حکومت سازی کا مشکل مرحلہ
- جمعرات 19 / ستمبر / 2013
- 5032
اوسلو کے ایک ہوٹل میں ناروے کی چار سیاسی پارٹیوں کے رہنما ملک کی آئندہ حکومت کے لئے ابتدائی بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات چیت ویک اینڈ تک جاری رہے گی۔ تاہم فتح یاب قدامت پسند بلاک کی سب سے بڑی پارٹی ہائرے کی لیڈر ارنا سولبرگ ابھی تک صرف یہ اعلان کر سکی ہیں کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ ناروے کا آئندہ وزیراعظم کون ہو گا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسکراتے ہوئے استہزائیہ انداز میں یہ بھی بتایا کہ اگر کسی کو آئندہ وزیراعظم کے بارے میں علم نہیں تو میں یہ بتا دیتی ہوں کہ اس کا نام ارنا سولبرگ ہے۔ اگرچہ یہ بات کسی حد تک مذاق میں کی گئی ہے لیکن مذاکرات سے جو اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ان سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ابھی تک چاروں پارٹیاں مدمقابل کو سمجھنے یا دوسرے لفظوں میں اس کی کمزوری اور قوت کا اندازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یوں بھی موجودہ مذاکرات کو ابتدائی بات چیت کا درجہ دیا گیا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت چاروں سیاسی رہنما ان بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر آئندہ حکومت کا ڈھانچہ استوار ہو سکے گا۔ یعنی ابھی اصولی اور نظریاتی گفتگو ہو رہی ہے۔ اگر اس مرحلہ پر یہ اتفاق رائے ہو گیا کہ چاروں پارٹیوں میں کوئی وسیع خلیج حائل نہیں ہے تو حکومت کے اعلان نامے پر کام شروع ہو گا۔ اس مرحلہ پر یہ فیصلہ ہو سکے گا کہ کس پارٹی کا کون سا سیاسی مؤقف تسلیم کیا جائے اور آئندہ حکومت کی پالیسی میں اسے شامل کر لیا جائے۔
یہ ابتدائی مذاکرات شروع ہونے سے قبل جو بات سہل لگ رہی تھی اسے ہائرے کی لیڈر ارنا سولبرگ نے خود ہی سب سے مشکل قرار دیا تھا۔ فریم اسکرتس پارٹی اور ہائرے بحر شمالی میں تیل کی تلاش کے نئے مقامات پر کام کرنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ وینسترے اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اس قسم کے اقدام کے خلاف ہیں۔ ان کے لئے یہ اقدام ماحولیاتی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے۔ فریم اسکرتس پارٹی کی سربراہ نے مذاکرات سے قبل یہ اشارہ دیا تھا کہ ان کی پارٹی کے لئے دونوں چھوٹی پارٹیوں کے اس مطالبہ کو مان لینا مشکل نہیں ہو گا۔
اس پر ہائرے کی ارناسولبرگ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریم اسکرتس پارٹی کو مذاکرات کے دوران اختیار کی جانے والی پوزیشن پر مؤقف ابھی سے سامنے نہیں لانا چاہئے۔ اگرچہ ان کا یہ نقطہء نظر بظاہر اصولی تھا لیکن یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ ہائرے نئے مقامات پر تیل تلاش کرنے کے سوال پر بہت زیادہ سیاسی سودے بازی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ناروے کے عام انتخابات کے بعد متعدد خبروں اور تبصروں میں یورپی ملکوں میں فریم اسکرتس پارٹی کے حوالے سے منفی تصویر کشی بھی کی جا تی رہی ہے۔ ان تبصروں کے مطابق یہ پارٹی دائیں بازو کی انتہاپسند پاپولسٹ پارٹی ہے اور تارکین وطن اور اسلام سمیت دیگر عقائد کے بارے میں اس کے لیڈر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے رہے ہیں۔ مجوزہ وزیراعظم ارناسولبرگ اس حوالے سے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی سیاسی جماعتیں باہم مذاکرات کر رہی ہیں اس لئے ان کے لئے مناسب نہیں ہو گا کہ وہ میڈیا کو یہ بتائیں کہ ان مذاکرات کی نوعیت کیا ہے۔
تاہم انتہاپسندانہ رویہ کے حوالے سے سامنے آنے والے تبصروں کے باعث بدھ کو فریم اسکرتس پارٹی کو ایک پریس کانفرنس منعقد کرنی پڑی۔ اس پریس کانفرنس میں خاص طور سے غیر ملکی صحافیوں کو مدعو کیاگیا تھا۔ پارٹی کے نائب لیڈر شیتل سولوک اولسن Ketil Solvik Olsen نے پارٹی لیڈروں کی طرف سے استعمال کئے جانے والے بعض الفاظ پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا۔ ان میں خاص طور سے پارٹی لیڈر کا ایک لفظ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پارٹی لیڈر سویننس نے 2009 میں ملک میں مسلمانوں کے اثرونفوذ کا ذکر کرتے ہوئے ’’چور دروازے سے اسلامائزیشن‘‘ یعنی Snik Islamisering کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ملک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بعض قواعد و ضوابط میں اس قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن سے نارویجئن طریقہ زندگی اور ثقافت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
اب یہ پارٹی انسانی اقدار کی بات کرنے والی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور سیاسی پناہ اور امیگریشن میں نرمی کروانے کی دعویدار وینسترے کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کے لئے مذاکرات کر رہی ہے۔ یورپی میڈیا فریم اسکرتس پارٹی کو انتہاپسند قرار دے رہا ہے۔ یہ صورت حال ہائرے اور فریم اسکرتس پارٹی دونوں کے لئے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔ ہائرے کی لیڈر کو مذاکرات کے بعد نئی حکومت کا چارٹر پیش کرتے ہوئے یہ باور کروانا پڑے گا کہ فریم اسکرتس پارٹی کے انتہاپسندانہ خیالات سیاسی بیان بازی کی حد تک رہیں گے اور نئی حکومت ان پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہو گی۔
اس دوران فریم اسکرتس پارٹی کے بعض سیاستدان یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پارٹی امیگریشن کے حوالے سے حکومت کی پالیسی پر واضح طور پر اثرانداز نہ ہو سکی تو یہ ان کے لئے قابل قبول صورت حال نہیں ہو گی۔ نئی حکومت بنانے کے ابتدائی مذاکرات کے حوالے سے یہ سارے عوامل اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ باہم گفتگو میں مشغول رہنمائوں کو حقیقی چیلنج کا سامنا ہے۔ ان سب کے لئے کسی ایسی دستاویز پر متفق ہونا نہایت دشوار ہو گا جسے ہر پارٹی اپنی کامیابی قرار دے سکے۔ مخالفین اور میڈیا فوری طور پر یہ بتانا شروع کر دے گا کہ کس پارٹی کو اپنے سیاسی وعدوں پر کتنی مفاہمت کرنا پڑی ہے۔ چاروں لیڈر فی الوقت یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس حد تک کس موضوع پر اپنا مؤقف اور کن لفظوں میں اسے بیان کر کے اپنا طریقہ دوسروں سے قبول کروایا جا سکتا ہے۔
نئی حکومت 15اکتوبر کو منظر عام پر آئے گی۔ ان رہنمائوں کے پاس تین ہفتے کے لگ بھگ وقت موجود ہے۔ لیکن اس قلیل مدت میں انہیں ایک دشوار گزار سفر کرنا ہے۔ اس سفر میں کوئی ساتھی پیچھے بھی رہ سکتا ہے۔