فخرو بھائی کا پانچواں استعفیٰ
- سوموار 12 / اگست / 2013
- 5081
استعفوں کا طویل ریکارڈ رکھنے والے فخرو بھائی بالآخر چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے بھی مستعفی ہوگئے۔ تاہم اِس بار انہوں نے زیادہ صبر کا مظاہرہ کیا اور نسبتاً زیادہ عرصے تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ حالانکہ جس دن سے انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اُسی دن سے یہ قیاس آرائیاں گردش کررہی تھیں کہ فخرو بھائی کا استعفیٰ اب آیا کہ تب آیا۔
خاص طور پر اُس وقت یہ قیاس آرائیاں یقین میں بدلنے لگیں جب اس اہم عہدے کے لیے ان کا نام پیش کرنے والوں یا ان کے نام کی بھرپور تائید کرنے والوں نے ان پر شدید تنقید شروع کردی۔ لیکن اپنے مزاج کے برعکس انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا اور قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کرنے میں لگے رہے۔ مگر ایسا کب تک ممکن تھا! آخرکار اُن کا مزاج ان کی اس مفاہمت پر حاوی ہوگیا اور انہوں نے31جولائی کو وہ کچھ کردیا جس کی اُن سے پہلے دن سے امید اور توقع بندھی ہوئی تھی۔
فخرو بھائی کی عمومی شہرت ایک اصول پسند انسان کی ہے۔ وہ ماضی میں مفاہمتوں اور سمجھوتوں کے بجائے عہدوں پر لات مارنے کی روایت کے امین شخص جانے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے ضیاء دور میں اپنا پہلا استعفیٰ سپریم کورٹ سے دیا۔ یہ اگرچہ معروف معنوں میں استعفیٰ نہیں تھا لیکن عہدے سے چمٹے رہنے کی خواہش کے برعکس رویّے کا اظہار ضرور تھا۔ ضیاء الحق دور میں سپریم کورٹ کے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا اور عدالت عظمیٰ کی باوقار کرسی چھوڑ کر گھر آگئے۔
حالانکہ فوجی آمروں کے پی سی اوز کے تحت حلف اٹھانے والوں میں موجودہ چیف جسٹس سمیت درجنوں ججوں کے نام آتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے وقتی ضرورتوں اور مصلحتوں کے تحت پی سی اوز کے تحت حلف اٹھائے اور بعد میں سیاسی اور ذاتی مصلحتوں کے تحت ایسے اقدامات کو ہدفِ تنقید بھی بنایا۔
کچھ عرصہ بعد فخرو بھائی کو اٹارنی جنرل بنایا گیا۔ یہاں بھی کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد انہوں نے اس بناء پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کہ اُس وقت کی حکومت نے اپنے ایک کیس کے لیے بھاری معاوضے پرایک پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرلی تھیں۔ فخرو بھائی نے اسے اصولی طور پر غلط جانا کہ اٹارنی جنرل کے وسیع و عریض آفس کی موجودگی میں ایک پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں۔ چنانچہ وہ مستعفی ہوکر ایک بار پھر فائلیں بغل میں دباکر عدالتوں میں آزاد وکیل کی حیثیت سے پیش ہونے لگے۔
انہیں وفاقی وزیر قانون بنایا گیا تب بھی وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرسکے اور یہ بڑا عہدہ بھی چھوڑ کر گھر آگئے۔ اس کے بعد انہیں گورنر سندھ کا عہدہ پیش کیا گیا تو سابقہ روایات کے مطابق انہوں نے قبول تو کرلیا لیکن جب کوئی بات ان کی مرضی اور اصولی مؤقف کے خلاف ہوئی تو وہ پھر استعفیٰ دے کر اعلیٰ عدالتوں کی راہ داریوں میں گھومتے پھرتے نظر آنے لگے۔
اس ماضی اور ٹریک ریکارڈ کے ساتھ جب پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کی جانب سے ان کا نام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر پیش کیا گیا تو نہ صرف اپوزیشن نے فوری طور پر اسے قبول کرلیا بلکہ ان کی حمایت کا برملا اور کھلم کھلا اظہار بھی کیا جاتا رہا۔ اپوزیشن کا خیال تھا کہ پیپلزپارٹی ایک بار فخرو بھائی کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کردے تو اپوزیشن کا باقی کام وہ خود ہی کرلیں گے۔ وہ پیپلز پارٹی کی کسی غلط بات یا حکم کو نہ صرف ماننے سے انکار کرتے رہیں گے بلکہ اپنے مزاج اور افتادِ طبع کے مطابق اپوزیشن کو زیادہ اکاموڈیٹ کریں گے۔
