تصوف کیا ہے (1)
- جمعرات 05 / ستمبر / 2013
- 9753
پہلا حصّہ
اٰعوذ باللہ ان اکون من الجاہلین
بسم اللہ الرحمان الرحیم
ہمارے ہاں بہت سے تصورات بہت روایتی انداز میں بلا تحقیق قبول کر لیے جاتے ہیں جو بار بار کے اعادے سے فکری بازار کا رائج الوقت سکّہ بن جاتے ہیں ۔ ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم روایت کی لکیر پیٹنے کے بجائے تحقیق کی سیڑھیاں چڑھیں ۔ میں اس سلسلے میں اپنا حاصلِ مطالعہ پیش کر رہا ہوں ۔ یہ فتوا یا اتھارٹی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حتمی فلسفہ ہے ۔ میں اس تحریر کے ذریعے کسی کو کچھ سکھانا نہیں چاہ رہا اور نہ ہی علم کی کوئی نئی گرہ کھول رہا ہوں ۔ یہ میرے مطالعے اور مشاہدے کا سفر ہے ۔ میری گزارش ہے کہ اس مطالعاتی سفر میں آپ میرے ساتھ چلیں ۔ ممکن ہے اس مختصر سی تحریر کے اختتام پر ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں کہ تصوف کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔
سب قارئین کا پیشگی شکریہ ۔ اس توقع کے ساتھ کہ اگر میں کسی اہم نکتے کو واضح نہیں کر سکا تو آپ در گزر فرمائیں گے اور وہ اس لیے کہ ہم تمام پاکستانی نژاد احباب کے درمیان باہمی افہام و تفہیم ، رواداری اور دو طرفہ احترام کو رواج دینا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا اس زمین پر قیام خوشگوار بن سکے ۔ ہمارے بچوں کو امن کا تحفظ ملے اور وہ اپنی آبائی ثقافت سے جُڑ سکیں ۔
تو تصوف کیا ہے ؟
ایک عام آدمی کے لیے یہ کسی درویش کا مقبرہ ہے ، جہاں لوگ منتیں ماننے اور نذرانے چڑھانے کے لیے جاتے ہیں اور جہاں سے تبرک حاصل کر کے خیر و برکت کے متمنی ہوتے ہیں ۔
کچھ لوگوں کے لیے یہ پیر خانہ ہے جہاں لوگ دعائیں منگوانے ، ذہنی اور جسمانی بیماریوں کے لیے تعویذ گنڈے لینے یا پانی دم کروانے آتے ہیں ۔ وہ نرینہ اولاد اور بن بیاہی لڑکیوں کے رشتوں اور نا مساعد معاشی حالات کی تبدیلی کے لیے پیروں کے وسیلے سے رب تک اپنی عرض داشت بھجوانے آتے ہیں ۔
ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ فقیر ، درویش اور ولی اللہ ، خُدا رسیدہ لوگ ہوتے ہیں ،جنہوں نے عبادت و ریاضت سے وہ مقام اور قوت حاصل کر لی ہوتی ہے جو اُن کےلیے رب سے دعائیں قبول کروا سکتی ہے ۔ کچھ لوگ ما فوق الفطرت طاقتوں کو فقیروں اور ولیوں سے منسوب کر کے کشف و کرامات کی کہانیوں میں گم ہو جاتے ہیں اور پیروں اور فقیروں کے بارے میں ایسے محیر العقول واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ عقل کے ناخن لینے والوں کی سِٹّی گم ہو جاتی ہے ۔
یہ تو ہوئی عام لوگوں کی سریع الاعتقادی کی بات لیکن تصوف کی اصل حقیقت کیا ہے؟
تصوف کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تصوف کیا نہیں ہے۔ کیونکہ صوفیا کے یہاں روحانی سفر نفی سے اثبات کی طرف کیا جاتا ہے ۔ یعنی جب آدمی یہ جان لے کہ منفی باتیں کیا ہیں تو وہ اُن کی شناخت کے بعد وہ اثبات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ اس ضمن میں سلطان باہو نے واضح انداز میں بتایا ہے کہ درویشی کیا نہیں ہے ۔ فرماتے ہیں :
نہیں فقیری جلیاں مارن ، سُتّے لوک جگاون ہو
نہیں فقیری وگدیاں ندیاں سُکیاں پار لنگھاون ہو
نہیں فقیری وچ ہوا دے مصلی پا ٹھیراون ہو
فقیر ہے ناں تنہاں دا باہو ، جیہڑے دل وچ دوست ٹکاون ہو
