دیوار سے لگا صدر
- منگل 03 / ستمبر / 2013
- 4999
وہ جو کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو۔ لگتا ہے کہ اردو کا یہ محاورہ زبان زدعام ہونے کے باوجود امریکی صدر باراک اوباما تک نہیں پہنچ سکا۔ اسی لئے انہوں نے گزشتہ برس جوش خطابت میں شام کی حکومت کو دھمکاتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر بشار الاسد کی حکومت نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے تو یہ امریکہ کی ریڈ لائن ہو گی۔ اب یہ اعلان صدر اوباما کے گلے کی چھچھوندر بن چکا ہے۔
دنیا کو تو چھوڑئیے خود امریکہ میں ناراض عوام کے گروہ شام پر حملہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جب صدر باراک اوباما وائٹ ہاﺅس میں یہ اعلان کر رہے تھے کہ شام کی حکومت کو انسانیت دشمنی کی سزا مل کر رہے گی .... اس وقت بھی امریکی عوام پلے کارڈ اٹھائے وائٹ ہاﺅس کے باہر سراپا احتجاج تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے زیر انتظام جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا سلسلہ دن رات کے ہر لمحے میں جاری رہتا ہے۔
یہ احتجاج صرف واشنگٹن تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی شام پر حملے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا ہے اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکی عوام عام طور سے دنیا کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ وہ اپنے گرد و نواح کو ہی دنیا سمجھتے ہیں۔ ان کے مقامی مسئلے ان کے لئے سب سے اہم ہوتے ہیں۔ انہیں خارجہ امور سے زیادہ غرض نہیں ہوتی۔ اسی لئے واشنگٹن کی طاقت ور سیاسی لابیاں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتی ہیں۔ امریکی حکومت اور صدر دنیا بھر میں معاملات طے کرنے اور نمٹانے کے لئے عوام کو صرف اتنا بتانے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ اقدام امریکہ کے قومی مفاد میں کیا جا رہا ہے یا یہ کہ فلاں ملک اور حکومت سے امریکہ کی سلامتی اور مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ کا پرجوش قوم پرست میڈیا اس قسم کے فیصلوں کی پشت پناہی کے لئے بسر و چشم حاضر رہتا ہے۔
تاہم اب یہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔ گزشتہ دس برس میں امریکہ میں معاشی کساد بازاری ، بے روزگاری اور معاشرتی احتیاج کے مسائل نے عوام کو یہ سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہے کہ جو حکومت اپنے ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے وہ دوسرے ملکوں کے خلاف جنگ جوئی میں کیوں پیش پیش ہے۔ 2008ء میں باراک اوباما کی کامیابی درحقیقت اسی رویہ کا اظہار تھا۔ صدارتی امیدوار کے طور پر اوباما نے جنگ کے خلاف زوردار موقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے پہلا انتخاب عراق کی جنگ ختم کرنے کے نعرے پر جیتا تھا۔ 2012ء کے انتخاب میں انہوں نے افغانستان کی جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اب امریکی عوام کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہی صدر جو دو طویل جنگیں ختم کرنے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتا ہے اور جسے وسیع تر افہام و تفہیم اور جنگ دشمن حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے نوبل کا امن انعام مل چکا ہے .... اب وہی باراک اوباما شام پر حملہ کے لئے کیوں اس قدر جذباتی ہو رہا ہے۔ امریکی عوام ایک نئی جنگ سے پریشان ہیں۔ جنگوں نے امریکہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ان کے بدلے میں سینکڑوں بے گناہ امریکیوں کی لاشیں وطن واپس آتی ہیں۔
اب اس حکمت عملی کو محض قوم پرستی اور امریکہ کے لئے خطرہ قرار دے کر جاری رکھنا مشکل ہے۔ اسی لئے شام پر حملہ کرنے کے لئے دلیل دیتے ہوئے صدر باراک اوباما نے اپنی گفتگو میں دو باتیں واضح کی ہیں۔
1 ۔ امریکی فوجی شام کی سرزمین پر نہیں اتارے جائیں گے اور یہ حملہ مختصر اور طاقتور ہو گا۔
2۔ اس حملہ کا مقصد ایک جابر صدر کے انسانیت سوز فعل کی سزا دینا ہے۔ امریکہ ایک ذمہ دار مملکت کے طور پر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک حکومت اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دے۔
شاید اسی لئے صدر باراک اوباما نے یہ اعلان کیا کہ وہ امریکی کانگریس کو اس حوالے سے تجویزروانہ کریں گے۔ تاہم اسی سانس میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حملہ ایک دن میں بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے یا ایک مہینے میں بھی اس کا آغاز ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے صدر کے طور پر اس کا فیصلہ باراک اوباما کو کرنا ہے۔
