تصوف کیا ہے (5)
- ہفتہ 21 / ستمبر / 2013
- 5631
تصوّف اور سیاست
اب آپ کہیں گے کہ تصوف میں سیاست کہاں سے در آئی؟ جی ہاں ، معقول اوربر محل اعتراض ہے ؟ مگر تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ اہلِ تصوف نے ، جو اُس وقت اہلِ تصوف کے نام سے شناخت نہیں کیے جاتے تھے ، تصوف کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے ۔ چانچہ جس شخص نے خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قمیض کے بارے میں سوال کیا تھا کہ یہ کہاں سے آئی ، تو حق گوئی کا یہ اشارہ اُسی احتسابی اصول کی دین تھا ، جس نے صداقت ، امانتداری اخوت ، سماجی انصاف اور مساوات کی بنیاد رکھی تھی ۔
آج جب ہم انسانی حقوق کو جدید مغربی طرزِ فکر کا کنٹری بیوشن سمجھتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ حقوق کے ضمن میں اسلام نے حقوق کو دو درجوں میں تقسیم کیا ہے:
1۔ حقوق اللہ ، جن کے تحت اللہ کی عائد کردہ حدوں کی پاسداری کی جاتی ہے ۔
2۔ حقوق العباد ، جو انسانی حقوق ہیں جن کا درجہ حقوق اللہ سے بھی بلند ہے ۔
حقوق العباد کی تفصیل میں جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جس پر نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسّلم نے نظر نہیں رکھی ۔ ہمسائے کے حقوق ، رشتہ داروں کے حقوق ، یتیموں کے حقوق ، مسکینوں کے حقوق اور مسافروں تک کے حقوق کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔
کیا انسانی حقوق کے چارٹر میں ایسی کوئی شق ہے جس میں کہا گیا ہو کہ "خُدا کی قسم وہ انسان نہ ہوگا جس نے خود کھا لیا اور آس کا ہمسایہ بھوکا رہ گیا۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ قرآن کے سوا کس بین الاقوامی منشور میں یہ بات کہی گئی ہے کہ تم ضرورت کی چیزیں ایک دوسرے کو کیوں نہیں دیتے ۔ یہ سورہ ماعون کا متن ہے :
" تم نے دیکھا ، اُس شخص کوجو روزِ جزا کو جھٹلاتا ہے ۔ وہی تو یتیم کو دھکے دیتا ہے ، اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اُکساتا ۔ پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے جو نماز سے غفلت برتتے ہیں اور ضرورت کی معمولی چیزیں دوسروں کو دینے سے گریز کرتے ہیں ۔" (ترجمہ ابوالاعلی)
اب سوال یہ ہے کہ ان حقوق کی ادائیگی ہو رہی ہے یا نہیں ۔ جب جواب نہ میں ہو تو اہلِ تصوف، حکومتِ وقت کی اُن غلط پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو معاشرے میں مساوات ، سماجی انصاف اور معاشی توازن کی نفی کرتی ہوں ۔ چنانچہ صوفی فکر کی بنا پر احتسابی تنقید کا آغاز ، بہت کھُل کر ، خلیفہء ثالث حضرت عثمان رضی اللہ کے زمانے میں ہوا ۔ تاریخ الخلفا ء کے فاضل مصنف جلال الدین سیوطی رقمطراز ہیں:
" حضرت عثمان رضی اللہ تختِ خلافت پر متمکن ہوتے ہی قریش پر مہربانیاں کرنے لگے ۔ اُن کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور سزا دینے میں تاخیر سے کام لیا۔ لیکن چھ سال بعد اپنے رشتہ داروں کو گورنر بنایا ۔ عزیزوں کو نوازا ۔ افریقہ کے گورنر مروان کی مملکت کا خُمس معاف کردیا۔ اور اپنے رشتہ داروں کو بیت المال کی دولت سے نہال کردیا اور اس کا جواز یہ دیا کہ اللہ تعالی نے رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیا ہے ۔"
