تصوّف کیا ہے (2)

  • جمعہ 06 / ستمبر / 2013
  • 14693

انسانوں سے محبّت ، خُدا تعالی سے محبّت ہے۔ کیونکہ تخلیق اپنے خالق کا عمل ہوتی ہے ۔ اس تخلیق کو خالق نے احسن تقویم کا نام دیا ہے ۔ چنانچہ خالق نے جو مخلوق بنائی ہے ، اُس سے محبّت ہی خالق سے محبّت ہے ۔

یہ محبّت کیا ہوتی ہے؟
حضرت نور والے فاضلی قادری علیہ رحمت نے محبوب کی جو تعریف بیان کی تھی وہ اشفاق احمد صاحب کے حوالے سے خاصی معروف ہو چکی ہے ۔ آپ نے فرمایا تھا کہ محبوب وہ ہوتا ہے جس کی اچھی نہ لگنے والی بات بھی اچھی لگے ۔
تو پھر محبّت کیا ہوئی ؟ محبّت یہ ہے کہ خطائوں اور خامیوں کے باوجود اللہ کی مخلوق سے تعلق نہ توڑا جائے۔

مولانا روم فرماتے ہیں :
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی

تو لوگوں کو آپس میں ملانے کے لیے آیا ہے ، اُن کو ایک دوسرے سے جُدا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔ یہ وہی مفہوم ہے جو قرآن میں "ولا تفرقو" کے حکم سے وضع ہؤا ہے ۔ مولانا رومی نے مثنوی کے آغاز میں محبت کی باقاعدہ تعریف وضع کی ہے ۔ فرماتے ہیں :
ہر کہ را جامہ ز عشقے چاک شُد
او ز حرص و عیب کُلّی پاک شُد

جس کا لباس عشق نے چاک چاک کردیا ہو، وہ تمام برائیوں اور حرص و ہوس سے پاک ہوجاتا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ محبّت کرنا ہر برائی اور بے حیائی سے پاک ہو جانے کا نام ہے ۔ برائی اور بے حیائی سے پاکیزگی کا عمل اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اس محبت کا نقطہء آغاز یہ ہے کہ پہلے اپنی ذات سے محبت کی جائے ۔ کیسے؟

خود کو بنایا ، سنوارا اور نکھارا جائے ۔ مگر کیسے؟ اپنے ظاہر کے اندر باطن میں اعلیٰ اوصاف کی پرورش کی جائے ۔ اور اساسِ صلوٰۃ بھی بالکل یہی ہے۔ قرآن میں صلوٰۃ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ انسان کو برائی اور بے حیائی سے پاک کرنے کا طریقِ کار ہے ۔
ان الصلوۃ تنہا عن الفحشا والمنکر ۔

صلوٰۃ جس کا فارسی متبادل ہمارے یہاں رائج ہے ، قرآن کا ایک نسخہ ء کیمیا ہے جو پاکیزگی اور نیکی سے سرشار اور دولتِ محبت سے مالا مال کرتا ہے ۔

چنانچہ صلوۃ کیا ہے؟
اللہ سے محبت کرنا ۔ اللہ سے محبت کرنا زمین اور آسمان کی روشنی سے محبّت کرنا ہے ۔ روشنی جب انسانی اعمال میں داخل ہوتی ہے تو وہ مثبت اقدار کی شکل میں داخل ہوتی ہے ۔ چنانچہ انسانی رویوں میں روشنی علم ، سرخوشی ، نظم و ضبط ، قناعت ، انصاف ، فیاضی ، راستبازی ، شفقت ، تحمل، بردباری ، نیک نیتی اور ہوشنمدی بن کر قیام کرتی ہے ۔
یہ محبت نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی آزمودہ اور شافی دوا ہے ۔ مولانا روم محبت کو ایک طبیبِ کامل کا درجہ دیتے ہیں ۔ فرماتے ہیں :
شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علت ہائے ما
اے دوائے نخوت و ناموس ما
اے تو افلاطون و جالینوس ِ ما

اے ہماری دیوانگی اور جنون ، خوش رہو کیونکہ تم ہماری تمام بیماریوں کے طبیب ہو ۔ تم ہماری نخوت اور انا کی بیماریوں کی دوا ہو اور تم ہمارے لیے افلاطون اور جالینوس ہو ۔ واضح رہے کہ افلاطون علم و عرفان کا استعارہ ہے اور جالینوس طبّی مہارت کا ۔

اگر ان تاویلات کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو محبت انسانوں کا ایک دوسرے سے برابری کا سلوک ہے ۔ چانچہ ادارہ ء رسالت سے فرمان جاری ہؤا کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرو ۔ اپنے ہاتھ اور زبان سے نہ زیادتی کرو نہ بد دیانتی ۔ اور تمہیں جو دولت ملی ہے اُسے دو حصوں میں تقسیم کرو ۔ایک حصہ ضرورت ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرو اور گھر والوں کی کفالت کرو۔ اور جو ضروت سے زائد ہو وہ اُن پر خرچ کرو جن کے پاس نہیں ہے ۔