باہو کے نزدیک محیر العقول واقعات فقیری ہیں اور نہ ہی کرامات و شعبدہ بازی ، بلکہ درویشی دلوں میں دوستی کے بیج بونے اور انہیں پروان چڑھانے کا نام ہے ۔ مگر یہ دوستی کس سے ؟ مخلوقِ خُدا کے ذریعے خُدا سے دوستی ۔ ایسی دوستی جو مذاہب اور فرقوں کی تقسیم سے بالا تر ہو ۔
فقیر رنگ ، نسل اور مذہب و ملت کی بنا پر لوگوں سے امتیاز نہیں برتتا ۔ باہو کہتے ہیں :
نہ اوہ ہندو ، نہ اوہ مومن ، نہ سجدہ دین مسیتی ہو
دم دم دے وچ ویکھن مولا جیہناں کدی قضا نہ کیتی ہو
آہے دانے بنے دیوانے ، جیہناں ذات صحیح ونج کیتی ہو
میں قربان تنہاں تھیں باہو ، جنھاں بازی عشق دی جِتّی ہو
محبّت کا راستہ مذہب کی تقسیم سے بالاتر ہے اور کسی بھی جھنڈے تلے جو حق و صداقت سے وابستہ ہو اور جہاں فلاحِ عامہ کا کام ہورہا ہو ، اللہ کا راستہ ہے ۔ قرآن حکیم کی گواہی ہے:
"یقین جانو کہ عربی نبی کے ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی یا صحابی ، جو بھی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کا اجر اُس کے رب کے پاس ہے اور اُس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے "۔
البقرۃ ۔ آیت باسٹھویں ، ترجمہ ابو الاعلی مودودی
خوف اور غم سے رہائی کا راستہ ہی تصوف کا راستہ ہے۔ لیکن تصوف کی اصطلاح پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تصوف کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں ۔ جی ہاں ، نہیں ہے مگر فقیر کا ذکر تو ہے ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے لکھا ہے :
واللہ الغنی و انتم الفقرا ء ۔ کہ صرف اللہ ہی غنی ہے اور تم سب فقیر ہو ۔ جی ہاں ، فقیر کا ذکر قرآن میں ہے مگر اہل سنت والجماعت کا نہیں ہے ، وہابیوں کا نہیں ہے ۔ اہلِ حدیث کا نہیں ہے ۔ اہلِ تشیع کا نہیں ہے ۔ اُن بہتر فرقوں میں سے کسی ایک کا ذکر بھی نہیں ہے جن کے دم قدم سے منبر و محراب کی دنیا آباد ہے ۔ اور نہ ہی یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ چودھویں صدی میں لاہور میں حضرت غلام احمد پرویز کا ظہور ہوگا ۔
تا ہم اِس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں کہیں بھی تصوف یا صوفیوں کا ذکر نہیں ملتا ۔ لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے دوران کبھی بھی یہ اصطلاح استعمال نہیں ہوئی ۔ تاہم تیسری صدی ہجری میں یعنی چھ سو بائیس ہجری کے لگ بھگ کچھ لوگوں کے خود کو صوفی کہنا شروع کیا اور دعوی یہ کیا کہ وہ تزکیہ ء نفس کے ذریعے اپنے کردار اور رویوں کو پاکیزہ بنا کر اُس بلندی تک پہنچنا چاہتے ہیں جہاں سے وہ حقیقتِ اولی یعنی اللہ تعالی کو دیکھ سکیں اور حیات و کائنات کے اسرار و رموز جان سکیں ۔
دسویں صدی عیسوی کے مشہور محقق الکندی نے سکندریہ میں ظاہر ہونے والے ایک گروہ کا حوالہ دیا ہے جس کے اراکین نیکی کی ہدایت کرتے اور برائی سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔ اُن لوگوں کو صوفی کہا جاتا تھا ۔ ابوالقاسم قشیری کا بیان ہے کہ صوفی بطور طائفہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دو سو سال بعد منظم ہوئے ۔ المسعودی نے صوفیوں کو پہلی بار خلیفہ مامون الرشید عباسی کے دور میں دیکھا تھا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ اتنی تاخیر سے منظرِ عام پر کیوں آئے ۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ کی جاتی ہے کہ ابتدا میں لوگ جوق در جوق اسلام کے پرچم تلے جمع تو ہو گئے لیکن اُن کی اکثریت اُس اسلامی طرزِ زندگی سے واقف نہیں تھی جسے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے متعارف کروایا تھا ۔
