آشا آستھا شردھا پامال ہوئی
- اتوار 08 / ستمبر / 2013
- 5428
انسان کے فکر و قلب میں یہ عقیدہ ہر لمحہ جاگزیں ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کا وجودہے بلکہ اس نے ابلیس اور اس کے ساتھیوں کے پھیلائے شر کے خلاف رسولوں کے سلسلے کو بھی جاری کیا ۔ اللہ کی تعلیمات کو انسانوں تک پہنچانے کا ذریعہ رسول بنے۔اور رسولوں تک معزز ملائکہ نے اللہ کی تعلیمات پہنچانے کی اہم ذمہ داری انجام دی۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جس معزز فرشتہ نے اللہ کی تعلیمات پہنچائیں ان کا نام حضرت جبریل ہے۔جبریل ؑ نے اللہ کے اذن سے محمدؐ تک تک جو تعلیمات پہنچائیںیہ وہی ہدایات اور احکامات ہیں جسے عام لفظوں میں قرآن کہا گیا۔
اس طرح یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے اللہ ہے،اس نے اپنے کاموں کی انجام دہی کے لیے ملائکہ بنائے،رسولوں تک معزز ملائکہ اللہ کی ہدایات پہنچانے کا ذریعہ بنے،چند رسولوں پر اللہ کی تعلیمات کتاب کی شکل میں نازل ہوئیں،اورہدایت و رہنمائی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آخری کتاب جو آج دنیا میں موجود ہے اس کا نام قرآن ہے۔لہذا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اللہ،ملائکہ،کتاب،رسول، آخرت ، تقدیر اورابدی زندگی پر ایمان لایا جانا ناگزیر ہے،کیونکہ قرآنی تعلیمات ٹھیک اُسی طرح آج بھی موجود ہیں جس طرح وہ اپنے نزول کے وقت سنی،پڑھی اور لکھی گئیں تھیں۔
ڈھونگ
قیاسات پر مبنی خدائی تعلیمات کے دعویدارایک جانب اپنے ناپاک عزائم کو برسرپیکار لانے کی منظم سعی و جہد کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب ان کے پاکھنڈ کا شکار ہونے والے بنا غور وفکر،بلا تحقیق صحیح و غلط کی تمیزکیے بغیر جب شخصیات کو معزز و معتبر گردانتے ہیں تو کبھی دیر یاجلد جب حقیقت ان پر آشکارا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ان بھکتوں اور عقیدت مندوں کو بڑی ٹھیس پہنچتی ہے ۔ کچھ ایسا ہی واقعہ حالیہ دنوں ہندوستان میں ایک معزز و معتبر سمجھنے جانے والے بابا ،آسا رام اور ان کے بھگت کے ساتھ ہوا۔معاملہ آبروریزی کی شکار16سالہ نابالغ لڑکی کا ہے جس کے والد ،والدہ،بھائی اور خود وہ متاثرہ سنت آسارام باپو کو خدا مان کر اُن کی لگن میں پاگل تھے۔
واقعہ یہ ہے کہ اُسی متاثرہ لڑکی کے والد نے واقعہ سے قبل شاہجہاں پور میں آشرم کے لیے زمین خرید کر دی۔لاکھوں روپے باپو کی خدمت میں خرچ کیے۔ لیکن اندھی عقیدت میں انہیں سنت کے اندر بیٹھا راکشس کبھی دکھائی نہیں دیا۔بیٹی کے ساتھ آبروریزی واقعہ گزرنے کے باوجود والد کو یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ "ان کا خدا" ایسا بھی کر سکتا ہے۔لیکن جب بیٹی کو اعتماد میں لے کر پوچھا تواس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار پھوٹ پڑی۔بولی باپو،باپو نہیں بہروپیا ہے، راکشس ہے۔
اس موقع پر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ باپو کون ہیں؟ آسارام کا اصل نام آسو مل سروملائی ہے۔پاکستان کے سندھ میں پیدا ہونے والے 72سالہ آسارام نے اپنے37سال کے سنت کیریر کی سلطنت میں دنیا بھر میں425آشرم اور50سے زیادہ گروکل،1400ویدانت کمیٹیاں،17000بال سنسکار مراکز قائم کر چکا ہے۔ باپو کی جائداد کامجموعی طور پر 8000کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔بچپن سے مذہبی رجحان رکھنے والے آسومل(آسارام) نے ماں کے کہنے پر لکشمی دیوی سے شادی بھی کی لیکن بعد میں 1968 میں گھر چھوڑ کر نینی تال میں سوامی لیلا شاہ باپو مہاراج کے آشرم میں چلے گئے۔گرو لیلا شاہ جلد ہی ان کی حرکتوں کو پہنچان گئے اور آشرم آنے پر پابندی لگادی ۔
