مرضی کا امن

  • جمعرات 12 / ستمبر / 2013
  • 5601

وزیر اعظم میاں نواز شریف جب بھر پور عزم اور حوصلے کے ساتھ کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے اور امن کی مہم کامیاب کرنے کیلئے نکلے ہونگے تو یقیناًانہیں بھی یہ اندازہ ہو گا کہ یہ کام کسی صورت اتنا سہل اور آسان نہیں ہو گا۔ کراچی کی خراب صورتحال کے اتنے زاوئیے ہیں کہ انہیں سمجھنے کیلئے بھی کافی وقت چاہئے اور پھر ان کا حل نکالنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

پورے ملک کی شدید خواہش کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں امن ہو گا یا نہیں لیکن نامساعد اور بہت ہی ناموافق حالات کے باوجود کراچی پاکستان کا معاشی حب اور اہم ترین شہر ہے۔ اور انتظامیہ اور وفاق کسی صورت اس شہر سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ گزشتہ چند عشروں سے کراچی شہر سکیورٹی اداروں کی گرفت سے نکلتے ہوئے اب اتنے ٹکڑوں اور مافیاؤں میں بٹ چکا ہے کہ قدم قدم پر خون آشام بلاؤں کی طرح قتل و غارت کیلئے تیار گروہ اپنے اپنے نوگو ایریاز بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جہاں انہی کی حکومت اور انہی کا حکم چلتا ہے۔

عام شہریوں سے لے کر انتظامیہ تک ان کی جیب میں رہتے ہیں اور یہ گروہ جب اور جہاں چاہے بھتہ وصولی سے لے کر نشانہ لگا کر قتل کرنے جیسا عمل انجام دیتے ہیں۔ اور کسی کی مجال نہیں کہ ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کر سکے۔ ریاست کے اندر ریاست کا عملی مظاہرہ اگر کوئی دیکھنا چاہے تو کراچی سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ آج کراچی کے اتنے دعویدار ہیں کہ گنتی مشکل ہے اور ان دعویداروں کے پاس اتنی طاقت بھی موجود ہے ان کے زیر اثر علاقوں کے رہائشی ان کی مرضی کے مطابق سانس لینے پر مجبور جبکہ مقامی انتظامیہ اور پولیس ان کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے۔

ہر طاقتور گروہ اپنے اپنے علاقوں میں بھتہ وصولی اور ہر ناجائز طریقہ استعمال کرتا ہے اور اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اسی طرح دوسرے گروہ بھی اپنی طاقت کی توسیع کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور اسی گندے کھیل میں آئے روز قتل و غارت کا ایسا بازار گرم ہو جاتا ہے جس سے انسانیت بھی شرما جائے۔ مگر ہمارے اہل اقتدار اتنے صاحب دل نہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک رینگے۔

ان مسلح گروہوں نے سیاسی چھتری بھی حاصل کر رکھی ہے اور یہی سیاسی تعلق داریاں اور قرابتیں انہیں قانون سے تحفظ دلواتی ہیں۔ ہر گروہ مفادات کی جنگ میں الجھا ہوا ہے مگر انہوں نے لبادہ سیاست کا اوڑھ رکھا ہے۔  وہ سیاستدان جو عوام کے سامنے انسانیت کا درس دیتے نہیں تھکتے ، وہی ان گروہوں کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔

کراچی میں رینجرز اور پولیس قیام امن کیلئے آپریشن کرتی رہتی ہیں مگر اس کی تیاری کے وقت ہی تفصیلات ان جرائم پیشہ افراد تک بھی پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ جن کی بیخ کنی کیلئے ہی یہ سارا بکھیڑا پالا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ ہمارے پورے نظام کا کرپٹ ہو جانا ہے۔ ہمارے فرسودہ اور گلے سڑے نظام کا سب سے بدترین ادارہ بلا شک و شبہ پولیس کو قرار دیا جاتا ہے۔ کراچی میں امن نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی ہماری پولیس ہی ہے۔ مگر اس پولیس کو یہاں تک پہنچانے میں بھی ہمارے سیاستدانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

1992ء اور 1996ء میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کلین اپ میں جن پولیس والوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اہم ترین کردار ادا کئے اور شہر میں امن بحال کیا انہیں بعد ازاں چن چن کر قتل کیا گیا۔ مگر ہمارے اہل اقتدار کمبل تانے سوئے رہے اور کہیں سے کوئی آواز ان ناحق مارے جانے والوں کیلئے بلند نہ ہوئی۔ ایسے ماحول میں کون سا ایسا افسر یا جوان ہو گا جو دہشتگردوں کی سرکوبی کیلئے آگے بڑھنا چاہے گا۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں آج انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد موت کے گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں مگر مفاہمت کی سیاست جاری رہتی ہے۔

آج کراچی کی ہر جماعت یہاں امن کیلئے دہائی دیتی نظر آتی ہے۔ ہر جماعت اپنے مقتول کارکنان کی فہرستیں ہاتھوں میں لئے گھومتی نظر آتی ہے۔ لاپتہ افراد کی کہانیاں الگ ہیں ۔ یہاں مقتول تو لاتعداد ہیں مگر قاتل کوئی نہیں ہے۔ ہر جماعت یہ بھی فرماتی ہوئی نظر آتی ہے کہ بلا امتیاز آپریشن کر کے جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کی جائے۔ کوئی پولیس آپریشن کی بات کرتا ہے تو کوئی رینجرز کی قیادت چاہتا ہے۔ سب سے بڑھ کر مینڈیٹ رکھنے کا دعویٰ کرنے والی ایم کیو ایم تو فوج بلانے کی حمایتی ہے۔ مگر جب عملی طور پر اقدامات کئے جاتے ہیں تو مہاجر نسل کشی ، پٹھان دشمنی ، فرقہ وارانہ فسادات کی سازش جیسے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔

پورا پاکستان خصوصاً اہل کراچی گواہ ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سابق ممبر صوبائی اسمبلی کی گرفتاری پر شہر کو کس طریقے سے بند کرایا گیا۔ پچاسی فیصد مینڈیٹ رکھنے والی ایم کیو ایم کو یہ احساس نہیں ہے کہ جن علاقوں کو مفلوج کیا گیا وہاں کے عوام انہی کے ووٹر اور سپورٹر ہیں۔ کیونکہ کراچی میں کوئی بھی جماعت صرف انہی علاقوں میں کاروبار زندگی معطل کرا سکتی ہے جہاں ان کا کنٹرول یا دوسرے معنوں میں قبضہ ہو۔

ایم کیو ایم کو یقیناًاپنے رویہ پر غور کر کے خود کو جمہوری جماعت کے سانچے میں ڈھالنا ہو گا ۔ ایم کیو ایم کے ساتھ دوسری جماعتوں کو بھی جرائم پیشہ افراد کو سیاسی چھتری فراہم کرنے سے گریز کرنا ہو گا ورنہ عوام یہ کہنے اور سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہاں کا ہر دعویدار اور ہر جماعت اپنی مرضی کا امن چاہتی ہے۔