ہونے کو بہت کچھ ۔ نتیجہ صفر

  • جمعہ 13 / ستمبر / 2013
  • 5721

اگر لاہور کو پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کی علامتی زندگی کے طور پر سامنے رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بہت کچھ بدل بھی رہا ہے اور کوئی بھی بہتری کے حوالے سے پر امید بھی نہیں ہے۔ادب اور ثقافت کے حوالے سے دیکھا جائے تو لاہور میں رات دن ادبی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔ مشاعرے ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ رمضان المبارک سے لے کر اب تک اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو ایک سو مشاعرے ہو چکے ہوں گے ۔

ان مشاعروں میں تمام شعرا کی طرف سے یا تو معاشرتی خرابیوں کو موضوع بنایا گیا یا پھر خوبصورت خوابوں کی حسرت کو شعری لباس پہنایا گیا۔ حلقہ ارباب ذوق، حلقہ ارباب سخن، ادب سرائے، انجمن ارباب شعور، بزم تفاخر، بزم شاکر، بزم ادب لطیف، حادی لٹریری سرکل، حلقہء ارتقائے ادب، ادراک عکس کردار، وجدان روش، مرکز علم مجلس، اردو میواتی دنیا، حلقہ پاسبان ادب، امید نو بزم نظاط پاکستان اور رائٹرز گلڈ رائٹرز فورم سمیت تمام ادبی تنظیمیں لاہور کی ادبی رونقوں میں رات دان اضافہ کر رہی ہیں۔

ان تقریبات میں عام طور پر حاضر ہونے والوں میں کچھ سینئر جیسے انتظار حسین، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا سمیت کئی زندہ دل لوگ شامل ہیں۔ لیکن بہت سے نئے اور پرانے لکھنے والے خاص طور پر شعرا ان حلقوں کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان میں خالد شریف، اسلام شاہ باقی، احمد پوری حسین مجروح، ڈاکٹر خالد جاوید جان، اقبال راہی صادق، جمیل روحی کنجاہی ،کرامت بخاری، واجد امیر، زبیدہ حیدر زیبی، طینوش نگہت اکرم، فریدہ خانم ناصر، بشیر ڈاکٹر شاہدہ دلاور، میجر خالد نظر سرفراز، سید سعید بودلہ، آسناتھ کنول، صائمہ الیاس اور اعزاز احمد آزر سمیت پرعزم لکھاری شامل ہیں۔

لیکن بہت سینئر لوگ کسی نہ کسی وجہ سے لہروں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ پھر بھی وہ ادبی گہما گہمی میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں ۔ جہاں تک سیاسی حوالے سے معاشرتی منظر نامہ ہے تو وہ بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ پاکستان جیسے ضرورت سے زیادہ ’’آزاد‘‘ معاشرے میں برسراقتدار آنا زیادہ مشکل نہیں رہا۔ اصل مشکل اقتدار میں آنے کے بعد باعزت طریقے سے اقتدار پر رہنا ہے ۔ اقتدار میں آنے کے لئے چند دلآویز نعرے اور روپے پیسے کو پانی کی طرح بہانا ہوتا ہے اور بس۔

پروپیگنڈہ وار میں جو آگے نکل جاتا ہے ہمارے کچے کانوں اور سادہ اور معاشی طور پر بے اختیار اکثریت اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھ کر اقتدار میں لے آتی ہے ۔ ماضی میں ہماری جمہوری تاریخ کا یہی خلاصہ ہے۔ اور یہ بھی تاریخ ہے کہ عام انتخابات کے فوراً بعد عوام کی آنکھ کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ’’اٹھاں والے ٹر گئے نیں‘‘ اور سسی نمانی سوتی ہی رہ گئی ہے ۔

ایک بار پھر 2013ء کے انتخابات میں عوام نے اچھے دنوں کی امید میں مسلم لیگ ’’ن‘‘ کو پاکستان کا اقتدار سونپا ہے ۔ ان کے نعرے خوبصورت تھے ۔ سہانے خواب دکھائے گئے تھے ۔ ’’لوڈ شیڈنگ‘‘کی مت مار دی جائیگی۔۔۔ قرض لینے والا کاسہ توڑ دیا جائیگا۔۔۔ مہنگائی کا جن بوتل میں بند ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔۔۔