قرآنِ کریم میں مرقوم ہے :" یسئلونک ماذا ینفقون " وہ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ ارشاد ہوتا ہے " قل العفو"۔ جو ضروت سے زائد ہو ۔ قرآن نے معاشیات کے ضمن میں ضرورت اور خرچ کی جو اصطلاحیں وضع کی ہیں، اُن کے مطابق اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کو ضرورت کہا گیا ہے اور اس سے جو بچ جائے اُسے خرچ کا نام دیا گیا ہے۔ کہ خرچ وہی ہے جسے دوسروں پر کیا جائے ۔

مال اللہ تعالی کا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ تمام وسائل یعنی مال و دولت انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہیں ۔ اس مال میں ہر ایک کا حق ہے۔  یہاں تک کہ پتھر میں پلنے والے کیڑے کا بھی حق ہے ۔ اسی لیے مساوات کا جو ارفع اصول بنایا گیا اُس کے مطابق حکم ہے کہ جو خود کھاؤ وہی اپنے غلام کو بھی کھلاؤ ، جیسا خود پہنو ، ویسا ہی اپنے غلام کو بھی پہناؤ ، کیونکہ تمام اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ایک ہی باپ آدم اور ایک ہی ماں حوا کی اولاد ہیں ۔ اُن سب کے حقوق یکساں ہیں ۔

چانچہ صوفی حصولِ رزق کی ضمانت کو فوقیت دیتا ہے ۔ سلطان باہو فرماتے ہیں:
مُرشد اوہی سہیڑیئے جیہڑا دو جگ خوشی وکھائے ہو
پہلے غم ٹُکڑے دا میٹے وت رب دا راہ سمجھائے ہو

حصولِ رزق کو فوقیت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کی ضمانت کو یقینی بنایا جائے کہ مخلوقِ خُدا میں سے کوئی بھی رات کو بھوکا نہ سوئے ۔ کیونکہ بھوکے آدمی کے لیے زندگی کی بقا کی ضمانت موجود نہیں اور ایسا آدمی رب کو پوجنے کے بجائے پیٹ پوجا میں لگا رہے گا ۔

ہر چند کہ عوام کو رزق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مگر صوفیوں نے اپنے طور پر دو وقت کی روٹی کی فراہمی کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جسے لنگر کہا گیا ۔ اور وہ اس لیے کہ حکم یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار بھی ہے اور جواب دہ بھی ۔ اسی ذمہ داری کی جواب دہی کا ثبوت لنگر ہے ۔ یہ اس بات کی تلقین ہے کہ جس طرح درویش لوگوں کے لیے دال روٹی کا اہتمام کرتا ہے ، اُس کے مرید بھی اسی روایت کو قائم رکھیں اور دولت کی تقسیم کا عمل جاری رہے اور ضروت سے زائد مال خرچ ہوتا رہے ۔ کیونکہ مال کو جمع کرنا تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ سورہ ہمزہ میں واشگاف کیا گیا ہے کہ:
" تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے ، جو مونہہ پر طعنے دے ، پیٹھ پیچھے برائی کرے اور مال جمع کرے اور گن گن کر رکھے "۔

جب روٹی اور روزگار کے وسائل کی تقسیم منصفانہ نہ ہو تو باہمی آویزش ، لڑائی جھگڑے اور مقابلے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ۔ بھتہ خوری اور پرچی رواج پاتی ہے ۔
چنانچہ صوفی قناعت پسندی اور چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کی راہ اختیار کرتا ہے۔ تاکہ وسائل کا ارتکاز اُس کا طریقہ نہ قرار پائے اور وہ اپنی ضرورت سے زیادہ کچھ نہ رکھے ۔

صوفی کا اعتراض یہ ہے کہ "واللہ یرزق من یشاء" ، یعنی اللہ جس کو چاہے بے حساب رزق دیتا ہے کی غلط تفسیر معاشرے میں رائج ہے ۔ صوفی کے نزدیک رزق اس لیے بے حساب دیا گیا ہے تاکہ اُسے حساب سے خرچ کیا جائے ۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ:
" کلو واشربو ولا تسرفو"
کھائو ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو ۔

فضول خرچی حد کو توڑنے کا نام ہے جسے شیطانی کام قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن نے وضاحت کی ہے کہ:
ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین ۔ کہ اپنی حدوں سے گزرنے والے شیطانوں کے برادری کے لوگ ہیں ۔ یہ حد سے گزرنا کیا ہے؟ اعتدال اور توازن کی حد سے گزر جانا ۔ چنانچہ فضول خرچی ہو یا کنجوسی۔ دونوں شیطانی کام ہیں ۔

شیطانی کام کیا ہے ؟
ہر وہ کام جو انسانی فلاح کے خلاف ہو اور شرفِ انسانیت کی نفی کرے وہ شیطانی کام ہے ۔ چانچہ ہر جرم ، قانون شکنی ، بد اخلاقی ، لالچ ، غصّہ ، بدعنوانی ، بد کاری اور ظلم و چیرہ دستی شیطانی کاموں کی ذیل میں آتے ہیں ۔  انہی شیطانی کاموں کو آج کے محاورے میں کرپشن ، منی لانڈرنگ اور وسائل کے غلط استعمال کا نام دیا جاتا ہے ۔
(جاری ہے )