آسمان کی عظیم بادشاہت نے عربوں میں سے جس شخص کو پیغمبر کے منصب کے لیے منتخب کیا وہ بچپن سے لے کر چالسیویں برس تک صادق و امین کے منصب پر فائز رہے ۔ یہ وہ منصب تھا جس سے دوست دشمن کسی کو انکار نہیں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمحہ لمحہ ، اور سانس سانس ایک کڑے احتساب کی تلوار کے نیچے موافقین اور مخالفین سے خراجِ صداقت و امانت داری لیا جو اس منصب کے شاہد ، تصدیق کنندہ اور گواہ تھے ۔ چنانچہ جس خلقِ عظیم کے حامل آپ تھے ، اُس کے بنیادی ارکان حسبِ ذیل ہیں:
1۔ زبان کی پاکیزگی اور سچائی
2۔ معاملات اور لین دین میں ایمانداری اور دیانتداری
3۔ اپنے تمام معاملات اور اعمال کا کڑا محسابہ
4۔ اخوت پر مبنی مساوات کا تصور
5۔ تمام انسانوں سے شفقت اور محبت کا یکساں سلوک
یہ وہ خوبیاں ہیں جن کو اختیار کرنے کے لیے کڑی ریِاضت کرنی پڑتی ہے ۔ یہ خوبیاں کلمہ پڑھ لینے ، حلف اُٹھا لینے ، بیعت کرنے یا جماعت اسلامی یا جمعیت العلماء کی رکنیت کا فارم پُر کرنے سے ایک دن میں پیدا نہیں ہو جاتیں۔ بلکہ اس کے لیے سالہا سال کی عملی ریاضت درکار ہوتی ہے ۔ چنانچہ ان شرائط کو سامنے رکھ کر صوفی لٹریچر سے تصوف کی جو تعریف وضع ہوتی ہے ، اس کو درج کرنے سے پہلے میں البیرونی کی "کتاب الہند" میں دی گئی لفظ صوفی کی وضاحت کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں :
" یونانی میں حکمت کو سوف کہتے ہیں اور اسی سے فلسفی کا پہلا نام فیلا سوفا یعنی محبِ حکمت رکھا گیا ۔ جب اسلام میں ایک جماعت نے قریباً وہی رائے اختیار کی جو ان یونانی حکما کی تھی تو اُن کا نام وہی رکھ دیا گیا ۔ بعض لوگوں نے اس لقب کی حقیقت کو نہیں جانا اور بسبب توکل کے صوفیوں کو صفّہ کی طرف منسوب کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ صوفی نبی صلعم کے اصحابِ صفّہ ہیں ۔ پھر اس میں تصحیف یعنی تلّفظ اور کتابت کی غلطی ہوئی اور وہ بھیڑوں کی اون سے مشتق قرار دیا گیا ۔ ابوالفتح بستی نے اس رائے سے خوبصورتی کے ساتھ انکار کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ صوفی کی نسبت لوگوں میں اختلاف ہے۔ ہم یہ نام اُس جوان مرد کے سوا کسی کو نہیں دیتے جو " صوفی فصوفی" کے مصداق ہے ۔ یعنی صفائی اختیار کی صاف بنا دیا گیا ، یہاں تک کہ اُس کا لقب صوفی ہوگیا "۔
تصوف کی تعریف
علم تصوف ، باطن کی شریعت یعنی تہذیبِ نفس کے اصولی ڈھانچے اور قواعد و ضوابط کا نام ہے۔ جن کی پابندی کے بغیر ظاہری شریعت محض ایک دکھاوا ، نمائش اور ریاکاری بن جاتی ہے ۔ لفظ صوفی کا مفہوم اس کے چاروں حروف میں پنہاں ہے ۔ یہ چار حروف ہیں " ص ، و ، ف ، اور ی۔
ص ، صدق صفا کی طرف اشارہ ہے ۔ واؤ عالمِ انسانیت کی وحدت اور اللہ تعالی کی وحدانیت کا کنایہ ہے ۔ ف سے فنا فی اللہ مراد ہے جس کا مطلب ہے رضائے خداوندی کے لیے وقف ہو جانا اور ی یکتا اور یگانہ ہونے کا استعارہ ہے ۔
اس مفہوم کی روشنی میں صوفی وہ ہوتا ہے جو صدق و صفا کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے تمام انسانوں سے محبت کا راستہ اختیار کرے اور ان پاکیزہ رشتوں میں مستحکم ہو کر یکتا و یگانہ ہو جائے ۔
(جاری ہے)