تصوّف کیا ہے (4)
- بدھ 18 / ستمبر / 2013
- 10986
تصوف کے سکول
تصوف کے نصاب کے ضمن میں عرض کیا گیا تھا کہ تصوف کی تعلیم مجاہدہ ء نفس کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے ، مگر کہاں ؟
تصّوف کے مختلف سکولوں میں ۔
مگر مختلف سکول کیوں جب کہ راستہ ایک ہے ۔
جی ہاں راستہ تو ایک ہی ہے جیسا کہ زرتشت نے اپنی " ژند اوستا " میں بھی لکھا ہے کہ :
" در جہاں راہ یکی ست و آن راہِ راستی ست " ۔
کہ دنیا میں راستہ ایک ہی ہے اور وہ راستہ راستی کا راستہ ہے ۔
جی ہاں راستہ تو اک ہے مگر سواریاں جُدا جُدا ہیں ۔ کوئی پیدل چل رہا ہے ، کوئی گھوڑے ، گدھے یا خچر پر سوار ہے ۔ کسی نے بیل گاڑی بُک کروائی ہے ، کوئی رکشے میں ہے ، کوئی کار میں ، کوئی بحری راستے سے جا رہا ہے اور کوئی طیّارے میں پرواز کر رہا ہے ۔ مگر جانا سب نے ایک ہی سمت ہے ۔ قدیم چینی مذہب تاؤ مت میں کہا گیا ہے کہ :" خُدا کے گھر کو بہتر راستے جاتے ہیں " ، اور یہ سُن کر میں اسلام کی ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے بہتر فرقوں کی از سرِ نو تدوین کرکے چشمِ تصور میں انہیں ایک ہی راستے کے مسافر سمجھنے لگتا ہوں ۔ اے کاش ۔ ۔ ۔
جی ، تو تصّوف کے یہ سارے سکول ہر طالبِ راہ کو ، ایک ہی ایڈریس بتاتے ہیں ، جہاں اُس نے پہنچنا ہے۔ خالقِ کائنات کا ایڈریس ۔ اللہ کا ایڈریس کیا ہے ؟ حبل الورید ۔ یعنی شہ رگ جس کے نواح میں اُس کے ہونے کا نشان ملتا ہے ۔ مگر سفر بڑا طویل ہے ۔ اس سفر کے لیے روڈ میپ سکول مہیا کرتا ہے اور راستے کی معلومات بھی دیتا ہے ۔
تصوّف کے ان سکولوں میں نقشبندیہ ، چشتیہ ، قادریہ ، سہروردیہ ، اویسیہ اور فاضلیہ سمیت ایک طویل فہرست ہے جس کی تفصیل ایک الگ کتاب کا موضوع ہے ۔ یہ سارے سکول مجاہدہ ء نفس سکھاتے ہیں ۔ اور یہ کام ایک رہنما مرشد کی زیرِ نگرانی ہوتا ہے۔ مگر اب نہ کوئی باقی باللہ ہے نہ مجدّد الف ثانی ، نہ کوئی سرمد ہے اور نہ کوئی بو علی قلندر ۔ ان میں سے بیشتر سکول تعویذ گنڈے بیچنے والوں، پیری مریدی کا دھندا کرنے والوں اور جعلسازوں کے اڈّے بن گئے ہیں ۔ مزاروں کا جو حال ہے اُن کے بارے میں اقبال سے زیادہ کس کی رائے صائب ہو سکتی ہے ۔ فرماتے ہیں:
قم باذن اللہ کہ سکتے تھے جو ، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن
اور پھر مجاہدہ ء نفس سیکھنے کون آتا ہے ؟ لوگ تو اپنی منتیں منوانے ، اپنی مرادیں پوری کروانے اور دنیاوی فائدوں کے لیے مزاروں ، درگاہوں اور پیر خانوں کا رُخ کرتے ہیں ۔ لیکن اِس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ آج کی دنیا اولیاء اللہ سے خالی ہے ۔ نہیں ، وہ موجود ہیں اور اصحابِ کہف کی طرح پردے میں ہیں ۔
میں نے لاہور میں جن بزرگوں کی درس گاہ میں مجاہدہ ء نفس کے مدارج اور چلہ کشی کے طرقیوں کی تفصیل سُنی ، وہ بابا فضل شاہ قادری فاضلی نور والے تھے ۔ آپ دھرمپورہ میں حضرت میاں میر علیہ رحمت کے مزار سے دو سو گز کے فاصلے پر ایک بے ترتیب سے باغیچے میں مقیم تھے ۔ یہ ڈیرہ نُور والوں کے ڈیرے سے موسوم تھا ، جہاں لاہور کے بیشتر اعلی تعلیم یافتہ ، روشن خیال اور ترقی پسند دانشور باقاعدہ حاضری دیا کرتے تھے ۔
اِن حضرات میں حنیف رامے ، صفدر میر ، اکمل علیمی ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ، مولانا احمد سعید کاظمی اور اشفاق احمد صاحب جیسے صاحبانِ فہم و فراست کے نام آتے ہیں ۔
