زرداری کا اعزاز اور عزم

  • جمعرات 12 / ستمبر / 2013
  • 4479

سابق صدر آصف علی زرداری پاکستان کی پوری تاریخ میں پہلے سیاسی راہنما ہیں جو اعلیٰ سرکاری عہدہ سے علیحدہ ہونے کے فوری بعد عوام میں پہنچے ہیں۔ ادھر ایوان صدر میں ان کا الوداعی گارڈ آف آنر ختم ہوا ادھر وہ طیارے میں بیٹھ کر بلاول ہاؤس لاہور پہنچ گئے۔ جہاں پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن ان کے منتظر تھے۔

اس طرح ایوان صدر سے رخصتی کے بعد ان کی پہلی مصروفیت عوام سے ملاقات تھی اور ان کا پہلا خطاب اپنے کارکنوں کے ساتھ تھا۔ اس سے قبل تمام سرکاری و سیاسی عہدیدار عہدے سے الگ ہونے کے بعد اسلام آباد میں ہی قیام کرتے ہیں۔ اس دوران وہ وہ مقتدر قوتوں، سیاسی اشرافیہ اور مستقبل کے منصوبہ سازوں سے ملاقاتیں اور مشاورتیں کرتے ہیں۔ پھر تین چار دن بعد عوام میں آتے ہیں۔

یہ طرز عمل ہمارے ہاں 1947ء سے اب تک جاری ہے۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کا معاملہ تو مختلف ہے۔ یہ دونوں رہنما اپنے عہدے پر ہوتے ہوئے راہی ملک عدم ہوئے۔ جبکہ ان کے بعد کے تمام راہنما یا تو عوام میں دوبارہ آئے ہی نہیں یا پھر طویل یا قلیل وقفے کے بعد عوام میں آئے۔

محمد علی بوگرہ، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، چوہدری محمد علی، فیروز خان نون کا معاملہ یہی ہے۔ اسکندر مرزا صدارت سے سبکدوش کیے جانے کے بعد برطانیہ بھیج دیے گئے۔ جہاں انہوں نے باقی عمر ایک ہوٹل میں کام کرتے ہوئے گزاری۔ ایوب خان عہدہء صدارت سے علیحدہ ہونے کے بعد مرتے دم تک کبھی پبلک میں نہیں آئے۔ یحییٰ خان نے اپنا آخری وقت نظر بندی میں گزارا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی وزارت خارجہ سے الگ ہونے یا الگ کیے جانے کے کافی عرصہ بعد عوامی سطح پر نمودار ہوئے۔

وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونے اور نظر بندی رہائی کے بعد بھی عوام میں آنے میں انہوں کچھ وقت لیا۔ محمد خان جونیجو بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی روز خوف اور اندیشہ دور دارز کا شکار رہے۔ ظفر اللہ جمالی بھی تیسرے دن بذریعہ ٹرین کوئٹہ روانہ ہوئے ۔ شوکت عزیز کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پرویز مشرف شاید کچھ یقین دہائیوں اور کچھ دباؤ کی وجہ سے اسی طرح کی صورت حال سے گزرے۔ حد یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے بھی عوام میں آنے میں کچھ وقت لیا۔

لیکن داد دیجئے آصف زرداری کو وہ ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہی اپنے کارکنوں کے درمیان جا بیٹھے۔ یہ غالباً پاکستان کی سیاست میں ان کا منفرد اعزاز ہے۔ اقتدار کی پر امن منتقلی ایک منتخب صدر کو انتقال اقتدار بڑا اعزاز ضرور ہے لیکن ایک سیاسی رہنما کا اعزاز بہر حال سیاسی ہی ہوتا ہے اور اس معاملے میں آصف زرداری سب پر بازی لے گئے ہیں۔

