کوئی فرق نہیں پڑنے والا

  • ہفتہ 07 / ستمبر / 2013
  • 5737

پیر 9 سمبت کو ناروے میں ستورتنگ (پارلیمنٹ) کا انتخاب ہونے والا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ موجودہ حکومت اقتدار قائم نہیں رکھ سکے گی اور ملک کی نئی حکومت ہائرے پارٹی کی لیڈر ارنا سولبرگ کی قیادت میں قائم ہو گی۔

وزیراعظم ینس ستولتن برگ ایک مقبول سیاسی لیڈر ہیں۔ وہ سیاسی مصالحت کے ماہر اور معاشی امور میں دسترس رکھتے ہیں۔ انہیں عوام میں ذاتی طور پر مقبولیت بھی حاصل رہی ہے۔ اب بھی وہ مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ اس کے باوجود وہ ریڈ گرین اتحاد کی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ متعدد غیر ملکی صحافی جو ناروے کے انتخاب پر رپورٹنگ کرنے کے لئے اوسلو آئے ہوئے ہیں ، یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ عوام اس بار ایک ایسی حکومت کو کیوں اقتدار سے محروم کرنا چاہتے ہیں جس کے دور میں ملک کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے اور لوگوں کو عام طور سے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔

ایک جرمن اخبار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : ” ناروے کے ووٹر موجودہ برسر اقتدار پارٹیوں سے بور ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے اب وہ تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ نئے لوگ ملک کی حکمرانی کریں ۔ بصورت دیگر ملک میں تبدیلی کی کوئی سیاسی وجوہات نہیں ہیں۔ معیشت ترقی کر رہی ہے ، بیروزگاری کی شرح بدستور کم ہے اور املاک کی قیمتوں میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کو تبدیل کرنے کی بھی کوئی اہم وجہ موجود نہیں ہے۔“

یہ تبصرہ کسی حد تک درست ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی بڑی حد تک درست ہے کہ ناروے کے لوگ مطمئن اور خوش ہیں اور وہ کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کرتے۔ تاہم ناروے جیسے امیر ملک میں بھی لوگوں کو علاج معالجے اور بڑھاپے میں حاصل ہونے والی سہولتوں کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں۔ ملک میں پونے تین لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کو علاج کروانے یا آپریشن کے لئے اسپتال میں داخلے کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں دائیں بازو کی قدرے انتہا پسند پارٹی فریم اسکرنس پارٹی کی یہ دلیل لوگوں کو اپیل کرتی ہے کہ ناروے تیل سے کثیر دولت حاصل کر رہا ہے لیکن اس کے ہر مریض کو فوری علاج میسر نہیں ہے۔ بوڑھے لوگوں کو متعدد اوقات بنیادی سہولتیں حاصل کرنے کے لئے غیر ضروری انتظار اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

عام لوگ ملک میں بیورو کریسی سے بھی عاجز ہیں۔ خاص طور سے سماجی بہبود کے معاملات دیکھنے کے لئے NAV کے نام سے ایک مرکزی ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے سے اکثر شکایتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ ریڈ گرین اتحادی حکومت نے صحت کے شعبہ میں اصلاحات کرتے ہوئے سہولتوں کو سنٹرلائز Centralise کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بھی اکثر اوقات شکایتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اس لئے بعض لوگ اب حکومت میں اس لئے تبدیلی کے خواہاں ہوں گے کہ اس طرح شاید ان سہولتوں میں بہتری آ سکے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند پارٹیوں کا جو اتحاد آئندہ پارلیمنٹ میں ممکنہ طور پر اکثریت حاصل کرے گا وہ بھی یہ صورتحال تبدیل کرنے کے لئے کوئی ڈرامائی تبدیلی کا وعدہ نہیں کرتا۔ فریم اسکرنس پارٹی اگرچہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تیل کی آمدنی سے صرف 4 فیصد استعمال کرنے کا اصول تبدیل کرتے ہوئے زیادہ وسائل قومی ترقیاتی کاموں پر صرف کئے جائیں گے ۔ تاہم اس اتحاد کی دوسری تین پارٹیاں اس قاعدے کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وزیراعظم کی امیدوار ارنا سولبرگ نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر صورت 4 فیصد کے اصول کو برقرار رکھیں گی۔ اس طرح اس حوالے سے نعرے بازی سیاسی مباحث میں رنگ آمیزی تک محدود رہے گی۔

