مصر میں ظلم پر مسلم امہ کی بے حسی
- جمعرات 29 / اگست / 2013
- 5334
مصر میں 14 اگست کے روز جو کچھ ہوا وہ بربریت کی بدترین مثال ہے۔ صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جمہوری اور منتخب حکومت کی غیر آئینی اور غیر قانونی برطرفی کے خلاف قاہرہ کے را بعہ چوک میں پر امن دھرنا دینے والے تقریباً 4 لاکھ افراد پر مصری فوج نے بلاجواز ٹینک چڑھا دیئے۔
صدر مرسی کے حامی اس جگہ پر 6 ہفتے سے پر امن دھرنا دیئے بیٹھے تھے۔ جب کہ ان کے مخالفین نے التحریر چوک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کبھی جمہوریت اور انتخابات کے لیے اس چوک میں مصر کی تمام سیاسی قوتیں متحد ہو کر احتجاج کر رہی تھیں جس کے نتیجے میں حسنی مبارک حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اور عام انتخابات کا انعقاد بھی ممکن ہوا۔ ان ہی انتخابات میں اخوان المسلمون نے اکثریت حاصل کی اور ڈاکٹر محمد مرسی صدر منتخب ہوئے۔
لیکن غیر جمہوری قوتوں اور عالمی استعمار کو یہ کب قبول تھا چنانچہ پہلے دن ہی سے صدر مرسی کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے۔ شکست خوردہ عناصر کو ان کے خلاف منظم کیا گیا۔ عدلیہ اور فوج منتخب صدر کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور آخر کار فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے صدر مرسی کو گرفتار کر کے ان کی حکومت کو برطرف کر دیا۔
فوجی آمروں کا خیال تھا کہ چونکہ صدر مرسی کے خلاف ان کے مخالفوں کا احتجاج جاری ہے اس لیے فوجی اقدام کا عوامی سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ مصر کے لاکھوں عوام اپنی منتخب حکومت بچانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ جس سے مشتعل ہو کر مصری فوج نے 14 اگست کو ان نہتے احتجاجیوں پر ظلم کے ایسے پہاڑ توڑے کہ سفاک اور بے رحم مخالفین بھی رو پڑے۔
فوجی کارروائی جس میں ٹینکوں تک کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے اس میں اخوان المسلمون کے ذرائع کے مطابق 2200 افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ نام نہاد سرکاری ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد 280 بتائی۔ لیکن اگلے 36 گھنٹوں میں وہ بھی مرنے والوں کی تعداد 635 تک بتانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں بی بی سی اور واشنگٹن پوسٹ بھی شامل ہیں ۔
پہلے دن مغربی پریس کی بددیانتی اور تعصب اس وقت سامنے آ گیا جب نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل جیسے امریکی اخبارات نے شہداء کی تعداد صرف 91 بتائی۔ لیکن اس تعصب، بددیانتی اور جانبداری میں مصری پریس سب سے آگے تھا۔ قاہرہ کے مشہور اخبار الاہرام نے محکمہ صحت کے حوالے سے 15 اگست کو اپنی اشاعت میں مرنے والے تعداد صرف 21 بتائی۔ حالانکہ یہ قتل عام اس قدر شدید تھا کہ مصر کی فوجی حکومت کے نامزد نائب صدر محمد البرعادی نے بھی اس سفاکی کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیدیا۔
یہ تو تھی مغربی پریس اور مصری پریس کی صورتحال۔ اس معاملے میں پاکستانی پریس کی بے حسی بھی کسی سے کم نہیں تھی۔ پاکستانی اخبارات نے 14 اگست کے قتل عام میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 278 یا 280 بتائی۔ ادھر مصر میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا اور ادھر پاکستان کے نام نہاد آزاد ٹیلی ویژن یوم آزادی کی تقریبات، واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب اور اسی طرح کے دوسرے پروگراموں کی لائیو کوریج میں مصروف تھے۔
پاکستانی میڈیا کی سفاکی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس وقت ننگی ہو کر سامنے آ گئی جب مختلف پاکستانی چینلز نے اپنے اپنے خبرنامہ جاری کئے۔ کسی پاکستانی ٹیلی ویژن پر مصر میں قتل کی خبر لیڈ سٹوری کے طور پر نہیں چلی۔ بلکہ ہر چینل نے اسے چوتھے یا پانچویں نمبر پر نشر کیا ۔ 14 اگست اور اس کے بعد کے کئی دنوں میں بھی کسی ٹی وی اینکر کو مصر کے مسئلے پر کوئی ٹاک شو کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ایک دو پروگراموں میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر مصر کا ذکر کر کے گونگلوؤں (بینگنوں) پر سے مٹی جھاڑ دی گئی۔
15 اگست کو کسی پاکستانی اخبار نے نہ تو مصر کے خونیں واقعہ پر کوئی اداریہ لکھا اور نہ کوئی ادارتی نوٹ۔۔۔ کسی کالم نگار نے بھی فوری طور پر اس موضوع پر قلم اٹھانے کی زحمت گوارا نہ کی۔ نئے منتخب پاکستانی صدر اور ان کے خاندان کے بارے میں بار بار رنگین ایڈیشن شائع کرنے والے کسی اخبار نے کوئی خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔
میڈیا کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں قومی رہنماؤں اور پاکستانی عوام کی اس معاملے میں سفاکانہ بے حسی بھی قابل دید تھی۔ حکومت پاکستان نے اس مسئلہ پر بیہمانہ بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ حکومت پاکستان، وزیر اعظم پاکستان یا کسی حکومتی ترجمان نے اس معاملے کو نہ تو سنجیدگی سے لیا نہ ڈٹ کر اس کی مذمت کی۔
حکمران مسلم لیگ (ن) نے روایتی مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا۔ پیپلز پارٹی کو اس معاملے کی مذمت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تحریک انصاف کا رویہ بھی سرد مہری پر مبنی تھا اور دینی جماعتوں کا بھی۔ صرف جماعت اسلامی نے اپنی استعداد کے مطابق اس سفاکانہ کارروائی کی جرأت کے ساتھ مذمت کی۔ مظلوم مصری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے مظاہرے اور احتجاج کئے اور کھل کر مصر کے فوجی سربراہ جنرل سیسی کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ٹھیکیداروں کو بھی سانپ سونگھا رہا۔ جب کہ عوام کی بے حسی کا یہ عالم تھا کے جس دن مصری مظلوم نہتے عوام پر ٹینک چڑھائے جا رہے تھے، پاکستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں نوجوان ون ویلنگ اور غل غپاڑہ کر کے آزادی کی سالگرہ منانے میں مصروف تھے۔ جو گھروں میں تھے انہیں بے ہودہ ٹیلی ویژن پروگرام دیکھنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ یہ تو تھی پاکستان کی صورتحال۔ خود مسلم دنیا اور عرب ممالک کی صورتحال بھی ایسی ہی تھی۔ سعودی عرب کا رویہ تو مصری عوام کو اشتعال دلانے والا تھا۔
اس ساری صورتحال میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب سنجیدگی سے سوچیں کہ کیا مسلم امہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایک ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ایک ملک میں سینکڑوں مسلمان قتل ہوتے رہیں اور باقی دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مشاغل میں مصروف رہیں۔ یا ہمیں اس بے حسی کے خاتمے کے لیے کوئی اجتماعی کوشش کرنا ہو گی۔