اس کے باوجود ایک بار آسارام آشرم آئے اور پھر اس گرو نے آشرم سے باہر نکال دیا۔اس کے بعد آسو مل گجرات کے احمد آباد آئے اور وہاں سابرمتی ندی کے کنارے موئیراگاؤں میں1971میں پہلا آشرم کھولا اور پروچن دینے شروع کیا۔1959میں گجرات کے بیجاپور میں آسارام پر ایک شخص کے قتل کا الزام بھی لگا۔بیجا پور کے سابق گارڈرجک بھائی کا کہنا ہے کہ 1959میں آسو مل شراب کا کاروبار کرتے تھے اور ایک دن زیادہ شراب پینے کی وجہ سے پرشورام نام کے ایک شخص کے ساتھ مل کر ایک دوسرے شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔2000ء میں گجرات کے ضلع نوساری کے بھیروی گاؤں میں آشرم کی زمین ہڑپ لینے کا الزام لگا اور اس کے اگلے ہی سال2001میں مدھیہ پردیش کے رتلام میں آشرم کے لیے دی گئی ساتھ ہی تقریباً700ایکڑ زمین بھی غصب کرنے کا الزام ہے۔
2008میں گجرات آشرم میں دو طلباء کے قتل کے الزام نے کافی طول پکڑا۔نیز آسارام کے خلاف صرف احمد آباد میں ہی16مقدمے درج ہیں۔آسارام کے پرانے ساتھی امرت نے بھی الزام لگایا ہے کہ آسا رام کئی لڑکیوں کے ساتھ ایسی حرکتیں کرچکاہے اور ایک لڑکی کا تو قتل بھی ہوچکا ہے۔آسارام کے قریبی راجو چانڈک نے بھی کہا ہے کہ اُس نے آسارام کو راجستھان میں ایک خاتون کے ساستھ جنسی تعلق قائم کرتے دیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے اسے آسارام سے نفرت ہوگئی۔
حالیہ معاملہ میں بھی آسارام کے سیوادارشوانے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو بتایا ہے کہ وہ کئی عورتوں سے اکیلے ملتے تھے۔دوسری طرف آسارام کو 14ستمبر تک جیل ہو چکی ہے لیکن قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔اس بیچ جودھپور پولیس کو آسارام کی گرفتاری پر دھمکیاں بھی ملیں نیزڈی سی پی اجے لانبا کو دھمکی بھرے فیکس بھیجے گئے ۔ساتھ ہی معاملہ دبانے کے لیے آسارام کے حامیوں نے رشوت کی بھی پیشکش کی ۔سرکاری وکیل آنند پروہت نے بدھ کی صبح آسارام کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آسارام کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے تو وہ معاملے کو متاثر کرسکتے ہیں۔وہیں آسارام کے حامیوں نے متاثرہ کنبے کے رشتے داروں پر دباؤ بنانا شروع کر دیا ہے۔
لڑکی کے والد نے بتایا ہے کہ دہلی میں ان کی سسرال میں بھی آسارام کے کچھ لوگ پہنچ گئے اور انہوں نے ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ لڑکی کے والد کو سمجھائیں کہ وہ سی بی آئی جانچ کی رٹ نہ لگائیں۔ منہہ بند نہیں کیا تو سات پشتوں کو بھگتنا پڑے گا۔ متاثرہ کے والد نے کہا کہ ان کے سبھی رشتے دار بہت ڈرے ہوئے ہیں اور انہیں اپنی جان کی فکر ستا رہی ہے۔ متاثرہ کے والد نے یہ بھی بتایا کہ آسارام کی جانب سے انہیں پیسوں کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔اور یہ وہی آسا رام ہیں جن کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 376، 342، 506 اور 509، پریونشن آف چلڈرین فرام سیکسول آفینسز ایکٹ (پی او سی ایس او) کے دفعہ 8 اور جوینائل جسٹس ایکٹ کے دفعہ 23 اور 26 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آسام رام باپو کو سمن جاری کرنے کے علاوہ مدھیہ پردیش کے چنڈی واڑہ گروکل کے منیجر، ہوٹل وارڈن اور آشرم کے خاص نگراں کوبھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں ۔ جو 15 اگست کو جودھپور کے منائی آشرم میں موجود تھے جب یہ مبینہ جنسی استحصال کا معاملہ پیش آیا تھا۔آج پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اس موضوع پر بہت کھل کر بات کر رہا ہے۔نیز اُس کی کوشش ہے کہ ایسے ڈھونگی سنتوں اور باباؤں سے عوام ہوشیار رہیں۔معاملہ یہ ہے کہ ایسے ہی لوگوں نے نہ صرف اپنی بلکہ دیگر قیاس پر مبنی مذہبی گروؤں سے وابستہ آشا،آستھا اور شردھا سب کو پامال کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان حالات میں جب کہ عوام بری طرح مذہب اور مذہبی لوگوں کے بارے میں الجھن میں مبتلا اور کنفیوژہے، کون انکا پرسان حال ہوگا؟ کیا متاثرہ افراد اور ان کی تبدیلئ فکر سے وابستہ افراد الحاد کا شکار ہوں گے ؟ یا کوئی ہے جو ان کی دنیا و آخرت کی نجات کا ذریعہ بنے گا؟