص کو آزادئ تحریر و تقریر حاصل ہو اور کسی کو بھی اپنے خیالات یا الفاظ کے چناؤ کی وجہ سے مقدموں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یا تشدد اور ظلم کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ حیرت انگیز طور پر سپریم کورٹ اس بنیادی فرض کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ہی اس اصول کو روندنے کا سبب بن رہی ہے، جو گزشتہ 4 برس کے دوران پاکستان کی نئی عدلیہ نے بارہا واضح کیا ہے؛ کہ وہ آئین کے تحت فیصلے کرے گی اور کسی کو، کسی بھی شخص کے آئینی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

موجودہ صورتحال میں عدالتِ عظمیٰ عمران خان کا بنیادی حقِ اظہار تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس لئے اسے خود اپنے نوٹس کو ری وزٹ REVISIT کرتے ہوئے اسے بنیادی آئینی حق کے حوالے سے دیکھنا چاہئے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت کو خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہو سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ بوجوہ جوڈیشل ایکٹوازم کا سہارا لئے ہوئے ہے۔ اس پہلو پر کئی حوالے سے بحث ہو رہی ہے اور اس کی حمایت اور مخالفت میں دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ اس لئے عدالتوں کو میڈیا کی حمایت اور تعاون کی ضرورت بھی رہتی ہے۔ متعدد لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ چند برس میں ججوں کے تبصروں کی صورت میں جو خبریں نشر کی جاتی رہی ہیں وہ کسی طور بھی عدلیہ کے وقار اور غیر جانبدارانہ رول کے لئے صحت مندانہ رجحان نہیں ہے۔

یہ صورتحال اچھی یا بری دونوں صورتوں میں جلد یا بدیر تبدیل ہو جائے گی ۔ تاہم اگر اس دوران بعض بنیادی حقوق پر دسترس حاصل کرنے کا اصول وضع کر لیا گیا تو یہ روایت آنے والے وقت میں لکھنے والوں اور اظہار رائے کرنے والوں کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے آزادئ اظہار رائے کے بنیادی اصول کے لئے جدوجہد کرنا اور اس کے لئے سینہ سپر ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اس لئے بھی شدید ہو گئی ہے کیونکہ آزادئ تقریر و تحریر پر تازہ ترین حملہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے کیا گیا ہے۔