اِن پالیسیوں کے خلاف سب سے قوی آواز ایک تہی دست و دامن درویش ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ لوگ چونکہ اُن کی آواز سے متاثر ہوتے تھے ، اس لیے اُنہیں مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا اور وہ صحرا میں اس کسمپرسی کی حالت میں رحلت پا گئے کہ اُنہیں کفن تک میسر نہیں آیا ۔
اُن کے بعد دوسرے بڑے صوفی ، جنہیں میرے دوست مرحوم جون ایلیا مسیحِ بغداد کے نام سے یاد کرتے تھے، حسین بن منصور حلاج ہیں۔ جن کی حق گوئی کی بنا پر عوام میں اُن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ جان کر خلیفہ معتصم باللہ نے بغداد میں سولی پر چڑھا کر اُنہیں عبرت کا ایسا نشان بنایا کہ اُن کے جسم کے اعضا ایک ایک کر کے کاٹے گئے ۔
تیسرا معروف قتل خواجہ شہاب الدین سہروردی کا ہے جو فاتحِ یروشلم صلاح الدین ایوبی کے عتاب کا شکار ہوئے اور محض عقائد کے اختلاف کی بنا پر قتل ہوئے۔ کیونکہ وہ ایسے افکار کا پرچار کرتے تھے جو ایوبی سلطنت کے لیے خطرہ تھے ۔
چلتے چلتے ایک نقشبندی بزرگ کا ذکر کر دوں ، جنھیں قتل تو نہیں کیا گیا مگر مغل شہنشاہ جہانگیر کے حکم پر گوالیار کے قلعے کی جیل میں ڈال دیا گیا ۔ یہ بزرگ حضرت مجدد الف ثانی تھے۔ چوتھا قتل دہلی میں شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں صوفی سرمد کا ہوا جو اورنگ زیب کے بھائی دارا شکوہ کا دوست تھا۔
سرمد پر اعتراض یہ کیا گیا کہ وہ لا الہ کا ورد کرتا رہتا ہے اور الاللہ نہیں کہتا ۔ سرمد کا مقف یہ تھا کہ وہ ابھی نفی کی منزل میں ہے ۔ جب وہ نفی سے اثبات تک پہنچے گا تو الاللہ کی اقلیم میں داخل ہوگا ۔ مگر اورنگ زیب نے اس کے جواب کو رد کر دیا ۔
دوسرا اعتراض یہ تھا کہ سرمد واقعہء معراج کو دوسرے انداز میں پیش کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرش تک نہیں گئے ، بلکہ عرش اُن تک آیا تھا ۔
یہ اعتراضات تو محض بہانہ تھے ۔ اصل بات یہ تھی کہ اورنگ زیب سرمد کی غیر معمولی روحانی قوتوں سے خائف تھا۔ پھر اُسے دارا شکوہ سے سرمد کی دوستی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔ اُس نے نہ صرف سرمد کو قتل کیا بلکہ اپنے سارے بھائیوں کو بھی ہلاک کیا۔ بہنوئی کی اآکھیں نکلوائیں اور اپنے باپ شاہ جہان کو جیل میں ڈال دیا ۔
کیا یہ محولہ بالا اہلِ تصوف، اپنے اپنے زمانوں میں، ایسٹیبلشمینٹ کے لیے خطرہ تھے ؟
کس لیے؟
کیا وہ کسی بڑی سیاسسی قوت کے مالک تھے یا اپنے وقت کی کسی جماعت اسلامی ، جمعیت العلماء یا کسی منہاج القرآن قسم کے ادارے کے سربراہ تھے۔ نہیں بلکہ غریب اور تارک الدینا مگر صاحب علم درویش تھے۔ جو حکومتوں اور خلافتوں کو کرپشن اور بد عنوانی سے بچنے کی تعلیم فرمایا کرتے تھے ۔
صوفی چونکہ محبت سے اپنا پیغام پھیلاتا ہے اس لیے وہ ایسٹیلشمنٹ اور ایوانِ اقتدار کو ایک خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ صوفی اُن کے شاہانہ طرزِ زندگی کے خلاف لوگوں میں اپنے فلسفہ ء مساوات کا پرچار کر کے، عام آدمی کو اُس کا مخالف بنا سکتا ہے اور اس طرح ووٹ بنک پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔
ان حالات و واقعات اور افکار کی روشنی میں تصوف کی تاریخ کے مثبت پہلوئوں کو پیشِ نظر رکھا جائے تو پاکستانی معاشرت کو از سرِ نو منظم کرنے میں تصوف کے کلیدی رول سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
(جاری ہے)