ملک واصف علی واصف کا ذکر میں دو وجوہات سے نہیں کروں گا ۔ پہلے یہ کہ وہ لاہور انگلش کالج کے ، جو پرانی انارکلی میں واقع ایک ٹیوشن سینٹر تھا ، مہتمم بلکہ مالک تھے اور میں وہاں پڑھاتا تھا ۔ ہمارا تعلق مالک اور ملازم کا تھا ۔ وہ اپنے ہاں کام کرنے والوں سے فاصلہ رکھتے تھے اور اپنے دفتر میں بیٹھ کر سگریٹ پیتے رہتے اور اپنے گرد گرد جمع تصوف پسندوں سے محو گفتگو رہتے ۔
میں اور ابراہیم خٹک جو اس سینٹر کے اساتذہ تھے ، اُن کو دور دور سے ہی دیکھا کرتے تھے ۔ دوسرا اس لیے بھی کہ مالک اور ملازمین کے تعلقات نہ تو خوشگوار تھے اور نہ ہی واصف صاحب کی عالی ظرفی نے کبھی ہمیں اس قابل سمجھا کہ اپنی محفلِ تصوف میں بیٹھنے کی اجازت مرحمت فرماتے ۔ اُن کو جس حد تک قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، وہ کسی طرح سے بھی بابا فضل شاہ سے لائقِ موازنہ نہیں ٹھہرتے ، کیونکہ وہ صوفی سے زیادہ بیوروکریٹ نظر آتے تھے ۔
بابا فضل شاہ علیہ رحمت کے ہاں علمِ تصوف جیومیٹری کی ایک تکون ہے جس کے تین ضلعے ہیں ، جو حسب ذیل ہیں:
1۔ قول
2۔ عمل
3 ۔علم
فرماتے تھے قول ، نظریہ یا تھیوری ہے ، جس پر عمل کرنے سے علم حاصل ہوتا ہے اور جب اس علم پر خلوص سے قائم رہ کر استقامت حاصل کر لی جائے تو عمل کو آنکھ عطا ہو جاتی ہے ۔
آپ کی تاکید تھی کہ صاحبو ، قول سچّا ہوتا ہے نہ جھوٹا ، وہ عمل کی گواہی سے سچّا یا جھوٹا قرار پاتا ہے ، خواہ قرآن ہی کیوں نہ ہو ۔
مثلاً ، اگر قرآن میں لکھا ہے : لعنت اللہ علی الکاذبین ۔ جھوٹ بولنے والے پر اللہ تعالی لعنت بھیجتے ہیں اور اس بات کو جاننے کے باوجود کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ عملاً قرآن کی تردید کرتا ہے اور ایسی تردید کفر ہے۔ سو آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بات کسی میں موجود نہ ہو وہ اگراس بات کو زبانی بیان کرے گا تو جھوٹ بولے گا ۔ سو قول دعوا ہے اور عمل ثبوت اور ثبوت کے بغیر دعوا قابلِ قبول نہیں ہوتا ۔
لہذا ، تصوف کا طالب علم تمام فطری علوم کا محض نظریاتی مطالعہ ہی نہیں کرتا بلکہ وہ حصولِ علم کو حق تعالی سے محبت کی بنیادی شرط سمجھ کر کتابِ کائنات کو پڑھتا ہے ، جس کا ایک حرف وہ خود بھی ہے ۔ وہ پوری لگن سے اعدادی قوت سے تعمیر کی ہوئی اور ترتیب دی گئی ، نقائص سے پاک کائنات کے اسرارورموز سے آگاہی حاصل کرتا ہے ۔
سمندروں کی گہرائیوں ، آگ کی بے حساب قوتّوں ، اجسام ، اجرام اور اشیاء کا مطالعہ خالق و مالکِ حقیقی کی بے پناہ مہارت اور بے حد و حساب حکمت و دانش کا قرارِ واقعی ثبوت ہے ۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ رب تعالی سے دعا فرمایا کرتے تھَے کہ اُنھیں اشیا کا علم دیا جائے ۔ اقبال نے اسی نکتے کو اس طرح بیان کیا ہے :
ولایت ، پادشاہی ، علم اشیاء کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط اِک نقطہ ء ایماں کی تفسیریں
کائنات یونیورسٹی کی ببلیوتیک میں جن علوم کا ریکارڈ موجود ہے اُن میں ایک بہت ہی غیرمعمولی نوعیت کا علم ہے جسے ہم موسیقی کہتے ہیں ۔ اس علم کے اسرارو رموز اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خالقِ کائنات موسیقاروں کا وہ سرتاج فن کار ہے جس نے اشیاء و مظاہر کو زندگی کی واحد سمفنی میں پرو دیا ہے اور اُس کا مرتب کیا ہوا نغمہ ء کائنات ، محبت ، حکمت ، تدبر اور نظم و نسق کے میٹھی سروں کا مہا راگ ہے ۔
ہر چند کہ بعض علمائے شریعت نے موسیقی کو ممنوعہ علوم میں شمار کیا ہے مگر اس علم کی افادیت مسلم ہے۔