قدامت پسند پارٹیاں صحت کے شعبہ میں نجکاری کو وسعت دے کر تبدیلی لانے کا اعلان کرتی ہیں۔ ان کے خیال میں اس طرح سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اسپتالوں کو مسابقت کی وجہ سے سہولتیں بہتر کرنا پڑیں گی۔ حالانکہ نجی شعبہ میں اسپتال اب بھی موجود ہیں۔ اس سہولت میں اضافہ کرنے سے امیر لوگوں کو تو ضرور اپنے وسائل سے علاج معالجہ کرانے کی سہولت حاصل ہو جائے گی مگر اوسط آمدنی والے عام آدمی کی صورتحال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی طرح آمدنی پر ٹیکس کم کرنے یا جائیدار پر ٹیکس ختم کرنے کے وعدوں پر عملدرآمد کے باوجود اس کا فائدہ ایک محدود طبقے کو ہی ہو گا۔ ان تبدیلیوں سے عوام الناس کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

قدامت پسند پارٹیاں ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ برسر اقتدار آ رہی ہیں۔ ریڈ گرین پارٹیوں کے اتحاد نے 8 برس تک حکومت کی ہے۔ سیاسی طور پر اس اتحاد میں شامل تین پارٹیوں میں سے صرف دو چھوٹی پارٹیوں کو گہری عدم مقبولیت کا سامنا ہے۔ ایس وے اور سینٹر پارٹی کو ووٹر اپنی پارٹیوں کی حکومت سے اپنے اپنے نقطہء نظر کے مطابق زیادہ بہتر نتائج کی توقع کر رہے تھے۔ اس لئے اس انتخاب میں ان دونوں پارٹیوں کو ووٹروں کی ناراضگی کا سامنا ہے۔

اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایس وے پارٹی پر پڑا ہے۔ یہ پارٹی بمشکل 4 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی۔ اگر اس پارٹی کو 4 فیصد ووٹ نہ ملے سکے تو متناسب نمائندگی کے طریقہء کار کے مطابق اسے صرف اس ضلع میں نشست حاصل ہو گی جہاں پارٹی کو بڑی شرح سے ووٹ ملیں گے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں پارٹی کے لئے پڑنے والا ووٹ اس انتخابی طریقے کے مطابق ضائع ہو جائے گا۔ پارٹی قیادت نے گزشتہ چند روز کے دوران یہ جدوجہد کی ہے کہ وہ 4 فیصد کی حد عبور کر سکے۔ اس طرح پارٹی آئندہ ستورتنگ میں کم از کم 7 نشستیں حاصل کر لے گی۔ بصورت دیگر اسے صرف ایک یا دو نشستیں ہی مل سکیں گی۔

ایس وے کو سب سے بڑا چیلنج نئی پارٹی گرین کی طرف سے درپیش ہے۔ عام طور سے یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ گرین پارٹی نے ایس وے کے کافی ووٹ اپنی طرف متوجہ کر لئے ہیں۔ گرین پارٹی ماحولیاتی پارٹی ہے اور ملک میں تیل نکالنے کی ساری سرگرمی کو ختم کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اس طرح ماحولیات پر منفی اثر مرتب ہوتا ہے جو طویل المدت ملکی معیشت اور صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اگرچہ اس پارٹی کو دو سے تین فیصد لوگ ہی ووٹ دینگے۔ اس طرح اسے ستورتنگ میں ایک دو نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔ تاہم مبصرین کے مطابق یہ سنسنی خیز امکان بھی موجود ہے کہ گرین پارٹی 4 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور ایس وے کو 4 فیصد سے کم ووٹ ملیں۔ اس طرح صورتحال ڈرامائی طور پر تبدیل ہو جائے گی اور پارلیمنٹ میں ماحولیاتی معاملات پر سرگرم لوگوں کو مضبوط آواز میسر آ جائے گی۔

