نامہء اعمال کا دیباچہ
- جمعہ 23 / اگست / 2013
- 5882
عہدِ حاضر کی معاشرتوں میں پُر امن زندگی گزارنا بتدریج مُشکل ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ چنانچہ میں نے احتیاطاً گوشہ نشینی اختیار کر لی ہے اور اپنی نجی خانقاہ میں پناہ گزین ہو گیا ہوں ۔ اب میری اپنی نظریاتی سب جیل ہے جس کی زیریں بیرک میں میرا قیام ہے ۔
میں نے اپنے اطراف میں بڑی بد نظمی دیکھی ہے۔ حالانکہ بہت سے نظریات اور تجاویز موجود ہیں جو مجھے بتاتی ہیں کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے اور زندگی کس طرح گزارنی چاہیئے ۔
ہمارے دانشور اپنی تحقیق و تعلیم کا پہیہ مسلسل گھماتے رہتے ہیں اور ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ ہم من حیث القوم کہاں کھڑے ہیں ، کن مسائل میں گھرے ہیں اور یہ کہ اِن مسائل کا حل کیا ہے ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ دانشمندوں کی زبانی رہنمائی کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں البتہ دانشوری کا پہیہ بدستور گھومتا رہتا ہے ۔
میں جو ایک بے بضاعت سا شاعر ہوں ، عمر بھر علمی ،ادبی ، مذہبی اور سیاسی تحریکوں اور تنظیموں کے سربراہوں کی قیادت کو تسلیم کر کے اُن کے پیچھے چلتا رہا ہوں۔ لیکن میرا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ پچھلے پینسٹھ سال میں کوئی سی بھی تحریک یا تنظیم انسانی صورتِ حال کو بہتر بنا کر معاشرے میں دور رس تبدیلی نہیں لا سکی ۔ تاہم ناکام تجربات جاری و ساری ہیں ۔
ہمارے آبائی مُلک میں انتخابات ہو چکے ، بیلٹ بکس کے ذریعے تبدیلی آ چکی ، قیادت بدل چکی اور خیبر پختونخواہ میں حکومت کی باگ ڈور بالکل نئے نویلے ، تازہ دم بلکہ سیاسی اعتبار سے بالکل کنوارے سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن تا حال نہ تو سماجی ڈھانچے میں تبدیلی کے آثار ہیں اور نہ ہی اقتصادی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے ۔
جب ہم تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو تبدیلی کا دائرہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں اجتماعی تبدیلی کی بات ہوتی ہے ۔ من حیث الملّت ہمیں ایک انقلاب سے دو چار ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اب تک جو عالمی اسلامی ڈھانچہ تعمیر کیا ہے وہ ہماری پریشاں حالی ، دہشت گردی ، تشدد ، مایوسی، خوف اور مالی معذوریوں کا مونہہ بولتا ثبوت ہے ۔ مگر ہم اس دہشت گردی اور تشدد کے مارے ، کئی ملکوں پر محیط ، جس ہجوم کو عالمی اسلامی معاشرت کا نام دے رہے ہیں ، وہ سچ مُچ کوئی معاشرت ہے بھی یا کہ نہیں ۔
مُسلمان ہونے کے ناطے ہم عالمِ اسلام میں بپا جنگوں ، مصیبتوں ، ذہنی پریشانیوں ا ور فکری الجھنوں کے براہِ راست ذمّہ دار ہیں لیکن مجھے شبہ ہے کہ ہم اپنی ذمّہ داری کو سنجیدگی سے لیتے بھی ہیں یا نہیں ۔
دانشورانہ بحثوں میں اور اخباری مضامین میں یقیناً امن کے موضوع پر بحثیں ہوتی ہیں مگر کیا ہم کشمیر اور فلسطین میں رونما ہونے والے واقعات کے ضمن میں اپنی ذمہ داری کو سچ محسوس کرتے ہیں ؟
کراچی کے واقعات بے حد تشویشناک ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، سیاسی گروہوں کی روز افزوں باہمی چپقلش اور آویزش اورروز مرہ قتل و غارت گری کی صورت میں جو عذاب اُترا ہوا ہے، اُس کے اسباب ہم میں سے ہر ایک نے پیدا کیے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنی ذمہ داری کا قطعاً احساس نہیں ۔ اگر ہوتا تو اب تک ہم ایک مُختلف قسم کا نظامِ تعلیم رائج کر کے امن ، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چل پڑے ہوتے ۔
اب یہاں ایک سوال مجھے یہ در پیش ہے کہ آیا ہم پاکستانی شہریوں ، بالخصوص مسلمانوں کو اس بات پر تیار کر سکتے ہیں کہ وہ مکّمل معاشرتی تبدیلی اور باطنی کایا کلپ کے لیے میدانِ عمل میں نکل کھڑے ہوں۔ اگر وہ تیار نہیں ہوتے اور مکمل معاشرتی تبدیلی رونما نہیں ہوتی تو پھر تکالیف ، مصائب ، بے وقت اموات، بے روزگاری، مفلسی ، اور قتل و غارت گری ہی ہمارا مقدر رہے گی اور کوئی مذہبی یا سیاسی نظریہ یا کوئی انتظامی بند و بست ہمیں حتمی زوال کی گہری کھائی میں گرنے سے نہیں بچا سکے گا اور یہ ہمارا دوسرا موہن جو داڑو ہوگا ۔
میں اُن لوگوں سے اختلاف کرتا ہوں جو لوگوں کو ٹی وی کے ٹاک شوز میں اور اخباری مضامین کے ذریعے یہ پٹّی پڑھاتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ نے بنایا ہے ، جو اُن کی نالائقیوں ، بد احتیاطیوں اور غیر ذمہ داریوں کے باوجود قائم رہے گا ۔ اللہ اس قوم کو اور اُس کے وطن کو صدا قائم رکھے ، یہ مری بھی دلی دعا ہے۔ لیکن جو قومیں عمل اور جد و جہد کے بجائے صرف دعائوں کے صدقے میں قائم رہنا چاہتی ہیں ، اُن کا انجام وہی ہوتا ہے جو سن اکہتر میں ڈھاکہ کا ہؤا تھا ۔
آپ سقوطِ ڈھاکہ کا الزام مکتی باہنی کو دیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ مکتی باہنی آپ کی غلط سیاسی اور اقتصادی پالیسوں کی پیداوار تھی اور اگر بھارت نے مداخلت کی تو وہ بھی آپ کی ناکارہ عسکری حکمتِ عملی کی ناکامی تھی ۔
اور اب اِس لمحے وقت کی عدالت پھر آپ سے، آپ کی قومی کارکردگی کا حساب مانگ رہی ہے :
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ ء محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے