پاکستانی میڈیا کا ایک اور کارنامہ
- جمعہ 16 / اگست / 2013
- 4998
پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا آج کل آزادی کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور ٹیلی ویژن ریٹنگ میں اضافہ کی دوڑ اس قدر شدید ہے کہ اس مقصد کے لئے اینکرز ، فوٹو گرافرز اور رپورٹر قاعدے، قانون اور طریقہ کار کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔
اس کا بہت واضح مظاہرہ کل اسلام آباد میں دیکھنے میں آیا۔ ایک مسلح شخص نے اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں کے ہمراہ جناح ایونیو پر گاڑی کو روک لیا اور ہوا میں فائرنگ کر کے توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ پولیس کی کارروائی سے قبل ہی ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کے کیمرے اور رپورٹر موقع پر پہنچ گئے۔ سکندر نامی اس شخص کے پاس ایک سب مشین گن اور ایک کلاشنکوف تھی ۔ وہ شہر کے گرد مختلف چیک پوسٹوں پر کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ تاہم پارلیمنٹ جانے والے راستے پر محافظوں نے اسے روکا تو اس نے فائرنگ شروع کر دی۔
اس کے بعد اس نے اپنی سیاہ رنگ کی گاڑی جناح ایونیو پر پارک کر دی اور فائرنگ کرتے ہوئے اپنی بیوی کے ذریعے اپنے مطالبات سے پولیس کو آگاہ کیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رضوان نے اس شخص سے مذاکرات کئے اور دوبدو بات کرنے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اس شخص کا واحد ٹھوس مطالبہ یہ تھا کہ دبئی کی جیل میں قید اس کے بیٹے کو رہا کروایا جائے۔ یہ لڑکا دبئی میں قتل کے الزام میں قید ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے حکومت کے مستعفی ہونے اور فوری طور پر ملک میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ریڈ زون کے قریب اسلام آباد کے قلب میں یہ سنسنی خیز ڈرامہ شام 5 بجے شروع ہوا اور رات گیارہ بجے تک جاری رہا۔ متعدد ٹیلی ویژن اسٹیشن اس واقعہ کی لائیو کوریج کرتے رہے۔ ٹیلی ویژن رپورٹر ، اینکر اور ماہرین اپنی اپنی صوابدید اور صلاحیت کے مطابق پولیس کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے۔ البتہ کسی میڈیا ہاﺅس کے کسی ذمہ داری نیوز ڈائریکٹر یا ایڈیٹر کو یہ حوصلہ نہیں ہؤا کہ وہ اپنے فوٹو گرافروں اور رپورٹروں کو پولیس کی کارروائی میں مداخلت سے باز رہنے کی ہدایت کرتے۔
ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ شروع ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تھی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر یہ حکمت عملی تیار کی گئی تھی کہ اس شخص کو بات چیت میں الجھا کر زندہ گرفتار کیا جائے۔ حکام کو خاص طور سے اس بات پر بھی تشویش تھی کہ اس شخص کے ہمراہ اس کی بیوی اور دو معصوم بچے تھے۔ اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں لگتا تھا۔ اس لئے اندیشہ تھا کہ وہ اپنے ہی بیوی بچوں کو نقصان نہ پہنچا دے۔
یہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ اس کے مضمرات پر ضرور بحث ہونی چاہئے۔ لیکن اس واقعہ کی کوریج کے لئے پاکستان کے ” جانباز “ صحافیوں نے جس لاقانونیت اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ بھی صرف پاکستان جیسے ملک میں ہی ممکن ہے۔ جہاں ہر شخص قانون اور ضابطے کو اپنی عینک سے دیکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ دنیا بھر میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہونے پر پولیس یا دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ موقع پر موجود ہر شخص پولیس افسران کا حکم ماننے کا پابند ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن فوٹو گرافروں اور رپورٹروں پر بھی یہ اصول لاگو ہوتا ہے اور ہر مہذب ملک میں صحافی اس قسم کی صورتحال میں پولیس حکام سے تعاون کرتے ہیں۔