ریڈ گرین اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی آربائیدر پارٹی کو بھی سخت مشکل درپیش ہے۔ یہ پارٹی طویل عرصہ تک ملک کی سب سے بڑی پارٹی رہی ہے۔ اب اس کی کوشش ہے کہ یہ پوزیشن برقرار رکھی جائے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں اس پوزیشن کے لئے ہائرے پارٹی سے اس کا سخت مقابلہ ہے۔ اگرچہ بیشتر جائزوں میں آربائیدر پارٹی ہی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن بعض جائزوں میں ہائرے کو بھی سبقت حاصل ہوئی ہے۔ دونوں پارٹیاں مقبولیت کے لحاظ سے 30 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ انتخابی مہم کے آخری دن پارٹی لیڈر ڈبیٹ کی وجہ سے اس صورت میں اچانک تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ اگر آربائیدر پارٹی انتخابات کے نتیجے میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے نہ آ سکی تو یہ وزیر اعظم ستولتن برگ کے لئے سخت ہزیمت ہو گی۔ وہ اپنی پارٹی کے لیڈر بھی ہیں۔ اس طرح آربائیدر پارٹی کا یہ خواب شرمندہء تعبیر ہونے کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے کہ قدامت پسند پارٹیوں میں اختلافات کے سبب ان کی حکومت ناکام ہو جائے گی اور اس طرح آربائیدر پارٹی ایک یا دو سال کی مدت میں اقلیتی حکومت کی قیادت کر سکے گی۔

قدامت پسند پارٹیوں میں ابھی تک حکومت سازی کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اس لئے ریڈ گرین اتحاد کے لیڈر ان پارٹیوں پر یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ وہ اختلافات اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ یہ غیر یقینی اس لئے بھی نمایاں ہو جاتی ہے کہ قدامت پسند اتحاد کی تین چھوٹی پارٹیوں فریم اسکرتس پارٹی ، کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی اور ونسترے پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حکومت میں بیٹھنے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ فریم اسکرتس پارٹی کی قائد یہ اعلان کرتی رہی ہیں کہ اگر ان کی پارٹی حکومت کا حصہ نہ بنی تو وہ حکومت کی حمایت بھی نہیں کر سکتی۔ جبکہ دوسری دونوں پارٹیاں نظریاتی اور سیاسی طور سے فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر راضی نہیں ہیں۔ تاہم عام قیاس یہی ہے کہ قدامت پسند گروپ میں سیاسی اشتراک کا معاملہ انتخابی نتائج کے بعد ہی حل ہو سکے گا۔ اگر فریم اسکرتس پارٹی کو حسب توقع مقبولیت حاصل نہ ہو سکی تو اس کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا۔ اس طرح اگر وینسترے یا کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کا نتیجہ قابل قدر نہ رہا تو ان کے مطالبے نہیں مانے جائیں گے۔

ناروے کی آئندہ حکومت کوئی بھی گروپ بنائے اور حکومت میں جو بھی پارٹیاں شامل ہوں ، کسی کو ملکی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع یا اندیشہ نہیں ہے۔ اس لئے ناروے کے سب سے بڑے اخبار آفتن پوستن کے مبصر ہیرالڈ ستانگ ہیلے HARALD STANGHELLE نے آج اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ : ” ملک کے عوام کی بڑی اکثریت کو اس بات کا پتہ ہے کہ ان انتخابات میں ملک کا مستقبل داﺅ پر لگا ہؤا نہیں ہے۔ اگرچہ بعض سیاستدان اپنے بیانات کے ذریعے یہی تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں“۔