تصّوف کیا ہے (3)

  • بدھ 11 / ستمبر / 2013
  • 8571

جہادِ اکبر ۔ ۔ ۔ تصوف کا نصاب
تصوّف کو مولانا جلال الدین رومی نے مغزِ قرآن کہا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ قرآن کا مغز تو اہلِ معرفت نے اخذ کر لیا مگر ہڈّیاں کُتّوں کے آگے ڈال دیں ۔ کس واشگاف لہجے میں اس امر کا اعلان کرتے ہیں :
اُستخواں پیشِ سگاں انداختیم

اِسی سیاق و سباق میں مجھے حضرت فضل شاہ قادری فاضلی علیہ رحمت کا وہ بیان یاد آتا ہے ، جس میں اُنہوں نے فرمایا تھا :
" یہ بحث و تکرار کا نہیں ، بلکہ خموشی سے عمل کا وقت ہے ۔ یہ ایک ایسا زمانہ ہے جس میں قرآنِ کریم کی آیات واپس بلند کر لی گئی ہیں اور زمین پر لفظوں کا خالی چھلکا رہ گیا ہے ۔"
یہ وہی چھلکا ہے جسے مولانا روم نے ہڈّیوں سے تعبیر کیا ہے ۔ شاعر نے اسی مضمون کو اس طرح شعری قالب میں ڈھالا ہے :
جہاں سے آیتیں اُتریں ، وہیں کو لوٹ گئیں
زمیں پہ کوئی نہیں صاحبِ کتاب ترا

اگرچہ صوفیا کا منصب ہر عہد میں یہ رہا ہے کہ وہ کہ وہ خدا کے فراموش شدہ احکامات کو دوبارہ بحال کریں ، اُس کی آیات کو عمل سے زندہ کریں ، اور قرآن کے جوہر کی حفاظت کریں ، لیکن جس طرح امتدادِ زمانہ ہر تحریک کے ٹمپو کو دھیما کردیتا ہے اور اصل کے گرد نقالوں کا ایک ہجوم اکٹھا کر لیتا ہے ، بالکل اُسی طرح تماشائیوں کے طائفے صوفیوں کی خانقاہوں کے گرد جمع ہو گئےہیں ، اور طرح طرح کی بدعتیں جنم لے کر روایت بن گئی ہیں ۔

اِس کے باوجود حقیقی صوفیا کا لائحہِ عمل یہ رہا ہے کہ وہ طالبانِ راہ کو ، راہ دکھاتے رہتے ہیں ۔ راہ جس کا نام صراط ہے ۔ یہ ایک زندہ ء جاوید راستہ ہے جس کی کوئی منزل نہیں بلکہ منزل ، طالبانِ راہ کے لیے ایک گمراہ کُن لسانی تلازمہ ہے ، جو صراط کے مسافر کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے ۔

راستے کی شناخت کے لیے روڈ میپ کا ہونا ، اور اُسے پڑھنے ۔ سمجھنے اور اُس پر چلنے کی تربیت پانا ، تصوف کے نصاب کے مندرجات ہیں ۔

روڈ میپ کیا ہے ؟
قرآنِ کریم نے اس سلسلے میں اشارہ رقم کیا ہے کہ جو لوگ ہماری تلاش میں جدوجہد کرتے ہیں ، ہم اُن کی خاطر اپنے راستے کی رہنمائی فرماتے ہیں ۔ اس رہنمائی کی تحریری دستاویز اللہ کی کتاب ہے ، جسے اُم الکتاب کہا گیا ہے ۔ ساری مذہبی کتابیں ، آسمانی صحیفے اور الہامی دستاویزات اسی اُم الکتاب کے بچے ہیں ۔ کتابوں کی یہ ماں ایک مقدس آسمانی پرندہ ہے جو اپنے تمام بچوں کو محبت سے اپنے پروں تلے پناہ دیتا ہے ۔
ایمان مجمل کے مندرجات میں تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حلف اُٹھوایا جاتا ہے اور یہ بات آپ ، میں اور سب جانتے ہیں:
آمنت باللہ و ملائکتہ وکتبہ
میں ایمان لایا اللہ پر ، اُس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر۔

