برق گرنے کو ہے
- جمعہ 06 / ستمبر / 2013
- 4732
عراق اور افغانستان کے بعد امریکہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ پر قہر ڈھانے کو تیار نظر آ رہا ہے اور اس بار نشانہ ہے شام۔ اس بات سے اکثر لوگ آشنا ہیں کہ گزشتہ چند ماہ سے شام پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ یوں تو دو سال سے زائد عرصہ سے شام خانہ جنگی کا شکار ہے۔ جس کی بڑی وجوہات میں سے ایک بیرونی مداخلت بھی ہے۔
لیکن جنگ کا حقیقی خطرہ تب ابھرا ہے۔ جب مبینہ طور پر شامی صدر بشار الاسد کی فوج نے دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے سینکڑوں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔اس معاملے پر مغرب اور بعض عرب ممالک نے فوراً یہ الزام صدر بشار الاسد پر دھر دیا۔ تاہم شامی حکومت اور چین و روس نے ان الزامات کی تردید کی۔
لگتا ایسا ہے کہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہی امریکہ شام پر جنگ مسلط کر دے گا۔ مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہاز شام کے قریب پہنچے ہوئے ہیں۔ اور شام کے خلاف جنگ کا طبل بس اب بجنے کو ہے۔ اسی طرح کا منظر نامہ اس سے بیشتر بھی تیار ہو چکا ہے۔ جس کا نشانہ عراق بنا تھا اور وہ جنگ عراقی صدر صدام حسین اور لاکھوں عراقیوں کی موت پر منتج ہوئی تھی۔
اس کے بعد بھی عراق آج تک خونی خانہ جنگی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ صدام حسین پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے خطرناک کیمیکل ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ حالانکہ بعد ازاں یہ الزام غلط ثابت ہوا اور امریکی حکام نے اسے تسلیم بھی کیا۔ سی آئی اے اور دیگر امریکی ایجنسیاں پہلے سے ہی جانتی تھیں کہ اس الزام میں صداقت نہیں ہے۔ لیکن امریکی صدر بش نے عراق کو جنگ میں دھکیل کر لاکھوں بے گناہ عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
صدام حسین کی طرح اب بشار الاسد بھی امریکہ کے خاص نشانے پر ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ نے متعدد جنگیں تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے لڑیں اور اس پالیسی کے تحت پہلے افغانستان اور پھر عراق کو نشانہ بنایا گیا۔ اور اس کے بعد لیبیا میں کرنل معمر قذافی کو بھی راستے سے ہٹایا گیا۔ جس کے بعد وہاں نہ صرف امریکہ کی حامی حکومت قائم کروائی گئی بلکہ وہاں کے تیل کے ذخائر پر امریکی کمپنیاں کا بھی قبضہ ہو گیا۔
شام میں گو تیل کے ذخائر کی فراوانی نہیں ہے۔ لیکن شام مشرق وسطیٰ کا وہ واحد ملک ہے جس نے شروع سے لے کر اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے نہ ہی اس کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ اور وہ اس خطے میں ایران اور لبنان کے ساتھ مل کر امریکہ کی مخالفت کا پرچم بھی بلند کئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکمرانوں ، بااثر یہودی لابی اور اسرائیل کی نگاہوں میں شام اور اس کے صدر بشار الاسد بری طرح کھٹک رہے ہیں۔ ا
س حقیقت سے دنیا واقف ہے کہ جب کبھی امریکہ کی نظروں میں کوئی حکومت کھٹکنے لگے تو وہ اس کا تختہ الٹنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ جو عراق میں صدام حسین کے خلاف کیا گیا وہی اب بشار الاسد کے خلاف کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
لیکن اس بار امریکہ کو چند ایسی مشکلات درپیش ہیں جن سے نمٹنا اس کے لئے از حد مشکل ہو گا۔ تاہم قیاس پھر بھی یہی نظر آ رہے ہیں کہ یہ حملہ ہو کر رہے گا۔ صدر اوباما کو جو مشکلات درپیش ہیں ان میں سے بڑی وجہ افغانستان اور عراق جنگ کے بعد امریکہ کی معیشت کی کمر ٹوٹنا بھی شامل ہے۔ جنگ کی مخالفت میں امریکہ کے اندر ایک بڑی لابی احتجاج کرتی نظر آ رہی ہے اور عوام بھی اب امریکہ کے مزید کسی جنگ میں الجھنے کے حق میں نظر نہیں آتے۔
ادھر برطانیہ کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو شام کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں دی جبکہ جرمنی نے بھی شام پر حملے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھر روس اور چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے امریکہ کو شام پر حملے کی اجازت حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم امریکہ میں موجود جنگ پسند لابی جس کے مفادات جنگوں سے ہی وابستہ ہیں صدر اوباما پر حاوی نظر آ رہی ہے۔ اور اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ جلد ہی شام پر حملہ کر دے گا ۔ جنگ کا بڑا اشارہ امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کی جانب سے شام پر حملے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی ہے۔
ادھر ایران ہر طریقے سے شام کی پشت پر کھڑا ہے اور پاسداران انقلاب ہر حال میں صدر بشار الاسد کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ روس اور چین کے مفادات بھی اس خطے سے وابستہ ہیں۔ یہ طاقتور ممالک یقیناً شام پر حملے کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ اگر شام پر حملہ ہوا تو اس کے اثرات بہت سنگین ہوں گے۔ جس کے اثرات اس خطہ کے علاوہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ جنگ کی برق بس گرنے کو ہے۔ مگر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ برق کس کس کو خاکستر کرے گی۔