ناروے میں حکومت سازی کے مذاکرات
- ہفتہ 14 / ستمبر / 2013
- 4563
ناروے کا کوئی بھی سیاسی مبصر یہ پیشین گوئی کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی چار قدامت پسند پارٹیوں میں حکومت سازی کے بارے میں کسی قسم کا معاہدہ ممکن ہے اور ملک کی آئندہ حکومت میں کون کون سی پارٹی شامل ہو گی۔ چند روز کے اندر جیتنے والی چاروں پارٹیاں ہائرے، فریم اسکرتس پارٹی، کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے سوال پر مذاکرات شروع ہوں گے۔
چاروں پارٹیوں کے لیڈروں نے ابتدائی بات چیت کی ہے اور وہ اب اگلے مرحلے میں اختلافی معاملات کو زیربحث لا کر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔ نئی حکومت کو 15 اکتوبر تک ملک کا قتدار سنبھالنا ہے۔ اس لئے ان پارٹیوں کے پاس بات چیت کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے کیلئے چار ہفتے کا وقت موجود ہے۔ ان پارٹیوں کی قیادت کی طرف سے مذاکرات کی نوعیت اور مطالبات کی فہرست کے حوالے سے کوئی بات کہنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ بظاہر سب لیڈر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ہم کھلے دل و دماغ سے بات چیت میں شامل ہوں گے۔ اس لئے قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں ہے۔
اس اسٹرٹیجک مؤقف کے باوجود ہر پارٹی کا اپنا ایجنڈا اور مختلف معاملات پر بعض ریڈ لائنز ہیں۔ اس لئے سب مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مذاکرات انتہائی مشکل ہوں گے۔ ملک کی نامزد وزیراعظم اور سب سے بڑی پارٹی ہائرے کی لیڈر ارنا سولبرگ کو باقی تین پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں خاصی سیاسی مہارت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
کل اوسلو کے قریب نئے پارلیمانی گروپ کے اجلاس کے بعد ارناسولبرگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نئی ستورتنگ میں قدامت پسند پارٹیوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ ہائرے، فریم اسکرتس پارٹی، کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے کو 169کے ایوان میں 96 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم ان پارٹیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں دو چھوٹی پارٹیوں یعنی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے فریم اسکرتس پارٹی کے بارے میں گہرے تحفظات رکھتی ہیں۔
ارنا سولبرگ نے کل میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ چاروں قدامت پسند پارٹیاں اپنے ووٹروں سے تبدیلی کا وعدہ کر چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں حکومت لازمی تبدیل ہو گی۔ کسی بھی قدامت پسند پارٹی کے پاس ارنا سولبرگ کو بطور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تاہم اس بار فریم اسکرتس پارٹی پہلی بار حکومت سازی کے عمل میں شامل ہو گی۔ پارٹی کی لیڈر سیوینس یہ واضح کرتی رہی ہیں کہ اگر انہیں حکومت میں شامل نہ کیا گیا تو وہ کسی ایسی حکومت کا ساتھ نہیں دیں گی۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اس رویہ کو نرم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم انتخابات میں ساڑھے سولہ فیصد ووٹ لینے کے بعد اب ان کے حوصلے جوان ہیں اور وہ حکومت میں شمولیت کیلئے پرعزم ہیں۔
انتخابات کی رات کو نتائج سامنے آنے کے بعد پارٹی کارکنوں سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اب ہم حکومت کا حصہ بنیں گے۔ اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ حکومت سازی کے مذاکرات مشکل ہوں گے۔ فریم اسکرتس پارٹی صرف اپنی ہی بات نہیں منوا سکتی بلکہ اسے عوام کا اعتماد لے کر آنے والی دوسری پارٹیوں کا احترام بھی کرنا پڑے گا۔ انتخابات کے بعد سے فریم اسکرتس پارٹی کی طرف سے معتدل اور متوازن طرز عمل اختیار کیا گیا ہے۔ وہ بعض معاملات پر دوسری چھوٹی دو پارٹیوں کے ساتھ اتفاق رائے کرنے پر آمادگی کا اظہار کر رہی ہے۔
کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے کی طرف سے اگرچہ یہ اقرار تو کیا جا رہا ہے کہ وہ قدامت پسند بلاک کی حکومت کی حمایت ہی کریں گے کیونکہ یہی وعدہ کر کے انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ ریڈ گرین بلاک یا آربائیدو پارٹی کی مخالفت میں بھی یہ دونوں چھوٹی پارٹیاں پرجوش ہیں اور سمجھتی ہیں کہ سابقہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں تبدیل ہونا بہت ضروری ہے۔ لیکن فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ ایک ہی حکومت میں بیٹھنے کے سوال پر یہ دونوں جماعتیں بہت زیادہ گرم جوش نہیں ہیں۔
کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے نے انتخابی مہم کے دوران یہ بات بھی طےکی تھی کہ ہائرے کے ساتھ ان دونوں پارٹیوں کی اتحادی حکومت قائم کی جائے جسے فریم اسکرتس پارٹی کی حمایت حاصل ہو۔ اگرچہ فریم اسکرتس پارٹی کی سربراہ اس امکان کو اب قطعی طور سے مسترد نہیں کرتیں لیکن یہ کسی طرح بھی اس کے لئے خوش آئند صورت حال نہیں ہو گی۔ 40 سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد اس پارٹی کو پہلی بار حکومت میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے اور وہ کسی قیمت پر اسے گنوانا نہیں چاہتی۔ تاہم مذاکرات کے دوران یہ واضح ہو گا کہ اقتدار میں شامل ہونے کی وہ کیا سیاسی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔
80 اور 90 کی دہائی میں جب فریم اسکرتس پارٹی مقبولیت میں اضافہ کر رہی تھی تو اسے عام طور سے ایک پاپولسٹ اور غیرسنجیدہ پارٹی کے طورپر دیکھا جاتا تھا۔ نارویجئن سیاست میں سنٹر کی سیاسی پارٹیاں اس کے ساتھ سیاسی تعاون کو یکسر مسترد کرتی تھیں۔ اب یہ صورت حال کسی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ اب کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے حکومت سازی کے مذاکرات میں فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ مذاکرات کریں گی۔ البتہ وہ کس حد تک اس تعاون کو عملی شکل دے سکتی ہیں اس کا جواب آنے والے چند ہفتوں میں ہی سامنے آ سکے گا۔
ہائرے کی لیڈر ارناسولبرگ کی خواہش ہے کہ آئندہ حکومت میں چاروں پارٹیاں شامل ہوں اور ایک ایسی مشترکہ پالیسی پر اتفاق کر لیا جائے جس کی بنیاد پر آئندہ 4 برس اطمینان سے حکومت کی جا سکے۔ اور 2017 کا انتخاب جیتنے کیلئے بھی راہ ہموار ہو سکے۔ اسی لئے انہوں نے گزشتہ روز چھوٹی دو پارٹیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت میں شامل ہو کر ہی اپنے منشور کے مطابق زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتی ہیں۔
اس دوران کرسچن ڈیموکریٹک کے 24سابقہ ارکان پارلیمنٹ اور وزیروں نے ایک کھلے خط میں پارٹی قیادت کو فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ اگرچہ وینسترے پارٹی کے سینئر اراکین کی طرف سے اس قسم کی مہم سازی فی الوقت سامنے نہیں آئی ہے لیکن یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اس پارٹی کے بعض بااثر لوگ بھی فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ ایک ہی حکومت میں بیٹھنے کے بارے میں بہت پرامید نہیں ہیں۔ بعض رہنمائوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت سے باہر رہ کر ہی ہائرے اور فریم اسکرتس پارٹی کی حکومت کی حمایت کرنے کو ترجیح دے۔
ہائرے اگرچہ سب پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن اگر اسے مختلف پارٹیوں میں حتمی اتحاد کیلئے چنائو کرنا پڑا تو اغلب امکان یہ ہے کہ وہ فریم اسکرتس پارٹی کو ساتھ ملانا پسند کرے گی۔ ایک تو فریم اسکرتس پارٹی اس بلاک کی دوسری بڑی پارٹی ہے۔ دوسرے متعدد اقتصادی اور ماحولیاتی معاملات پر ان دونوں پارٹیوں کے خیالات یکساں ہیں او ر اشتراک کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ہائرے ماضی میں روایتی طورپر کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور وینسترے کے ساتھ مل کر حکومت چلاتی رہی ہے لیکن اس بار سیاسی صورت حال مختلف ہے۔ اقتدار میں آنے کیلئے بے چین فریم اسکرتس پارٹی کو اگر حکومت میں شامل نہ کیا گیا تو وہ نئی حکومت کیلئے زیادہ مشکلات کا سبب بنے گی۔ کیونکہ ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے بہرحال اس کا تعاون ضروری ہو گا۔
اگرچہ موجودہ سیاسی صورت حال میں ہائرے اور فریم اسکرتس پارٹی کو صرف ایک پارٹی یعنی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی یا وینسترے پارٹے کے تعاون سے اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ان دونوں چھوٹی پارٹیوں میں سے ایک حکومت میں تن تنہا شامل ہو جائے گی۔ یہ دونوں پارٹیاں باہمی طور پر اس بات سے متفق ہیں کہ حکومت میں شمولیت کے سوال پر وہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریںگی۔ اس لئے اگر چار قدامت پسند پارٹیوں پر مشتمل اتحاد کی حکومت نہ بنی تو ہائرے غالباً صرف فریم اسکرتس پارٹی کے ساتھ مل کر اقلیتی حکومت بنانے پر مجبور ہو گی۔ اس حکومت کو انتخابی وعدے کے مطابق کرسچن ڈیموکریٹک اور وینسترے کے حمایت حاصل ہو گی۔
اگرچہ ہائرے کے نمائندے یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ صورت حال پیدا ہوئی تو بھی ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی جو 2017 تک برسراقتدار رہے گی اور آئندہ انتخاب جیتنے کیلئے بھی راہ ہموار کرنے کے قابل ہو گی۔ تاہم غیر جانبدار مبصر اس بارے میں اس قدر اعتماد اور یقین سے کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کبھی بھی مکمل طور سے طاقتور نہیں ہو سکتی۔ اسے ہر مرحلہ پر مختلف معاملات پر دوسری پارٹیوں کے تعاون کی ضرورت رہے گی۔ بعض صورتوں میں یہ تعاون اپوزیشن پارٹیوں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح اقلیتی حکومت کی حمایت کرنے والی پارٹیوں میں مایوسی پیدا ہونا فطری امر ہوتی ہے۔
یوں بھی دو برس بعد بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات میں پارٹیوں کو ایک بار پھر اپنی مقبولیت کا اندازہ ہو گا۔ اگرچہ یہ انتخابات کمیونوں کیلئے ہوتے ہیں لیکن یہ ستورتنگ میں بھی سیاسی پارٹیوں کے رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں مقبولیت کی نئی شرح کے حوالے سے پوزیشن اختیار کرنا پڑتی ہے۔
ناروے میں حکومت سازی کے لئے سرگرمی سے سیاسی عمل شروع ہو چکا ہے۔ آئندہ چند ہفتے قیاس آرائیوں اور تبصروں میں صرف ہوں گے۔ اکتوبر کے وسط تک یہ واضح ہو سکے گا کہ ملک میں کس قسم کی حکومت برسراقتدار آ رہی ہے اور لوگوں کی انفرادی معیشت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