اِمام ابنِ کثیر "قصص الانبیاء" میں لحنِ داؤدی کے عنوان تلے رقم طراز ہیں کہ داؤد علیہ السلام کی آواز بے مثال تھی ۔ آپ کے ترنم اور سوز و گداز سے فضاؤں میں اُڑتے پرندے اپنی پرواز موقوف کر کے آپ کے ساتھ شاملِ تسبیح ہو جاتے ۔ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ محوِ تسبیح ہوتے ۔
زبور کو ایسی بے مثل لے کے ساتھ تلاوت فرماتے کہ اسکے ترنم کو سن کر جن و انس، پرندے اور چوپائے کھڑے ہو جاتے ، یہاں تک کہ بعض بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ۔
سورہء اسرا میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
"واتینا دائود زبورا" اور داؤد کو زبور عطا فرمائی ۔
عہد نامہ عتیق میں "مزمور میر مُغنّی " کی آیات اس علم و حسنِ موسیقی کے حق میں ایک بہت بڑی گواہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کے قادری ، چشتی اور مولوی سکول سماع کو عرفان کے لیے بمنزلہ سواری کے گردانتے ہیں ۔
اب ہم سکولوں کے بیان سے صرفِ نظر کر کے واپس اپنے اصل موضوع یعنی مجاہدہ ء نفس کی طرف آتے ہیں۔ اور میں ایک بار پھر یاد دہانی کے طور پر عرض کر رہا ہوں کہ تصّوف فکری یکسوئی کے ساتھ اللہ رب العالمین سے محبّت اور اُس کے وضع کردہ صداقت ، دیانت اور راستبازی کے اصولوں کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے ، جس پر چل کر خواہشِ نفس کی تراشی ہوئی تاویلوں اور موشگافیوں سے جو کفر اور شرک ہوتی ہیں ، محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔
زندگی ، سچ اور جھوٹ ، محبت اور نفرت ، ظلم اور رحمدلی ، انصاف اور بے انصافی ، ایمان اور بے ایمانی ، کرپشن اور شفافیت کا میدانِ جنگ ہے ۔ ایسے میں ہر آزاد اور بالغ شعور کے حامل فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ میں سچ ، محبت ،رحمدلی ، انصاف ، ایمان اور شفافیت کا ساتھ دے اور اس طرح وہ حقیقی انسانی مرتبے کے حامل لوگوں کے گروہ میں شریک ہو ۔
ہم عصر صوفی فکر نوعیت کے اعتبار سے آفاقی ہے جو اسلام کے ماننے والوں کے لیے ایک تاریخی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ، جس کی بنیاد پر عالمی معاشرتی ارتقا کے ذریعے ایک اعلی ترین متقی معاشرت وجود میں لائی جا سکتی ہے ۔
اس وقت دہشت گردی ، لاقانونیت اور نا انصافی کا عفریت پاکستانی قوم کا خُون چوس رہا ہے اور اس ملک کی ایسٹیبلشمینٹ نے اپنے مادرِ وطن یعنی اپنی مِٹّی ماں کو بین الاقوامی اقتصادی اور استحصالی چکلے میں بٹھا رکھا ہے اور دنیا کی بے غیرت ترین سپر پاور اور اُس کے حلیفوں کے ہاتھوں اُس کی آبرو ریزی کرا کر اُس کی کمائی کھائی جا رہی ہے ۔ ایسے میں جلال الدین رومی کی پکار سنائی دیتی ہے :
دستِ ہر نا اہل بیمارت کند
سوئے مادر آ کہ تیمارت کند
اور وہ ماں کون ہے جو عالمِ اسلام کےمردِ بیمار کی تیمار داری کرے ؟ یہ ماں صوفی شعور ہے ۔
صوفی شعور ایک عام فقہی اور شرعی شعور سے قطعاً مُختلف ہوتا ہے ۔ کوئ شخص اہلِ تصوف میں سے ہو کر شیعہ ، سُنّی، وہابی یا اہلِ حدیث نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ سچ کے تجربے نہیں کرتا ۔ صدق و صفا کوئی ایسی راہ نہیں جو تلذذ یا تکلف سے منسلک ہو یا وہ فرقوں سے شناخت پا سکے ۔ صوفی شعور ایک ایسا شعور ہے جو بلا خوف و خطر ارتقا کی سیڑھیاں چڑھتا ہے ۔ وہ کسی فرقے کی تنگ نظری کا شکار نہیں ہوتا ۔ وہ صاحبِ حال کا فعال حال ہوتا ہے ۔ اُس صاحبِ حال کا ، جس کا ظاہر باطن ایک ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بُلھے شاہ فرماتے ہیں:
نہ ہم سُنّی ، نہ ہم شیعہ
صلح کُل کا مارگ لیا
(جاری ہے)