کل اسلام آباد میں موقع پر موجود صحافیوں نے پولیس کی درخواست کو یکسر نظر انداز کیا اور مسلح شخص کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے اور اس سے یا اس کی بیوی سے براہ راست بات کرنے کی کوشش کی۔ ان کی دیکھا دیکھی عام شہری اور تماش بین بھی موقع پر جمع ہو گئے اور پولیس کی لائن کو عبور کرتے ہوئے خطرناک حد میں موجود رہے۔ یوں لگتا تھا کہ پولیس ٹیلی ویژن رپورٹروں کی زور زبردستی کے سامنے بالکل بے بس اور مجبور ہے۔
یہ صورتحال کسی بھی ذمہ داری میڈیا کے لئے باعث فخر نہیں باعث ندامت ہونی چاہئے۔ ایسے تمام صحافی جنہوں نے پولیس کی ہدایات کو نظر انداز کر کے اس موقع پر رپورٹنگ کرنے کی کوشش کی ہے قانون شکنی کے علاوہ بنیادی صحافیانہ ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کا سبب بھی بنے ہیں۔ صحافیوں کی سب سے پہلے خبر کی بے چینی اور اضطراب اور بہتر سے بہتر تصویر لینے کی دوڑ میں، ایک پاگل مسلح شخص فائرنگ کر کے کسی بھی شخص کو ہلاک یا زخمی کر سکتا تھا۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ کل اسلام آباد کا ڈرامہ کسی بڑے حادثے کے بغیر ختم ہو گیا۔
اس ڈرامہ کا ڈراپ سین پولیس کی حکمت عملی اور منصوبے کے مطابق نہیں ہؤا۔ بلکہ پیپلز پارٹی کے ایک مقامی لیڈر کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت کی وجہ سے پولیس کو مسلح شخص پر گولی چلانا پڑی۔ سکندر نامی مسلح شخص اب شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہے۔ پاکستانی میڈیا کے علاوہ ایوان صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے بھی زمرد خان کو قومی ہیرو قرار دیا ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر بھی زمرد خان کو ایک بہادر شخص کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک خطرناک ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچا۔
زمرد خان خود بتاتے ہیں کہ وہ 5 گھنٹے سے گھر بیٹھے یہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے اور یہ تہیہ کر کے گھر سے نکلے تھے کہ چاہے میری جان چلی جائے میں اس شخص کو پکڑ کر ہی دم لوں گا۔ موقع پر موجود پولیس نے انہیں مسلح شخص کے قریب جانے سے منع کیا۔ لیکن وہ پولیس افسروں کو دھکا دیتے ہوئے سکندر کے پاس پہنچے۔ پہلے اس کے بچوں کو پیار کیا اور پھر اچانک مسلح سکندر کی طرف جھپٹے تا کہ اس کی گن چھین سکیں۔ اس کوشش میں گن تو ان کے قابو نہ آئی وہ خود زمین پر گر گئے۔ اس لئے سکندر کی چلائی ہوئی گولیاں زمرد خان کو نہ لگ سکیں۔ پولیس نے اس موقع پر فائرنگ کر کے سکندر کو زخمی کر دیا اور گرفتار کر لیا۔
اب ایک ایسے شخص کو جو نہ پولیس کی بات کی پرواہ کرے اور جسے نہ اس بات کا اندازہ ہو کہ اس کی غیر ذمہ داری کا نتیجہ انتہائی بھیانک بھی ہو سکتا ہے .... پاکستانی میڈیا میں ہیرو کا درجہ دیتے ہوئے ایک مثالی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر پاکستان نے بھی صورتحال کو سمجھے بغیر صرف پارٹی کی وابستگی کی بنیاد پر ایک توصیفی بیان جاری کر دیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک انتہائی خوفناک دہشت گردی سے نبرد آزما ہے۔ اس موقع پر ایک ٹھوس پالیسی ، سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ، سیاسی دل جمعی کے علاوہ میڈیا اور عوام پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ضوابط پر عمل کریں جو کسی خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکام وضع کرتے ہیں۔
پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی ناکامی پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن جس وقت کوئی مسلح شخص برسر پیکار ہو .... اس وقت صحافیوں اور عام شہریوں کو پولیس ہی کے احکام کی پابندی کرنی چاہئے۔ پاکستانی میڈیا اپنی بے پناہ آزادی کے زعم میں اس ریڈ لائن کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