آصف زرداری لاہور پہنچے تو پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن ان کے منتظر تھے اور یہ جیالے خاصے جذباتی تھے۔ عرصہ کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں جوش وخروش نظر آ رہا تھا۔ ملک ریاض کی طرف سے تحفے میں دیے گئے بلاول ہاؤس میں جو بحریہ ٹاؤن لاہور میں بنایا گیا ہے آصف زرداری کا ہیلی کاپٹر  لینڈ کیا تو فضا ویلکم ویلکم کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہاں سب سے نمایاں اعتزاز احسن اور رخسانہ بنگش تھیں۔ جبکہ سب سے غیر اہم منظور وٹو تھے۔ ان کی جانب سے پنڈال میں لگائے گئے خیر مقدمی بینرز کو رخسانہ بنگش نے جس توہین آمیز انداز میں اتروایا اس پر انہیں اپنی اوقات اور مستقبل کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔

رخسانہ بنگش جس طرح آصف زرداری کو قرآن کے سائے میں پنڈال تک لائیں، اس نے وہاں موجود لوگوں کو باور کرا دیا کہ مستقبل کی ناہید خان وہی ہیں۔ ان کے رویہ سے یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ ناہید خان سے دو ہاتھ تو آگے ہی ہوں گی۔ کاش کہ وہ ناہید خان کے انجام کو بھی سامنے رکھیں۔

آصف زرداری نے اس موقع پر جو خطاب کیا اس میں بڑاگہرا سیاسی پیغام تھا۔ انہوں نے نواز شریف کی پیٹھ تپتپھائی۔ ان کو بلہ شیری بھی دی۔ یہ بھی کہا کہ نواز شریف ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی حکومت کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ کے پہلو میں بیٹھ کر ان کا یہ خطاب ان کے گہرے سیاسی عزائم کا پتہ دے رہا ہے۔

لگتا ہے کہ آصف زرداری گو مفاہمت کی پالیسی تو آگے بڑھائیں گے۔ تاکہ یہ تاثر قائم رکھ سکیں کہ وہ ایک صلح جو اور جمہوریت پسند انسان ہیں۔ لیکن پھر حکومتی پالیسوں کو جواز بنا کر موجودہ سیاست کو 1988ء کی مزاحمتی سیاست پر لے آئیں گے۔ ان کا لاہور میں ڈیرے لگانے کا اعلان شہباز شریف کے لیے کسی مسرت کا باعث نہیں ہے۔ وہ شہباز شریف کی پانچ سالہ سیاست اور ان کے جملوں کو بھولنے والے نہیں ہیں۔ صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہیں سڑکوں پر گھیسٹنے کا اعلان کرنے والے شہباز شریف کے لیے آصف زرداری کا لاہور میں ڈیرے لگانے کا اعلان ہر طرح سے پریشان کن ہے۔

بلاوس ہاؤس میں اپنے خطاب سے قبل ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی آصف زرداری نے بہت سے پس پردہ پیغامات دیے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پولیس اور فوج ان کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ اپنی حفاظت کا خود بندوبست کریں گے۔ وفاق اور خصوصاٌ پنجاب حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس انٹرویو میں ان کا کہنا کہ ’’مولے کو مولا نہ مارے تو اسے کوئی نہیں مار سکتا۔‘‘ اپنے مستقبل کے حریفوں خصوصاً شریف برادران کے لیے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ وہ اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ پنجابی فلموں کے مولا جٹ ہیں۔ جس کے ہاتھ میں ہر وقت گنڈاسا ہوتا ہے اور انھیں راستے سے ہٹانا آسان نہیں۔

آصف زرداری اور اب لنگر لنگوٹ کس کر سیاست میں اترنے والے ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو بہت جلد اپنے گرد اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اپنے کارکنوں کو مایوسی سے نکالنے کے لیے وہ بلال بھٹو کو استعمال کریں گے ۔ بی بی سی نے ان کے بارے میں بالکل درست تبصرہ کیا ہے کہ آصف زرداری سیاست نہ کرتے تو شطرنج کے گیری کیپروف ہوتے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق وہ بہت جلد سیاست میں نئی بساط بچھائیں گے اور ان پر اپنی مرضی کے پیادے اور گھوڑے دوڑائیں گے۔ لہٰذا انہیں سڑکوں پر گھیسٹنے کا اعلان کرنے والے ہوشیار رہیں ۔