قومی سیاسی نظام ، انتخابات اور عید

  • بدھ 07 / اگست / 2013
  • 5230

رمضان المبارک ،  شیڈول کے مطابق رُخصت چاہنے کی تیاری میں ہے ۔ عید کا چاند کھڑکی سے جھانک رہا ہے ۔ پاکستان میں عید اور ماتم ایک ساتھ برپا ہیں ۔ سیلاب ، بموں کے دھماکے ، ٹریفک کے حادثات ، سرحدوں پر فائرنگ ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مفتی منیب الرحمان کا رویت ہلال شو ۔ میں پورے رمضان کے دوران گھر سے دور رہا ۔ ٹی وی کی دسترس سے دور اور پر سکون ، البتہ ریڈیو بہت سنا ۔

میں نے سنا کہ ناروے میں اگلی پارلیمانی مُدّت کے لیے قومی پارلیمینٹ "ستورتنگ " کے قومی انتخابات آئندہ 9 ستمبر کو ہوں گے ۔ آج کل سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بنک سے رابطے میں ہیں ۔ میڈیا میں بڑی گرم جوشی سے بحثیں ہو رہی ہیں ۔ تنقید کے نشتر چل رہے ہیں ۔ سیاسی نجومی پیش گوئیاں کر رہے ہیں ۔ موجودہ وزیرِ اعظم کی ناکامی کے اندیشے واضح ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ اگلی پارلیمانی مُدّت کے لیے قدامت پسند جماعت " ہائیرے" حکومت بنائے گی ۔
 
اِسی سلسلے میں آج صبح بُسکیرود ریڈیو نے عوم کی آراء کا جائزہ مُرتّب کیا ۔ ایک نوجوان نے انتخابات کے ضمن میں اپنے نقطہ ء نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
 "اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انتخابات میں کون سی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی اور کون وزیرِ اعظم ہوگا ۔ ان نئے  انتخابات سے ناروے کی قومی ہیئت اورمُلکی وحدت پرتو کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ریاست کا فلاحی کردار متاثر ہوگا "۔
 
یہ ہے کسی شہری کی اپنے ملک کے نظام پر اعتماد کی بات ۔ اوراس نوع کا اعتماد وہ دولت ہے جو فرد کو ریاست سے منسلک رکھتا ہے ۔ مگر یہ وہ دولت ہے جس سے ہم تارکینِ وطن کا آبائی سیاسی کلچر محروم ہے ۔ اے کاش ۔ ۔ ۔
 
چینی درویش چانگ زو یاد آگئے ۔ انہوں نے ایک بار،  بارگاہِ ایزدی میں التجا کی کہ" بارِ الہا ، مجھے آدابِ حکمرانی سے آگاہ فرما " ۔
آواز آئی ، " اے چانگ زو ، حکمرانی کے تین بنیادی اصول ہیں :
1۔ رعایا کے لیے وافر مقدار میں اشیائے ضرورت
2۔ ملکی دفاع کے لیے مناسب مقدار میں اسلحہ
3۔ عوام کا اپنے حکمرانوں پر اعتماد
 
چانگ زو نے عرض کی کہ اگر تینوں اصول بیک وقت برقرار نہ رکھے جا سکیں تو کس کو ترجیح دی جائے اور کس کو ترک کیا جائے ؟
ندا آئی ،" خوراک کو بھول جا کیونکہ موت ہر انسان کی برات ہے ۔ لوگ صورتِ حال کو مرضی ء مولا سمجھ کر قبول کر لیں گے"۔
چانگ زو نے کہا کہ اگر باقی کے دو اصول بھی بیک وقت برقرار رکھنے مشکل ہوں تو کس کو ترجیح دی جائے ؟
آواز آئی ،" اسلحے کو نظر انداز کر کیونکہ اگر لوگ متحد ہوں گے تو دشمن عوام کا بال تک بانکا نہیں کرسکےگا۔ لیکن یاد رکھ ، اگر عوام کا اپنے حکمرانوں پر اعتماد ختم ہوگیا توملک قائم نہیں رہ سکے گا"۔
 
حکمرانوں پر  اعتماد سیاسی چہروں پراعتماد کا نام  نہیں بلکہ یہ تو نظام پر اعتماد ہوتا ہے ۔ نظام جو ملک کے بنیادی قانون کی طاقت سے چلتا ہے اور سب لوگوں سے یکساں سلوک کرتا ہے ۔ جس میں کوئی فرد قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ۔ سب لوگ ایک دوسرے کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کا انفرادی احترام روا رکھتے ہیں ۔
 
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی نظریات کو زمینی حقائق سے بالا تر گردانتے ہیں اور ملک اور عوام کے بجائے نظریات کی حفاظت کرتے ہیں ۔ نظریہ ء پاکستان کی حفاظت کرتے کرتے ڈھاکہ ہمارے نظریاتی دراز سے باہر نکل کر اجنبی ہو گیا ۔
 
ہمارے عوام ہوں یا حکمران ، وہ ایک دوسرے پر نہلے پر دہلا کے مصداق ہیں ۔ ہم نظام کے بجائے افراد بدلتے ہیں اور افراد سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ راتوں رات پاکستان کو جنّت میں تبدیل کر دیں ۔
 
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے ۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہمارے پلّے کچھ نہیں ۔ اور گلی گلی مسجد کے پہرے میں اسلام کی ترویج کے اہتمام کے باوجود کفر ہماری بستیوں میں دندنا پھرتا ہے ۔ اس رمضان کے دوران ہم نے جس طرح قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا ہے ، جس طرح بھتہ خوری کی ہے ، جس طرح منافع خوری کی ہے ،اورجس جس طرح سے لاقانونیت مچائی ہے ، وہ ہمارے اجتماعی کردار پر بد نما داغ کی بہار ہے ۔
 
لیکن میں یہ کیا کہہ رہا ہوں ۔
 شاید میں اپنے ملک کے بقراط صفت دانشوروں کی قدروقیمت نہیں جانتا۔ اور پھرہمارے ملک کا عام آدمی بھی تو بڑا دانش مند ہے ۔ وہ مذہب ، سیاست ، فلسفے اور ریاستی امور پر بڑی گہری  نظر رکھتا ہے ۔ ایسے میں   میرے جیسے کسی کم سماجی حیثیت کے آدمی کی رائے کیا شمار ہوگی ۔ البتہ اتنا احساس ہی کافی ہے کہ میں اُس مٹی کا خیر خواہ اور دعا گو ہوں جس میں میرے ماں باپ  دفن ہیں اور وہ زمین میرے لیے حرم مرتبت ہے ۔
 
اُس حرم مرتبت سر زمین کے موجودہ اور سابق شہریوں یعنی سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو میری دلی عید مُبارک" ۔