یہ ایک نقطہ نظر ہے ۔ ایک دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ کو برسراقتدار آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ ابھی تو حکومت پاؤں جما رہی ہے ۔ ذرا پاؤں جم جائیں تو سارے وعدے پورے ہونگے ۔ سارے خوابوں کی تعبیر سامنے آئیگی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس بار میاں صاحبان کیلئے اقتدار90 کی دہائی کی دو باریوں والا اقتدار نہیں ہے۔ اب کہ صورتحال یہ ہے کہ ایک قدم بھی احتیاط سے نہ رکھا گیا تو پورا وجود پھسلن کی نذر ہو سکتا ہے ۔

جان لیوا مسائل میں سے سامنے کا ایک بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا ہے ۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومت کو سب سے پہلے آئی پی پیز(آزاد بجلی پیدا کرنیوالے ادارے ) کی ماننی پڑی۔ سرکولر ڈیبٹ کے اربوں روپے جہاں سے بھی بن پڑے ادا کئے گئے مگر یہ درد سر تو ایسا ہے کہ اگلی ڈوز نہ ملی تو پھر پہلے کی طرح ہو گا۔ اب سرکولر ڈیبٹ کا اگلا دورانیہ سمجھو سر پر آیا کہ آیا۔ اس ضمن میں ایک قدم حکومت نے بجلی چوروں کے خلاف اٹھایا ہے۔ مگر اس ضمن میں طریقہ کار موثر نہیں۔ لاکھوں کنکشنوں میں کسی علاقے میں ایک جگہ چھاپہ مار کر میڈیا میں ’’کامیابی‘‘ کی نوید سنا بھی دی گئی تو فائدہ؟ جب کتی چور سے ملی ہو تو کام مشکل ہوتا ہے ۔

چوری مائیکرو لیول پر ہو رہی ہے ۔ میٹر ریڈروں کا ایک بڑا حصہ اس ’’بھتہ خوری‘‘ کا عادی بن چکا ہے ۔ واپڈا کروڑوں روپے چوری کی اطلاع دینے پر شہریوں کو مائل کرنے کی پروپیگنڈہ مہم پر خرچ کر رہا ہے جو سراسر قومی ضیاع ہے۔ کیونکہ اس سے تو خرچ کے برابر بھی بجلی کی چوری نہیں پکڑی جا سکتی۔ اپنے پڑوسیوں سے آمادہ فساد ہونے کو کون تیار ہو گا۔ ایک فی لاکھ؟

’’تیری بکل دے وچ چور‘‘ اصل چور واپڈا کے اہلکاروں کے اندر ہیں۔ ان کو پکڑنے کا میکانزم پہلے ضروری ہے ۔ یہی حال گیس چوری کا ہے ۔ پھر بجلی گیس چوری میں آپریشن پارٹی سیاست اور من وتو یا پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر نہیں ہو گا تو نتیجہ صفر نکلے گا۔ لاہور میں بعض کیسوں میں ایسا ہؤا ہے اور ایسی خبریں تو سینہ گزٹ یا زبان خلق بن کر پھیلا کرتی ہیں۔

میاں صاحبان کو اللہ نے موقعہ دیا ہے عزت دی ہے ، اقتدار دیا ہے تو اسے آخری موقع سمجھ کر ملک وقوم کے لئے کچھ کر گزرنے کی سیاست اولین ترجیح ہونی چاہئے اور کچھ نہیں تو بجلی کی ترسیل میں دیانتداری کو عملی شکل ہی دے دی جائے ۔ یہ دیانتداری کیا ہے ؟ بجلی چوری نہ ہو سکے ۔ جو شخص جتنی بجلی خرچ کرے صرف اتنا ہی بل اسکو ادا کرنا پڑے ۔ دفتری بددیانتی، اووربلنگ، عملے کی بلیک میلنگ، ذاتی چند ٹکوں کے لئے محکمہ کو ہزاروں کا ٹیکہ لگانے کی روایت ختم ہو۔

پہلے کی طرح ہر میٹر مالک کے پاس ریٹنگ چارٹ ہو۔ چور صارف ہو یا واپڈا اہلکار سب کے لئے کڑی سزا اور اس پر عمل درآمد کا قانون، یہ سب کچھ ممکن ہے۔ اگر میاں صاحبان نے اقتدار کو عزت کے ساتھ بحال رکھنا ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا لائحہ عمل ہے ۔ دوسری صورت میں پھر وہ وقت قبل ازوقت آجاتا ہے جب تخت گرتے ہیں اور تاج اچھلتے ہیں۔