چنانچہ ہر طرف سے مبارک سلامت کی آوازیں آنے لگیں۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں نے اس فیصلے پر اپنی بھرپور تحسین کا اظہار کیا۔ دراصل ان کی جمع تفریق یہ تھی کہ یہ فیصلہ کرکے حکومت نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ اس نفسیاتی ادھیڑ بن میں بعض تلخ حقائق کو بھی جان بوجھ کر اپوزیشن نے نظرانداز کیا۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ جب فخرو بھائی کا نام بطور چیف الیکشن کمشنر پیش ہوا اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے بڑے پیمانے پر سراہا، اُس وقت مہران بینک اسکینڈل میں جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کا نام ریکارڈ پر آچکا تھا، جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔
مہران بینک اسکینڈل میں جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اور جنرل(ر) اسد درانی نے سپریم کورٹ میں جو بیانِ حلفی داخل کرائے تھے اُن میں یونس حبیب کے ذریعے مہران بینک سے رقم وصول کرنے والوں میں فخرو بھائی کا نام بھی شامل تھا۔ انھیں اس معاملے میں دولاکھ کی ادائیگی کی گئی تھی۔ اب یہ دستاویز اس کیس کے مدعی ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغر خان کی کتاب "We Have Learnt Nothing From Politics" کے صفحہ 283 پر موجود اور محفوظ ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان نے اُس وقت اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن قیاس یہی ہے کہ پیپلزپارٹی یہ سمجھتی تھی کہ فخرو بھائی چونکہ بنیادی طور پر شریف اور صلح جو انسان ہیں اس لیے وہ ان کو ہوشیاری کے ساتھ اپنے مقاصد میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ جبکہ اپوزیشن کا خیال تھا کہ فخرو بھائی ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ایسی کسی صورت حال میں خود پیپلزپارٹی کے لیے دردِ سر بن جائیں گے۔ ایسے میں حکومت کے خلاف ایک بڑا ایشو اپوزیشن کے ہاتھ آجائے گا۔جسے وہ انتخابی اسٹنٹ کے طور پر استعمال کرکے فائدہ اٹھائے گی۔
اس سلسلے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے جب انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو کا مسئلہ کھڑا کیا اور اس کے لیے سپریم کورٹ گئے تو انہوں نے بھی فخرو بھائی پر کوئی اعتراض کیا۔ نہ مہران بینک اسکینڈل میں شامل ان کے نام کا تذکرہ کیا۔ وہ الیکشن کمیشن کے دوسرے ارکان پر ہی اعتراض کرتے رہے۔ دوسری طرف خود سپریم کورٹ نے بھی (جو خود مہران بینک اسکینڈل کا فیصلہ دے چکی تھی)اس کا سرسری تذکرہ بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اور نہ اس جانب سرکاری یا طاہر القادری کے وکلاء نے کوئی اشارہ کیا۔
کچھ عرصہ بعد کراچی میں ازسرنو حلقہ بندیوں اور ووٹروں کے اندراج کا مسئلہ اٹھا جس میں ایم کیو ایم مخالف تقریباً تمام جماعتیں شریک تھیں اور اس معاملے پر روزانہ دھرنے اور مظاہرے کررہی تھیں۔ مگر فخرو بھائی نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نئی حلقہ بندیاں کرانے سے انکار کردیا اور فوجی اہلکاروں کے ذریعے ووٹرز لسٹوں کی تصدیق اور پولنگ اسٹیشنوں کے اندر فوجیوں کی تعیناتی کے متفقہ مطالبے بھی تسلیم نہیں کیے۔ لیکن اس سب کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے اپنا احتجاج تو جاری رکھا لیکن فخرو بھائی کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔
انتخابی مہم شروع ہوئی تو پیپلزپارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم نے بار بار یہ شکایات کیں کہ وہ آزادانہ طور پر انتخابی مہم نہیں چلاسکتیں۔ یہ بہت بڑا الزام تھا اور کسی سیاسی جماعت کے لیے ایسے ماحول میں انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی جواز بھی نہیں رہتا۔ لیکن یہ تینوں جماعتیں اس الزام کو تو بار بار دوہراتی رہیں مگر انہوں نے فخرو بھائی پر کوئی الزام نہیں لگایا۔
الیکشن کمیشن اور فخرو بھائی پر پہلا بڑا حملہ عمران خان نے کیا۔ انہوں نے 11 مئی کی رات ہسپتال سے یہ بیان دیا کہ 11مئی کو (پولنگ والے دن) رات گئے انتخابی نتائج اُس وقت تبدیل کیے گئے جب نوازشریف نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واضح اکثریت ملنی چاہیے تاکہ وہ اپنے پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں کسی کے محتاج نہ رہیں۔ اگرچہ عمران خان نے اس بیان میں بھی فخرو بھائی کا نام نہیں لیا تھا لیکن یہ براہِ راست ان پر ہی حملہ تھا۔
اس کے بعد باقی سیاسی جماعتیں بھی انتخابی دھاندلی پر شور مچاتی رہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور قوم پرستوں کو سندھ میں دھاندلی کی شکایت تھی۔ تحریک انصاف کراچی اور پنجاب میں دھاندلیوں پر شاکی تھی۔ اختر مینگل بلوچستان میں دھاندلی کا رونا رو رہے تھے۔ جبکہ جماعت اسلامی‘ مولانا فضل الرحمن‘ اے این پی، حتیٰ کہ ایم کیو ایم بھی انتخابی عمل پر اپنا احتجاج ریکارڈ پر لارہی تھی۔ یہ تھیں وہ وجوہات جن میں فخرو بھائی نے اپنی زندگی کا پانچواں استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں سے صلاح مشورہ شروع کردیا۔
اس دوران صدارتی انتخاب نے انہیں یہ موقع فراہم کردیا۔ الیکشن کمیشن کے تین ارکان سے تو ان کا معاملہ پہلے ہی خوش اسلوبی سے نہیں چل رہا تھا کہ سپریم کورٹ نے صدارتی انتخاب کی تاریخ تبدیل کردی۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نہ صرف 6 اگست کی تاریخ کا اعلان کرچکا تھا بلکہ اس کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی درخواست بھی مسترد کرچکا تھا۔ جس کے خلاف راجہ ظفرالحق سپریم کورٹ گئے تو الیکشن 30 جولائی کو کرانے کی ان کی استدعا قبول کرلی گئی۔ جس پر فخرو بھائی کو شدید اعتراض تھا۔ وہ اسے الیکشن کمیشن کے کام میں سپریم کورٹ کی مداخلت قرار دیتے تھے۔ حالانکہ فخرو بھائی سے زیادہ کون جانتا ہے کہ الیکشن کمیشن سے اگر کسی شخص یا پارٹی کو شکایت ہو تو ازالے کے لیے اس کے پاس واحد فورم سپریم کورٹ ہی رہ جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کو ایسی اپیل سننے اور اس پر فیصلہ کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پیپلزپارٹی نے یہ کہہ کر صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کردیا کہ انہیں سنے بغیر ہی سپریم کورٹ نے تاریخ تبدیل کردی۔ حالانکہ اس میں صرف مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن ہی فریق تھے۔ پیپلزپارٹی نہ تو اس کیس میں فریق تھی، نہ اس نے فریق بننے کی کوئی درخواست دی تھی۔ اس لیے سپریم کورٹ نے اس کا مؤقف جاننا ضروری نہیں سمجھا جو قانوناً درست تھا۔
لیکن فخرو بھائی کے لیے اصل تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے نمائندے نے ان (فخرو بھائی) کے مؤقف کی حمایت نہیں کی۔ دونوں حضرات نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کی حمایت میں دلائل دینے کے بجائے یہ کہا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے وہ انہیں قبول کرے گا۔ فخرو بھائی نے اسے اپنی توہین جانا۔ ان کا مؤقف یہاں تک تو درست تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کے نمائندے نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تائید و حمایت نہیں کرنی تو پھر اس کاکام کیا ہے! چنانچہ یہ آخری بات ان کے استعفے کا آخری سبب بن گئی اور انہوں نے مسلسل پانچویں بار ایک بڑے عہدے سے استعفیٰ دے کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرلیا۔