کون سی کتابوں پر ؟ قرآن مجید ، انجیل مقدس ، تورات ، زبور اور صحییفہ ابراہیم اور ایوب سمیت سب پر ۔ اِن کے علاوہ وہ کتابیں جن کا ذکر قرآن میں دوسری کتابیں کہ کر کیا گیا ہے ۔ کیونکہ ہر عہد اور ہر زمین کے لوگوں کے لیے کتاب بھیجی گئی ہے جس کی گواہی قرآن میں رقم ہے؟
"ولکل اجل کتاب" ۔ ہر زمانے کے لیے کتاب ہے ۔
یہ ساری کتابیں خدا کی کتابیں ہیں اور اُم الکتاب کےیہ سارے بچے خدا کی آوازیں ہیں جو صوفیا کے نصاب میں شامل ہیں ۔

قرآنِ کریم چونکہ ماہیت اور معیار کے اعتبار سے ایک آفاقی کتاب ہے اس لیے اُس میں ہر عہد اور زمانے کی حکمت اور دانش شامل ہے ۔
آئیے ، اس سلسلے میں ایک دل چسپ مطالعاتی موازنہ کرتے ہیں ۔ سورہ ء نحل میں کہا گیا ہے کہ اُس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا کاتا ہوا سُوت خود ہی تار تار کر دیتی ہے ۔ بعینہ یہی جملہ سقراط کے مکالمے " فائیڈو" میں موجود ہے جس میں سقراط کہتا ہے کہ اُس عورت" پینے لوپ " جیسے نہ بنو جو اپنا کاتا ہوا سوت خود ہی تار تار کردیتی ہے ۔ یاد رہے کہ پینے لوپ ، اوڈی سس کی بیوی کا نام ہے ۔

ایک اور آیت میں کہا گیا ہے " کل شی حی علی الماء " ۔ کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے حیات دی ہے ۔ یہی بات ماقبلِ سقراط کے یونانی فلسفی تھیلز نے بھی کہی ہے کہ دنیا کی ہر چیز پانی سے بنی ہے ۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کا پیغام صرف مشرقِ وسطی تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان میں ، ہر خطے میں ہر قوم تک پہنچایا جاتا رہا ہے ۔ رب العالمین کسی سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھتے ہدایت کے دروازے ، سب کے لیے یکساں طور پر کھلے رکھتا ہے ۔

ہدایت کے اس عالمی نظام پر نبی ء اکرم کی مہرِ تصدیق ثبت ہے ۔ آپ نے ،" الحکمتہ ضالتہ المومن" ۔ کہہ کر دنیا بھر کے حمکت کے خزانوں کو مومن کی میراث قرار دے دیا ہے ۔ اسی مضمون کو غالباً حالی نے اس طرح بیان کیا ہے :
کہ حکمت کو اک گمشدہ لعل سمجھو
جہاں پائو ، اپنا اُسے مال سمجھو

گلوبل مذہبی صحیفہ
محولہ بالا اشارات اور حوالہ جات کی روشنی میں قرآنِ کریم اقوامِ عالم کے جملہ مذاہب کا مشترکہ مادر صحیفہ قرار پاتا ہے ۔ یعنی قرآن مجید وہ گلوبل صحیفہ ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے ۔

ہدایت کیا ہے ؟
بابا فضل شاہ نُور والے فرماتے ہیں : " حسن رنگ و بُو کی موزونیت اور اعضاء کے تناسب کا نام نہیں ، حُسن تو ہدایت کو کوکہتے ہیں اور ہدایت کے معنی نور کے نکلتے ہیں۔"
تو ہدایت کیا ہے ؟ ہدایت نور ہے ۔ اللہ نور السماوات والارض ۔ ہمارے نظامِ شمسی میں سورج روشنی کا ماخذ اور سر چشمہ ہے ۔ وہ اپنے نظام کے تحت اپنے سے وابستہ تمام ستاروں کو بشمول چاند اور زمین روشنی اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔ وہ کسی سے بھی امتیازی سلوک نہیں کرتا ۔ وہ ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، یہودی ، بدھ ، جینی اور ملحد تک سے کوئی فرق روا نہیں رکھتا ۔

