عدالت میں سیاست

  • ہفتہ 31 / اگست / 2013
  • 5184

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو دیئے جانے والا توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے۔ اس طرح ملک کے سیاسی اور عدالتی ماحول میں اٹھ کھڑا ہونے والا ایک غیر ضروری قضیہ ایک بہتر انجام کو پہنچا ہے۔ عدالت کا یہ اقدام اس سلسلہ میں واحد منطقی اور دانشمندانہ راستہ تھا۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو مناسب مدد فراہم کی۔ انہوں نے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک شخص کے بیان دینے سے عدالت عالیہ کی توہین نہیں ہوتی بلکہ عدالتوں کا وقار اور عزت عوام کے دلوں میں ہوتی ہے۔ عوام کے دلوں سے عدالتوں کا احترام افراد کی طرف سے توہین آمیز بیانات دینے اور الزامات عائد کرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ تین رکنی بنچ نے اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

عمران خان کو 26جولائی کو ایک پریس کانفرنس میں اعلیٰ عدالت کے خلاف توہین آمیز بیان دینے پر ازخود نوٹس یا سوموٹو نوٹس کے اختیار کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے طلب کیا تھا۔ 3 اگست کو اس کیس کی پہلی سماعت ہوئی تھی۔ عمران خان عدالت میں حاضری سے قبل یہ واضح کر چکے تھے کہ انہوں نے توہین عدالت نہیں کی۔ اس لئے وہ اپنے الفاظ واپس لینے یا معافی مانگے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے بار بار یہ وضاحت کی کہ 11 مئی کے انتخابات میں جونیئر عدالتوں کے ججوں نے ریٹرننگ افسروں کا رول ادا کیا تھا۔ اس طرح یہ انتخابات عدالتی نگرانی میں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تہا کہ انہوں نے پریس کانفرنس میں شرمناک کا لفظ اعلیٰ عدلیہ کیلئے نہیں بلکہ ان ریٹرننگ افسروں کےلئے استعمال کیا تھا۔ جو بقول ان کے دھاندلی میں ملوث تھے۔

3اگست کی کارروائی کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان کی طرف سے دو وضاحتی بیان عدالت میں جمع کروائے گئے۔ ان بیانات میں بھی وہی موقف اختیار کیا گیا تھا جو 28اگست کو ہونے والی سماعت میں سامنے آیا تھا۔ عدالت نے 3اگست کو عمران خان کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے انہیں 28اگست کو بہتر جواب پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ تفصیلی جواب جمع کروائیں پھر دیکھتے ہیں کہ کون شرمندہ ہوتا ہے۔ شرمساری آپ کے حصے میں آتی ہے یا عدالت کے۔ اب عدالت کی طرف سے نوٹس واپس لینے کے فیصلے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملہ میں عدالت کو ہی شرمندہ ہونا پڑا ہے۔ لیکن یہ تبصرہ محض چیف جسٹس کے ریمارکس پر گرہ لگانے تک محدود رہنا چاہئے۔ معاملہ کی حد تک اس فیصلہ سے عدالت کے وقار میں اضافہ ہواہے۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے وہی اصولی مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ نوٹس ایک فرد کے بیان پر جاری کیا گیا ہے۔ حالانکہ ایک پبلک سٹیٹمنٹ کسی طرح بھی عدالتوں کی توہین کا سبب نہیں بن سکتی۔ ہم کاروان کے اداریئے میں اسی مؤقف کو ذرا وضاحت سے دوسرے طریقے سے پیش کرتے رہے ہیں۔ کاروان نے روز اول سے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالت کا نوٹس بلاجواز ہے۔ عمران خان کو اظہار رائے کے اصول کے تحت کوئی بھی مؤقف اختیار کرنے اور بیان دینے کی آزادی اور حق حاصل ہے۔ اب یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ کیا واقعی وہ اس بیان کو حقیقی مانتے ہیں یا نہیں۔ اس کا فیصلہ عدالتی رویہ، کردار اور فیصلوں سے ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ملک کے آئین کی محافظ ہے۔ اور اس حوالے سے وہ ایک فرد کے حقِ اظہار کی بھی ضامن ہے۔ عمران خان کو عدالت کا نوٹس اس رول اور اصول کی بھی خلاف ورزی تھی۔

