بلدیاتی انتخابات اور پنجاب حکومت
- منگل 10 / ستمبر / 2013
- 5631
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جیسے تیسے اور بادلِ نخواستہ شروع ہوگئی ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والے شہبازشریف اب بھی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ وہ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا مزاج اور شہرت رکھتے ہیں اُن کے اختیار میں ہوتا تو اِس بار بھی بلدیاتی انتخابات نہ کراتے بلکہ ان اداروں کے اختیارات بھی خود استعمال کرتے۔ لیکن مجبوری یہ تھی کہ سپریم کورٹ نے 15 ستمبر تک انتخابات کرانے اور 15 اگست تک اس سلسلے میں قانون سازی اور انتظامات کرنے کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ مجبور ہوگئے۔
مگر اِس بار بھی وہ اپنا کام دکھا گئے۔ قانون سازی بھی انہوں نے 15 اگست کے بعد کی، اور انتظامات تاحال نہیں کیے۔ اِس بار وہ بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات قانون سازی کے ذریعے 7 کلب روڈ (دفتر وزیراعلیٰ پنجاب) منتقل کرنے میں بھی کامیاب رہے کہ اسمبلی میں کسی حکومتی رکن کو ان کی مرضی کے بغیر پَر مارنے کی بھی اجازت نہیں، اور اپوزیشن اتنی تھوڑی اور غیر مؤثر ہے کہ اس کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے!
حکومت نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں لوکل گورنمنٹ بل پیش کیا تو اپوزیشن جماعتوں نے اسے فوری مسترد کردیا اور کہا کہ اس بل کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو حکومتِ پنجاب کے تابع کرنے اور ان کے مالی وانتظامی اختیارات سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اپوزیشن کی اس آواز کو سینئر صوبائی وزیر اور شہبازشریف کی ناک کا بال رانا ثناء اللہ نے یہ کہہ کر Defuse کردیا کہ ہم اپوزیشن کی تمام تجاویز کا خیرمقدم کریں گے اور ان کی پیش کردہ ترامیم کو بل میں اکاموڈیٹ کریں گے۔ دراصل اپوزیشن کے لیے انہوں نے ایک جال پھینکا تھا اور اپوزیشن ان کی توقع کے عین مطابق اس جال میں آگئی۔ چنانچہ اپوزیشن جماعتیں سرجوڑ کر بیٹھ گئیں اور انہوں نے متفقہ طور پر اس بل میں 22 تجاویز فائنل کرکے گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دی۔
ان کا خیال تھا کہ حکومت ان کی آٹھ دس ترامیم بھی منظور کرلے تو یہ اپوزیشن کی بڑی کامیابی بلکہ کاریگری ہوگی۔ لیکن ہوا وہی جس کا حکومتی کل پرزے اپنے طور پر پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے۔ حکومت نے اسمبلی کا اجلاس بلاکر بل پیش کردیا۔ اپوزیشن کی پہلی ہی تحریک پر بحث کے دوران اجلاس تین بار ملتوی کیا گیا۔ ترمیم یہ تھی کہ حکومت اس بل کو منظوری سے قبل عام شہریوں کے لیے مشتہر کردے اور ان کی جانب سے آنے والی تجاویز کو بھی شامل کرلے۔ لیکن حکومت نے پہلی ترمیم پر اپوزیشن ارکان کو گفتگو کرنے کا موقع دے کر اور تین بار اجلاس ملتوی کرکے اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کردیا۔ اور باقی ترامیم پر وعدے کے باوجود اپوزیشن کو بات کرنے کا موقع نہ دیا گیا۔ اس طرح حکومت 5 گھنٹے میں اپنی عوامی اکثریت بلکہ آمریت کے بل بوتے پر یہ بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی، جس میں اپوزیشن کی کوئی ایک ترمیم بھی شامل نہیں کی گئی۔ 5 گھنٹے میں منظور ہونے والا بل پنجاب کے عوام کا 5 سال تک مقدر رہے گا اور بعد میں بھی نہ جانے اس میں کوئی اسمبلی ترمیم کرسکے یا نہ کرسکے۔
اس صورت حال میں اس بل کی منظوری کے بعد سے اپوزیشن کا احتجاج جاری ہے جس میں تحریک انصاف سب سے آگے ہے۔ کیونکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود الرشید تحریک انصاف سے ہیں۔ وہ لاہور کے پرا نیسیاسی کارکن اور منتخب نمائندے ہیں۔ محمود الرشید کی سیاست کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوا، وہ لاہور جمعیت کے ناظم رہے، تین بار جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر بلدیہ لاہور کے رکن اور دو بار پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔ 2013ء کے انتخابات میں وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بنے۔ اور اب پنجاب میں لوکل گورنمنٹ بل کے خلاف سیاسی جماعتوں اور شہری حلقوں کو منظم کررہے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی سے قبل حکومتِ پنجاب کے منظور کردہ لوکل گورنمنٹ بل پر سوچ بچار کے لیے پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان نے ایک سنجیدہ اور فکری نشست کا اہتمام کیا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی جو رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کے خانوادے سے ہیں اور پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی براڈ کاسٹر میں شامل ہیں، انہوں نے کمال محبت سے اس نشست کا اہتمام کیا۔ جس سے محمود الرشید، نوائے وقت لاہور کے سینئر نیوز ایڈیٹر دلاور چودھری اور راقم نے خطاب کیا۔ مقررین اور شرکاء کی اکثریت کی رائے تھی کہ پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا کبھی بھی وہ کردار نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا۔ ان اداروں کو آمروں نے اپنا چہرہ سیاسی بنانے کے لیے استعمال کیا۔ جب کہ بیوروکریسی نے انہیں اپنا تابع رکھنے کی کوشش کی۔
سیاسی جماعتیں اور ارکانِ اسمبلی بھی انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے جس کی وجہ سے یہ ادارے خوف کے ماحول میں کام کرتے رہے اور حقیقی ثمرات نہیں دے سکے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب کی موجودہ حکومت نے حالیہ لوکل گورنمنٹ بل کے ذریعے نہ صرف بلدیاتی اداروں پر بیوروکریسی کی بالادستی قائم کی ہے بلکہ وزیراعلیٰ کو بلا وجہ ان اداروں کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں تعلیم، صحت اور دوسرے شعبوں کی 12 اتھارٹیز بنا کر بلدیاتی اداروں کو انتظامی اور مالی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے، جبکہ ان اداروں اور ان کے سربراہوں کو برخاست کرنے کا اختیار وزیراعلیٰ کو دے کر آمریت کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ اس اختیار کے بعد یہ ادارے خودمختار نہیں رہیں گے بلکہ وزیراعلیٰ کے ماتحت ادارے بن جائیں گے۔
مقررین نے اس رائے کا بھی اظہار کیا کہ وعدے کے باوجود حکومت نے اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم کو مسترد کرکے آمرانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت نے بل میں جو تھوڑی بہت تبدیلیاں کی ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہر سطح پر بلدیاتی انتخابات سیاسی بنیادوں پر کرانے، مخصوص نشستوں خصوصاً خواتین کی نشستوں میں اضافہ کرنے، مالی و انتظامی اختیارات بلدیاتی اداروں کو دینے اور ہر مرحلے کے انتخابات براہِ راست کرانے کا مطالبہ کررہی تھی۔ ان مطالبات میں کیا خرابی تھی؟ اگر کوئی خرابی تھی تو حکومت بتائے۔ اور اگر ایسا نہیں تھا تو پھر حکومت اپنے پس پردہ عزائم پورے کرنا اوریک جماعتی آمریت قائم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن عملاً یہ یک جماعتی آمریت نہیں رہے گی بلکہ ایک شخص (وزیراعلیٰ) کی آمریت بن جائے گی جس کے خلاف بہت جلد خود حکومتی بینچوں پر بیٹھے لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس موقع پر محمود الرشید نے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا جو اب عدالت میں چیلنج ہو چکا ہے۔
اس نشست کے دوران فرائیڈے اسپیشل سے وابستہ سینئر صحافی سلمان عابد اور انور حسین کے تحریر کردہ مشترکہ کتابچے ’’مقامی حکومت۔۔۔ خودمختار مقامی جمہوری حکومتوں کے لیے رہنما اصول‘‘ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء عملاً لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ء کا چربہ ہے جس کا مقصد مقامی حکومتوں میں منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کو مضبوط کرنا ہے۔ صوبائی حکومت ایسی مقامی حکومت چاہتی ہے جو اضلاع میں اس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرے۔ یہ بل پنجاب حکومت کے مرکزیت کی طرف رجحانات کو عیاں کرتا ہے۔
حالیہ بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن جماعتیں خاصی مایوس ہیں، لیکن شاید یہ مایوسی انہیں ایک پلیٹ فارم پر لے آئے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں موجودہ حکومت اور حکمران جماعت کو خاصا دھچکا لگ سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تب بھی نتائج مسلم لیگ (ن) کے لیے خوش کن نہیں ہوں گے۔