خواب جو ہنوز خواب ہے
- سوموار 26 / اگست / 2013
- 4717
امریکہ میں ایک سیاہ فام صدر کے باوجود سفید فام اور سیاہ فام آبادی کے درمیان اقتصادی لحاظ سے بہت فاصلہ ہے۔ 28 اگست کو اس تاریخی جلوس کے 50 برس مکمل ہوں گے جس میں اڑھائی لاکھ لوگوں نے بلیک آبادی کے حقوق کیلئے واشنگٹن کی طرف مارچ کیا تھا۔
اس مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تاریخ ساز تقریر کی تھی کہ ’’میرا ایک خواب ہے‘‘۔ کنگ کا خواب مساوات اور برابری کیلئے تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ کالوں کے ساتھ نسل کی بنیاد پر ظلم اور زیادتی، امتیازی سلوک اور عدم مساوات بند ہونی چاہئے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ میرا خواب ہے کہ ہم ایک ایسا امریکہ تعمیر کریں جہاں سفید اور سیاہ ساتھ ساتھ رہیں۔ جہاں انہیں مساوی حقوق حاصل ہوں اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کر سکے۔
یہ خواب دیکھنے کی 50 ویں برسی کے موقع پر بھی صورت حال مکمل طور سے تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی 60 فیصد سیاہ فام آبادی یہ سمجھتی ہے کہ نسلی تفادت دور کرنے کیلئے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ اگرچہ افریقی امریکی باشندوں کے لیڈر مانتے ہیں کہ گزشتہ 50 برس میں صورت حال میں کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
خاص طور سے تعلیم کے میدان میں سیاہ فام لوگوں کی صورتحال میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ 1963ء میں جب مارٹن لوتھر کنگ نے مساوات کی بات کی تھی تو صرف 23 فیصد سیاہ فام نوجوان انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر پاتے تھے۔ 2012ء میں یہ شرح 86 فیصد ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود ہر چوتھا سیاہ امریکی غربت کے دائرے میں آتا ہے۔
اقتصادی لحاظ سے امریکہ کی سیاہ اور سفید آبادی کے وسائل میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اس لئے کالے امریکیوں کی طرف سے بعض اوقات مایوسی کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔ ملک میں نسلی تعصب بھی کافی حد تک موجود ہے۔ ایک جائزے کے مطابق گزشتہ برس 35 فیصد سیاہ فام امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں رنگ کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مارٹن لوتھر کنگ کو آج بھی امریکہ کی سیاہ فام آبادی میں ایک عظیم لیڈر کے طور پر یاد کیاجاتا ہے۔ انہوں نے 28 اگست 1963ء کو جو پرجوش تقریر کی تھی اس کی وجہ سے سیاہ فام آبادی کے حقوق کی جدوجہد میں بہت تیزی واقع ہوئی تھی اور صورتحال میں تبدیلی کیلئے سیاسی حالات سازگار ہونے لگے تھے۔ اس لئے 2008ء میں پہلے سیاہ فام امریکی صدر کے منتخب ہونے کے واقعہ کو اس حوالے سے بے حد اہمیت دی جا رہی ہے۔
صدر باراک اوباما کو امریکہ کی سیاہ آبادی میں بلاشرکت غیرے مقبولیت حاصل ہے۔ انہیں 2008ء اور 2012ء میں ملک کے سیاہ فارم ووٹروں کے 95 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ تاہم اس دوران امریکہ کو جس اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا اثر بھی سب سے زیادہ سیاہ آبادی پر ہی پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کی معاشی حالت خراب ہونے کی صورت میں ہمیشہ کمزور طبقے ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے اقتصادی بحران کے نتیجے میں سفید آبادی کی آمدنی میں 3.6فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ سیاہ امریکیوں کی آمدنی میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارٹن لوتھر کنگ نے 1963ء میں جس منزل کی طرف سفر کا آغاز کیا تھا صدر باراک اوباما نے علامتی طور پر اس کو حقیقت میں ضرور بدلا ہے لیکن امریکہ میں سیاہ فام آبادی کے حقوق کے حوالے سے ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ پولیس سے عام طور پر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے وقت نسلی تعصب کا مظاہرہ کرتی ہے۔ لیکن اب اس قسم کے واقعات کے خلاف احتجاج اور سیاسی اقدامات بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
کنگ کو 4 اپریل 1968ء میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے مساوات کا جو خواب دیکھا تھا وہ پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ امریکہ کے سیاہ لیڈر اس خواب کی تعبیر کیلئے بدستور جدوجہد کر رہے ہیں۔