 28اگست کی کارروائی کے دوران بھی عمران کے تفصیلی وضاحتی بیان کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ تین رکنی بنچ جس کی قیادت جسٹس انور ظہیر جمالی کررہے تھے، مسلسل یہ زور دیتا رہا کہ عمران خان اپنے بیان پر کسی پشیمانی یا افسوس کا اظہار کریں۔ ججوں نے بار بار لفظ شرمناک کی وضاحت کرنے اور اس کے معنی بیان کرنے اور عمران خان کے وکیل حامد خان سے ان معنوں کی وضاحت کرنے کیلئے استفسار کیا۔ عمران خان اور حامد خان نے یہی مؤقف اختیار کیا کہ یہ لفظ ریٹرننگ افسروں کے لئے استعمال ہؤا تھا اس لئے عدالت جمع خاطر رکھے تحریک انصاف کے سربراہ اعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس کی بحالی کے لئے جیل تک جا چکے ہیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر عدالت کو باور کروایا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات میں دھاندلی اتنا بڑا معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ کو اس پر ازخود نوٹس لینا چاہئے تھا۔ یا کم از کم ان 4 حلقوں کے معاملہ پر تحریک انصاف کا مؤقف سنا جاتا جن میں پڑنے والے ووٹوں کی تصدیق کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھی۔ عمران خان نے ججوں سے استفسار کیا کہ ہم انصاف کے لئے عدالت میں نہ آئیں تو کہاں جائیں۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملے تو کیا کریں۔

یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کو توہین عدالت کے حوالے سے اب شاید اپنی حدود کا اندازہ ہو گیا ہے۔ یہ نوٹس جاری ہونے اور مقدمہ کی کارروائی کے دوران اگرچہ متعدد مبصرین اور سیاسی ماہرین نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ معافی مانگ کر یہ معاملہ ختم کریں۔ تاہم عمران خان نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔ ان کا یہ فیصلہ اصولی تھا۔ اس طرح پاکستان جیسے ملک میں اظہار کے حق کی آزادی کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔

تاہم اس دوران پاکستان کے عوام کے لئے عدالت کے مؤقف کو سمجھنا بھی آسان نہیں تھا۔ متعدد ماہرین نے شرمناک کو ایک بے ضرر لفظ قرار دیا تھا۔ عام لوگ بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مسائل کی بھٹی میں جھلسنے والے اس ملک میں ایک لفظ کی بنیاد پر اعلیٰ عدالت اپنا اور دوسروں کا وقت کیوں برباد کر رہی ہے۔ اس کارروائی سے عدالتوں کے وقار میں اضافے کی بجائے اس پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے تھے۔ اعلیٰ عدالت کو بھی شاید اس صورت حال کا اندازہ ہو گیا تھا کہ اس معاملہ کو مزید طول دینے کی صورت میں عدالتوں کے اختیار اور طریقہء کار کے بارے میں بحث مزید سنجیدہ ہو جائے گی۔

اس مقدمہ کا فیصلہ شاید اس کی سماعت سے قبل ہی ہو چکا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس سہ رکنی بنچ کی سربراہی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس اس معاملہ کی سماعت کرنے والے بنچ کا سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی کو بنا دیا گیا تھا۔ یہ اقدام اس جانب اشارہ تھا کہ سپریم کورٹ بھی اس گلے پڑی چھچھوندر سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ حالانکہ چیف جسٹس نے اس معاملہ پر ازخود نوٹس لیا تھا اور اس مقدمہ کی ابتدائی سماعت بھی خود کی تھی اس لئے انہیں اس بنچ میں بہرطور موجود رہنا چاہئے تھا۔ تاہم انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس معاملہ کو نمٹانے کیلئے دیگر ججوں سے مدد لی جائے۔ گویا سپریم کورٹ نے بھی ایک مشکل مرحلہ سے نکلنے کے لئے سیاسی ہتھکنڈہ اختیار کیا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملہ سے ہر شخص کو سبق سیکھنا چاہئے۔ عمران خان کے علاوہ دیگر سیاست دان بھی عدالتوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے چوکنّے رہیں۔ تاہم میرا مؤقف ہے کہ اس سارے معاملہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کے لئے بھی سیکھنے کو بہت کچھ پنہاں ہے۔

موجودہ عدالت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ جوڈیشل ایکٹو ازم کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس رویہ سے شاید متعدد قومی معاملات میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن عدالت کو سمجھنا چاہئے کہ عدالتی ایکٹو ازم کی بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں۔ اس طرح سوموٹو نوٹس کو بھی محض شدید ضرورت میں ہی استعمال ہونا چاہئے۔ خاص طور سے عدالتی توہین کے معاملے میں اس اختیار کا استعمال غیر ضروری اور افسوسناک ہے۔ اس کے ساتھ اعلیٰ عدالت کو یہ باور کرنا چاہئے کہ عدالتوں کے بارے میں کسی ایک شخص کے بیان کی شدت سے زیادہ آئین میں آزادی اظہار کی ضمانت زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ اس کی حفاظت عدالتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