عید گیٹ ٹو گیدر

  • سوموار 12 / اگست / 2013
  • 5114

تکثیری سماج میں رہنے بسنے والوں کے لیے لازم ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان آپسی محبت و الفت کا ماحول پروان چڑھائیں ۔ نیز وہ معاشرے، سماج اور ملک کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔اسی پس منظر میں رنگ و نسل کے تنوع کی موجودگی، سماج کے لیے مفید اس وقت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ مختلف گروہ مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھتے ہوں اور ان گوناگوں صلاحیتوں سے پورے سماج کو فائدہ پہنچاتے ہوں۔ رنگ و نسل کے فرق کو ناپسندیدہ سمجھنا ایک غلط رجحان ہے۔ اسلام نے اس غلط رجحان اور اس پر مبنی تعصب کو ختم کیا ہے۔

تکثیری سماج میں مسلمانوں کی موجودگی کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ ان مواقع پر جبکہ وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیںیا دوسرے الفاظ میں مسلمانوں کے تہوار جنہیں عید الفطر اور عید الالضح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، چاہیے کہ ان دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنی خوشی میں شریک کریں جو ان سے وابستہ ہیں۔چونکہ وہ ہمارے پڑوسی ہیں،آس پاس رہتے ہیں،آفس اور دیگر معاشی معاملات میں وقتاً فوقتاًوہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں،لازم ہے کہ ہم ان سے قربت استوار کریں۔اور فی الوقت عید سعید سے بہتر موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا جب کہ ہم ان سے اور وہ ہم سے مزید قریب ہوں۔یہ قربت اور تعلقات ہی ہیں جو انسانوں میں جذبہ خیر خواہی اور ہمددری پیدا کرتے ہیں جس کی آج اشد ضرورت ہے۔مسلمانوں کو اس بات کا مخصوص اہتما م کرنا چاہیے کہ وہ عید گیٹ ٹو گیدر کے پروگرام منعقد کریں۔اپنے گھر پر، اپنے محلے میں یا کچھ مزید بڑے پیمانے پر۔ان مواقع پر درج ذیل باتوں کا تذکرہ لازماً کیا جانا چاہیے :

i) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک باپ اور ماں(حضرت آدمؑ اور حواؑ ) سے پیدا کیا ، لہذا تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

ii) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے دین پر عمل کرنے کے لیے اور اپنی تعلیمات سے آگاہی کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے جو اس کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات لوگوں تک پہنچاتے تھے۔

iii) ان پیغمبروں کا سلسلہ پہلے انسان حضرت آدمؑ سے ہوا اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جن کے بعد اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔

iv) اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد قرآن حکیم اور اپنی سنت احادیث کی شکل میں چھوڑ کر گئے ہیں، ان پر عمل آوری ہی دراصل دنیا و آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔

v) فی الوقت جن مسائل سے ہم دوچار ہیں وہ انسانوں کی انسانوں پر ظلم و زیادتی اور جبر و استبداد کی وجہ سے ہیں۔اور ان سے چھٹکارے کا ذریعہ انسانوں کے بنائے قوانین ہیں جو حقوق اللہ اور بعض مواقع پر حقوق العباد کی ادائیگی میں رکاوٹ ہیں۔

vi) حقوق اللہ کی ادائیگی یا وہ فرائض جو انسان پر لازم ہیں،ان ہی میں یہ رمضان المبارک کے روزے بھی ہیں۔ یہ روزے انسان میں مکمل نظم و ڈسپلن برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں جس کے بعد اللہ کے ہر چھیوٹے اور بڑے حکم کی عمل آوری میں انسان کو آسانی ہوتی ہے۔

vii) اور یہ عیدِ سعید دراصل وہ انعام ہے جو ایک بندہ اپنے ربِ اعلیٰ کے احکامات پر اور ماہ رمضان کے تمام ارکان کو ادا کرنے کے بعد حاصل کرتا ہے۔یہی وہ موقع ہے جب کہ اللہ بندے سے راضی اور بندہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے اور دنیا و آخرت کی تمام خوشیا ں اسے حاصل ہوتی ہیں۔