کانگریس کا اجلاس گرمیوں کے چھٹیوں کے بعد 9 ستمبر کو شروع ہو گا۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اب یہ بات سو فیصد یقینی نہیں ہے کہ کانگرس امریکی صدر کی تجویز کو قبول کر لے گی۔ اب یہ بات زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ خود اپنے اعلان کے مطابق صدر اوباما شاید ایک آدھ دن میں یہ حملہ کرنے کا حکم نہ دے سکیں۔ اب انہیں امریکی کانگریس میں ووٹنگ کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ورنہ کانگرس کے ساتھ ان کے تعلقات شدید متاثر ہونگے۔ اسی سے امریکی صدر کی بے بسی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر صدر باراک اوباما کی تجویز کانگرس میں مسترد ہو گئی تو تمام تر اختیار کے باوجود شاید باراک اوباما کو شام کو سزا دینے کا مؤقف تبدیل کرنا پڑے۔ یہ صورتحال اس سے قبل برطانیہ میں رونما ہو چکی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ اپنی اکثریت کے زعم میں انہوں نے برطانوی دار العوام سے شام پر حملہ کرنے کی اجازت طلب کی۔ مگر وہاں حکومت کی تجویز کو 15 ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد ڈیوڈ کیمرون کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ حکومت عوامی نمائندوں کی مرضی کے بغیر کوئی کارروائی کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ برطانیہ کے تین چوتھائی عوام بھی شام پر حملہ کے خلاف ہیں۔
صدر باراک اوباما کو شاید اس قسم کی ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر اس کا امکان بہرحال موجود ہے۔ اسی لئے وائٹ ہاﺅس کانگرس میں صدارتی تجویز کو منظور کروانے کے لئے زبردست تگ و دو کر رہا ہے۔ صدر باراک اوباما نے کانگرس کی رائے لینے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر حملہ کی قرارداد کے خلاف روس اور چین کو قائل کرنے میں ناکامی کے بعد کیا تھا۔ صدر اوباما نے ایک بار پھر جوش خطابت میں اقوام متحدہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ادارہ اہم عالمی معاملات پر اقدام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حالانکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو ایک طاقتور ادارہ بنائے۔ امریکہ نے ہمیشہ اس ادارے کو کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ دس برس قبل عراق پر حملہ کے لئے مہلک ہتھیاروں کے بارے میں جعلی ثبوت سلامتی کونسل میں پیش کر کے امریکہ دوسری بڑی طاقتوں کی نظر میں اپنا اعتماد کھو چکا ہے۔
اس کے علاوہ حال ہی میں لیبیا کے خلاف محدود کارروائی کے حق میں سلامتی کونسل کی قرارداد کو سابق حکمران معمر قذافی کے خلاف مکمل جنگ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نیٹو فورسز نے اپنی پوری قوت لیبی حکومت کی طاقت ختم کرنے اور اسے کمزور کرنے میں صرف کی۔ حتیٰ کہ جب سابق حکمران معمر قذافی کو مشتعل ہجوم تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر رہا تھا ، اس وقت بھی نیٹو فورسز نے مداخلت کر کے ان کی جان بچانے کی کوشش نہیں کی۔ روس اور چین اب یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ اگر انہوں نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف محدود کارروائی کی اجازت دے دی تو یہ کارروائی محدود ہی ہو گی۔ امریکی اور مغربی ممالک اور ان کے ہمنوا عرب ممالک بار بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
صدر باراک اوباما کو شام پر حملہ کے حوالے سے دنیا بھر میں بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اگرچہ نیٹو کے ڈینش سیکرٹری جنرل فوگ راسموسن نے یہ کہا ہے کہ شام کو سزا ملنی چاہئے لیکن یورپ کے بیشتر ملکوں کی رائے عامہ اس قسم کی جنگ جوئی کے خلاف ہے۔ فرانس کے سوا کوئی مغربی ملک اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر اس قسم کی کارروائی کا حامی نہیں ہے۔ فرانس میں بھی حکومت امریکہ کی حمایت کر رہی ہے لیکن شام پر حملہ کے لئے قرارداد پارلیمنٹ میں لے جانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اس بارے میں فرانسیسی صدر اور حکومت پر شدید دباﺅ ہے۔ لیکن فرانس کی حکومت برطانوی وزیراعظم کی برطانوی پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد اس سوال پر غیر ضروری رسک لینے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔
ماہرین اور مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ صدر باراک اوباما اپنے سخت بیان کی وجہ سے شام پر حملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس قرار دیا تھا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ کی ریڈ لائن ہے۔ اب اگر وہ اپنے ہی اعلان کے مطابق صدر بشار الاسد کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کی شہرت کو شدید دھچکہ لگے گا۔ مبصرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت میں ایران اور شمالی کوریا کی حکومتوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ زیادہ شدت سے امریکہ مخالف گروہوں کی سرپرستی کریں گی یا ایسے اقدامات کریں گی جنہیں امریکہ مسترد کرتا ہے۔
دریں حالات بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد ایک کمزور اور جنگ زدہ ملک کے قائد کے طور پر امریکہ جیسی سپر پاور کی دھمکی اور حملے کے خطرہ کے باعث فوجی لحاظ سے دیوار سے لگے ہوئے ہیں۔ تاہم حالات اور صورتحال کی ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا کا سب سے طاقتور صدر اس وقت سیاسی لحاظ سے دیوار سے لگا ہوا ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک کی رائے عامہ اور کانگرس مسلسل انہیں ایک ایسی دیوار کی طرف دھکیل رہی ہے جس میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