اسی طرح علم کا سورج قرآن کریم دوسرے الہامی ستاروں کے جھرمٹ میں گھرا تمام انسانوں میں علم کی روشنی باںٹتا ہے ۔ یہ سب انسانوں کے لیے راہِ ہدایت ہے ۔ یہ کتاب کسی ایک گروہ یا امت کی مملوکہ نہیں بلکہ سب کی ہے ۔ یہ گلوبل مذہبی صحیفہ ہے ۔

لیکن اس صحیفے میں درج حقائق کو سمجھنے کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد درکار ہے جسےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہادِ اکبر کا نام دیا ہے ۔ جہاد اکبر ، اس کتاب کی روشنی میں ، خود اپنے نفس سے جہاد کر کے اُس پر فتح حاصل کرنے کی فلک پیمائی ہے ۔ چنانچہ ایسے شخص کو جو اللہ کی راہ میں اپنے نفس سے جہاد کرے مجاہد کا نام دیا گیا ہے ۔ جہاد اکبر کی فضیلت ہتھیاروں سے قتل کرنے سے کہیں زیادہ ہے ۔ حدیث میں مذکور ہے :
" المجاھد من جاھد نفسہ فی اللہ "

اس ضمن میں علی ہجویری رقمطراز ہیں :
" اللہ تعالی آپ کو عزت عطا فرمائے ، نفس پر غالب آنا اور مجاہدہ ء نفس کرنا نہایت عظیم امر ہے ۔ ہر دین اور ملت کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں ، اور اہلِ تصوف اِس کی خاص رعایت رکھنے میں مصروف ہیں ۔ اور اہلِ تصوف کے خاص و عام میں یہ عبادت جاری و ساری ہے اور مشائخِ طریقت اس مسئلے میں بہت سے اسرار و رموز رکھتے ہیں ۔"

مشاہدہ ء نفس کا بیان ۔ بحوالہ کشف المحجوب
مجاہدہء نفس سے آگاہی سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نفس کیا ہے ؟
صاحبِ کشف المحجوب حضرت علی ہجویری علیہ رحمت فرماتے ہیں: " جاننا چاہیئے کہ نفس لُغت کے اعتبار سے کسی شے کے وجود ، اُس کی حقیقت اور ذات کو کہا جاتا ہے ۔ مگر عام عادات و اطوار اور عبادات کے لحاظ سے کئی معنوں پر مشتمل ہے ۔ اور یہ لفظ متضاد معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ تاہم صوفیائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ نفس برائی کا سرچشمہ اور شر کا رہنما ہے ۔"

علی ہجویری کے نزدیک نفس خواہشات کا مرکز ہے ۔ ان کے علاوہ امام غزالی بھی کم و بیش ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے ہیں ۔ احیا العلوم کی چوتھی جلد میں " دل کے عجائبات " کے عنوان تلے فرماتے ہیں :
" نفس ، انسان میں وہ شے ہے جو قوتِ غضب اور شہوت کی جامع ہے ۔ یعنی اس میں انسان کی صفاتِ مذمومہ جمع ہیں ۔ اسی لیے نفس پر مجاہدہ کرنے کا حکم ہے ۔ "

قرآنِ کریم نے نفس کی تین کیفیات یا صورتوں کا ذکر کیا ہے ، جو حسب ذیل ہیں :
1 ۔ نفس ا مارہ
2۔ نفسِ لوامہ
3۔ نفسِ مطمئنہ

نفسِ امارہ ، شر پر مبنی کیفیات کا استعارہ ہے ، لوامہ شر اور خیر کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتا ہے جب کہ نفسِ مطمئنہ نفسانی خواہشات سے مکمل آزادی کی استعداد کا نام ہے ۔ نفس کی ان کیفیات کا علم تصوف کا نصاب ہے ۔ چنانچہ
تصوف وہ شعبہ ء علم ہے جس میں مکمل استعداد حاصل کر کے نفسِ امارہ کے خلاف جنگ کی جاتی ہے تاکہ اس مجاہدہ ء نفس کے ذیعے نفسِ مطمئنہ تک رسائی حاصل کی جا سکے ۔
( جاری ہے )